عمر بن خطاب

اسلام کے دوسرے خلیفہ

ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔[4] عمر بن خطاب عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔[5] عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔

عُمر فاروق
بن الخطّاب
اسلامی خطاطی میں عمر بن خطاب کا نام اور لقب الفاروق اور آخر میں 'رَضی اللہُ تعالیٰ عنہ'
ولادت 583ء سنہ 40 ق ھ
مكہ، تہامہ، شبہ جزيرہ عرب
وفات یکم محرم الحرام [1]

24ھ[2][3]بمطابق 6 نومبر 644ء
مدينہ منورہ، حجاز، شبہ جزيرہ عرب

محترم در اسلام: اہل سنت و جماعت، اباضیہ، الدروز، زیدیہ شيعہ
مزار مسجد نبوی، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ابوبكر صديق رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کے برابر میں، مدينہ منورہ
نسب والد: الخطّاب بن نفیل بن عبد العزی
والدہ: حنتمہ بنت ہشام بن المغيرہ
أشقاؤہ: زيد بن الخطاب، فاطمہ بنت الخطاب
ازواج: قريبہ بنت ابی اميہ، ام كلثوم مليكہ بنت جرول، ام کلثوم بنت ابوبکر، زینب بنت مظعون، جميلہ بنت ثابت، عاتکہ بنت زید، ام کلثوم بنت علی، ام حکیم (1)
ذريت: عبيد اللہ، زيد الاكبر، زيد الاصغر، عبد اللہ، حفصہ، عبد الرحمن الاكبر، ابو شحمہ عبد الرحمن الاوسط، عبد الرحمن الاصغر، عاصم، عياض، فاطمہ، رقيہ۔

عمر بن خطاب ہجری تقویم کے بانی ہیں، ان کے دور خلافت میں عراق، مصر، لیبیا، سرزمین شام، ایران، خراسان، مشرقی اناطولیہ، جنوبی آرمینیا اور سجستان فتح ہو کر مملکت اسلامی میں شامل ہوئے اور اس کا رقبہ بائیس لاکھ اکاون ہزار اور تیس (22,51,030) مربع میل پر پھیل گیا۔ عمر بن خطاب ہی کے دور خلافت میں پہلی مرتبہ یروشلم فتح ہوا، اس طرح ساسانی سلطنت کا مکمل رقبہ اور بازنطینی سلطنت کا تقریباً تہائی حصہ اسلامی سلطنت کے زیر نگین آ گیا۔[6] عمر بن خطاب نے جس مہارت، شجاعت اور عسکری صلاحیت سے ساسانی سلطنت کی مکمل شہنشاہیت کو دو سال سے بھی کم عرصہ میں زیر کر لیا، نیز اپنی سلطنت و حدود سلطنت کا انتظام، رعایا کی جملہ ضروریات کی نگہداشت اور دیگر امور سلطنت کو جس خوش اسلوبی اور مہارت و ذمہ داری کے ساتھ نبھایا وہ ان کی عبقریت کی دلیل ہے۔[7]

نام ونسب

عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزّٰی بن ریاح بن عبد اللہ بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بن لوّیٰ بن فہربن مالک۔ جبکہ والدہ کا نام خنتمہ تھا جو عرب کے مشہور سردار ہشام بن مغیرہ کی بیٹی تھیں

آپ کا لقب فاروق، کنیت ابو حفص، لقب و کنیت دونوں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عطا کردہ ہیں۔ آپ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ عمر عدی کی اولاد میں سے ہیں۔[8] حضرت عمر کاخاندان ایام جاہلیت سے نہایت ممتاز تھا، آپ کے جدا علیٰ عدی عرب کے باہمی منازعات میں ثالث مقرر ہواکرتے تھے اورقریش کو کسی قبیلہ کے ساتھ کوئی ملکی معاملہ پیش آجاتا تو سفیر بن کر جایا کرتے تھے اور یہ دونوں منصب عدی کے خاندان میں نسلا بعد نسل چلے آ رہے تھے، ددھیال کی طرح عمرننھیال کی طرف سے بھی نہایت معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے، آپ کی والدہ ختمہ، ہاشم بن مغیرہ کی بیٹی تھیں اور مغیرہ اس درجہ کے آدمی تھے کہ جب قریش کسی قبیلہ سے نبرد آزمائی کے لیے جاتے تھے تو فوج کا اہتمام ان ہی کے متعلق ہوتا تھا۔ [9]

ابتدائی زندگی

عمرہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے چالیس برس پہلےپیدا ہوئے، ایام طفولیت کے حالات پردہ خفا میں ہیں؛بلکہ سن رشد کے حالات بھی بہت کم معلوم ہیں، شباب کا آغاز ہوا تو ان شریفانہ مشغلوں میں مشغول ہوئے جو شرفائے عرب میں عموماً رائج تھے، یعنی نسب دانی، سپہ گری، پہلوانی اور خطابت میں مہارت پیدا کی، خصوصاً شہسواری میں کمال حاصل کیا، اسی زمانہ میں انہوں نے لکھنا پڑھنا بھی سیکھ لیا تھا؛چنانچہ زمانہ جاہلیت میں جو لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے ان میں سے ایک عمربھی تھے۔ [10] تعلیم وتعلم سے فارغ ہونے کے بعد فکر معاش کی طرف متوجہ ہوئے، عرب میں لوگوں کا ذریعہ معاش زیادہ تر تجارت تھا، اس لیے انہوں نے بھی یہی شغل اختیار کیا اور اسی سلسلہ میں دور دور ممالک کا سفر کیا، اس سے آپ کو بڑے تجربے اور فوائد حاصل ہوئے، آپ کی خودداری بلند حوصلگی، تجربہ کاری اورمعاملہ فہمی اسی کا نتیجہ تھی اور ان ہی اوصاف کی بنا پر قریش نے آپ کو سفارت کے منصب پر مامور کردیاتھا، قبائل میں جب کوئی پیچیدگی پیدا ہوجاتی تھی تو آپ ہی سفیر بن کر جاتے تھے اور اپنے غیر معمولی فہم وتدبر اورتجربہ سے اس عقدہ کو حل کرتے تھے۔ [11] عمرکا ستائیسواں سال تھا کہ ریگستان عرب میں آفتاب اسلام روشن ہوا اور مکہ کی گھاٹیوں سے توحید کی صدا بلند ہوئی، عمرکے لیے یہ آواز نہایت نامانوس تھی اس لیے سخت برہم ہوئے، یہاں تک جس کی نسبت معلوم ہوجاتا کہ یہ مسلمان ہو گیا ہے اس کے دشمن بن جاتے، ان کے خاندان کی ایک کنیز بسینہ نامی مسلمان ہو گئی تھی، اس کو اتنا مارتے کہ مارتے مارتے تھک جاتے، بسینہ کے سوا اورجس جس پر قابو چلتا زدوکوب سے دریغ نہیں کرتے تھے؛لیکن اسلام کا نشہ ایسا نہ تھا جو چڑھ کر اتر جاتا، ان تمام سختیوں پر ایک شخص کو بھی وہ اسلام سے بددل نہ کرسکے۔

عمراور ان کے باپ اور ان کے دادا تینوں انساب کے بہت بڑے ماہر تھے [12]
آپ عکاظ کے دنگل میں کشتی لڑا کرتے تھے۔ [13]

اسلام

قریش کے سربرآوردہ اشخاص میں ابو جہل اورعمراسلام اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی میں سب سے زیادہ سرگرم تھے، اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ ان ہی دونوں کے لیے اسلام کی دعا فرمائی :اللہم اعزالاسلام باحدالرجلین اما ابن ہشام واماعمر بن الخطاب [14] یعنی خدایا اسلام کو ابو جہل یا عمر بن الخطاب سے معزز کر، مگریہ دولت تو قسام ازل نے عمرکی قسمت میں لکھ دی تھی، ابو جہل کے حصہ میں کیونکر آتی؟ اس دعائے مستجاب کا اثریہ ہوا کہ کچھ دنوں کے بعد اسلام کا یہ سب سے بڑا دشمن اس کا سب سے بڑا دوست اور سب سے بڑا جاں نثار بن گیا، یعنی عمرکا دامن دولت ایمان سے بھر گیا"ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَاءُ"تاریخ و سیرت کی کتابوں میں عمرکی تفصیلاتِ قبولِ اسلام میں اختلاف ہے۔ ایک مشہور واقعہ جس کو عام طورپر ارباب سیر لکھتے ہیں، یہ ہے کہ جب عمراپنی انتہائی سختیوں کے باوجود ایک شخص کو بھی اسلام سے بددل نہ کرسکے تو آخر کار مجبور ہوکر (نعوذ باللہ) خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ کیا اور تلوار کمر سے لگا کر سیدھے رسول اللہ کی طرف چلے راہ میں اتفاقاً نعیم بن عبداللہ مل گئے، ان کے تیور دیکھ کر پوچھا خیر تو ہے؟ بولے"محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ کرنے جاتا ہوں، انہوں نے کہاپہلے اپنے گھر کی تو خبر لو خود تمہاری بہن اور بہنوئی اسلام لاچکے ہیں" فوراً پلٹے اور بہن کے یہاں پہنچے، وہ قرآن پڑھ رہی تھیں، ان کی آہٹ پاکر چپ ہوگئیں اورقرآن کے اجزاء چھپالئے؛لیکن آوازان کے کان میں پڑ چکی تھی، بہن سے پوچھا یہ کیسی آواز تھی؟ بولیں کچھ نہیں، انہوں نےکہا میں سن چکاہوں کہ تم دونوں مرتد ہو گئے ہو، یہ کہہ کر بہنوئی سے دست وگریباں ہو گئے اورجب ان کی بہن بچانے کو آئیں تو ان کی بھی خبر لی، یہاں تک کہ ان کا جسم لہو لہان ہو گیا؛لیکن اسلام کی محبت پر ان کا کچھ اثر نہ ہوا "بولیں عمر جوبن آئے کرلو ؛لیکن اسلام اب دل سے نہیں نکل سکتا "ان الفاظ نے عمرکے دل پر خاص اثر کیا، بہن کی طرف محبت کی نگاہ سے دیکھا، ان کے جسم سے خون جاری تھا، اسے دیکھ کر اوربھی رقت ہوئی، فرمایا تم لوگ جو پڑھ رہے تھے مجھے بھی سناؤ، فاطمہ ؓ نے قرآن کے اجزاء سامنے لاکر رکھ دیے، اٹھاکر دیکھا تو یہ سورۃ تھی: "سَبَّحَ لِلہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِo وَہُوَالْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ" "زمین وآسمان میں جو کچھ ہے سب خدا کی تسبیح پڑھتے ہیں، وہ غالب اورحکمت والا ہے۔" ایک ایک لفظ پر ان کا دل مرعوب ہوتا جاتا تھا، یہاں تک کہ جب اس آیت پر پہنچے: "اٰمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ" خدااور اس کے رسول پر ایمان لاؤ تو بے اختیار پکاراٹھے "اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً عبدُہُ وَ الرَّسُوْلُ" یہ وہ زمانہ تھاجب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارقم ؓ کے مکان پر جوکوہ صفا کے نیچے واقع تھا پناہ گزین تھے، عمرنے آستانہ مبارک پر پہنچ کردستک دی، چونکہ شمشیر بکف تھے، صحابہ کو تردد ہوا؛ لیکن حضرت حمزہ ؓ نے کہا آنے دو، مخلصانہ آیا ہے تو بہتر ہے ورنہ اسی کی تلوار سے اس کا سرقلم کردوں گا، عمرنے اندر قدم رکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود آگے بڑھے اور ان کا دامن پکڑ کر فرمایا"کیوں عمر!کس ارادے سے آئےہو؟ نبوت کی پرجلال آواز نے ان کو کپکپادیا، نہایت خضوع کے ساتھ عرض کیا ایمان لانے کے لیے !آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بے ساختہ اللہ اکبر کا نعرہ اس زور سے مارا کہ تمام پہاڑیاں گونچ اٹھیں۔ [15] یہی روایت تھوڑے سے تغیر کے ساتھ دارقطنی، ابویعلیٰ، حاکم اور بیہقی میں حضرت انس ؓ سے مروی ہے، دونوں میں فرق صرف اس قدر ہے کہ پہلی میں سورہ حدید کی آیۃ سَبَّحَ لِلہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ہے، دوسری میں سورۂ طہٰ کی یہ آیت ہے: "اِنَّنِیْٓ اَنَا اللہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدْنِیْoَاَقِـمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ" "میں ہوں خداکوئی نہیں معبود ؛لیکن میں، تومجھ کو پوجو اورمیری یاد کے لیے نماز کھڑی کرو"۔ جب اس آیت پر پہنچے تو بے اختیار لا الہ الا اللہ پکار اٹھے اوردراقدس پر حاضری کی درخواست کی ؛لیکن یہ روایت دوطریقوں سے مروی ہے اوردونوں میں ایسے رواۃ ہیں جو قبول کے لائق نہیں؛چنانچہ دارقطنی نے اس روایت کو مختصراً لکھا ہے کہ اس کا ایک راوی قاسم بن عثمان بصری قوی نہیں۔[16]ذہبی نے مستدرک حاکم کے استدلال میں لکھا ہے کہ روایت واہی ومنقطع ہے[17]ان دونوں روایتوں کے مشترک راوی اسحاق بن یوسف، قاسم بن عثمان، اسحاق بن ابراہیم الحسینی اور اسامہ بن زید بن اسلم ہیں اور یہ سب کے سب پایہ اعتبار سے ساقط ہیں۔ ان روایتوں کے علاوہ مسند ابن حنبل میں ایک روایت خود عمرسے مروی ہے، جو گوایک تابعی کی زبان سے مروی ہے تاہم اس باب میں سب سے زیادہ محفوظ ہے، عمرفرماتے ہیں کہ ایک شب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چھیڑنے نکلا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑھ کر مسجد حرام میں داخل ہو گئے اورنماز شروع کردی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ الحاقہ تلاوت فرمائی، میں کھڑا سنتارہا اورقرآن کے نظم واسلوب سے حیرت میں تھا، دل میں کہا جیسا قریش کہا کرتے ہیں، خدا کی قسم یہ شاعر ہے، ابھی یہ خیال آیا ہی تھاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: "اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍo وَّمَا ہُوَبِقَوْلِ شَاعِرٍoقَلِیْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَ" "یہ ایک بزرگ قاصد کا کلام ہے اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں، تم بہت کم ایمان رکھتے ہو۔" میں نے کہا یہ تو کاہن ہے، میرے دل کی بات جان گیا ہے، اس کے بعد ہی یہ آیت پڑھی: "وَلَا بِقَوْلِ کَاہِنٍoقَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَoتَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ" "یہ کاہن کا کلام بھی نہیں تم بہت کم نصیحت پکڑتے ہو، یہ تو جہانوں کے پروردگار کی طرف سے اترا ہے"۔ آپ نے یہ سورۃ آخر تک تلاوت فرمائی اور اس کو سن کر اسلام میرے دل میں پوری طرح گھر کرگیا۔ [18] اس کے علاوہ صحیح بخاری میں خود عمرکی زبانی یہ روایت ہے کہ بعثت سے کچھ پہلے یا اس کے بعد ہی وہ ایک بت خانہ میں سوتے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک بت پر ایک قربانی چڑھائی گئی اور اس کے اندرسے آواز آئی، اے جلیج ایک فصیح البیان کہتا ہے: لاَ اِلٰہَ اِلاَّاللہ، اس آواز کا سننا تھا کہ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے ؛لیکن میں کھڑا رہا کہ دیکھوں اس کے بعد کیا ہوتا ہے کہ پھر وہی آواز آئی، اس واقعہ پر تھوڑے ہی دن گذرے تھے کہ لوگوں میں چرچا ہوا کہ یہ نبی ہیں، (باب بنیان الکعبہ باب اسلام عمر ؓ)اس روایت میں اس کا بیان نہیں ہے کہ اس آواز کا عمرپر کیا اثر ہوا۔ پہلی عام روایت بھی اگر صحیح مان لی جائے تو شاید واقعہ کی ترتیب یہ ہوگی کہ اس ندائے غیب پر عمرنے لبیک نہیں کہا اور اس کا کوئی تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی بشارت سے وہ نہ پیدا کرسکے کہ اس میں ان کی رسالت اورنبوت کا کوئی ذکر نہ تھا تاہم چونکہ توحید کا ذکر تھا اس لیے ادھر میلان ہواہوگا؛لیکن چونکہ ان کو قرآن سننے کا موقع نہیں ملا، اس لیے اس توحید کی دعوت کی حقیقت نہ معلوم ہو سکی، اس کے بعد جب انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ الحاقہ جس میں قیامت اورحشر ونشر کا نہایت موثربیان ہے، نماز میں پڑھتے سنی تو ان کے دل پر ایک خاص اثر ہوا جیسا کہ اس فقرے سے ظاہر ہوتا ہے وقع الاسلام فی قلبی کل موقع، یعنی اسلام میرے دل میں پوری طرح بیٹھ گیا تاہم چونکہ وہ طبعاً مستقل مزاج اورپختہ کار تھے اس لیے انہوں نے اسلام کا اعلان نہیں کیا ؛بلکہ اس اثر کو شاید وہ روکتے رہے ؛لیکن اس کے بعد جب ان کی بہن کا واقعہ پیش آیا اور سورۂ طہٰ پر نظر پڑی جس میں توحید کی نہایت مؤثر دعوت ہے تو دل پر قابو نہ رہا اور بے اختیار کلمہ توحید پکاراٹھے اوردراقدس پر حاضری کی درخواست کی۔ اوراگر وہ پہلی روایت صحیح تسلیم نہ کی جائے تو واقعہ کی سادہ صورت یہ ہوسکتی ہے کہ اس ندائے غیب نے ان کے دل میں توحید کا خیال پیدا کیا لیکن چونکہ تین برس دعوت محدود اورمخفی رہی تھی اس لیے ان کو اس کا حال نہ معلوم ہو سکا اورمخالفت کی شدت کے باعث کبھی خود بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جانے اورقرآن سننے کا موقع نہ ملا پھر جب رفتہ رفتہ اسلام کی حقیقت کی مختلف آوازیں ان کے کانوں میں پڑتی گئیں تو ان کی شدت کم ہوتی گئی، بالآخر وہ دن آیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے ان کو سورۃ الحاقہ سننے کا موقع ملا اور وہ لبیک کہتے ہوئے اسلام کے آستانہ پر حاضر ہو گئے۔

زمانۂ اسلام

عام مورخین اورارباب سیر نے عمرکے مسلمان ہونے کا زمانہ؁ 7 نبوی مقررکیا ہے اور لکھا ہے کہ آپ چالیسویں مسلمان تھے۔ (آج کل کے ایک نوجوان خوش فہم صاحب قلم نے تمام گذشتہ روایات کو ایک سرے سے ناقابل التفات قراردے کریہ دعویٰ کیا ہے کہ عمرنہایت قدیم الاسلام تھے، شاید مقصود یہ ہو کہ حضرت ابوبکر ؓ وغیرہ کے بعد ہی ان کا شمارہو، اس مقصد کے لیے انہوں نے تنہا بخاری کو سند قراردیا ہے، چنانچہ عمرکے اسلام کی تمہید میں وہ لکھتے ہیں کہ:اسی فطرت سلیمہ کی بنا پر ان (عمر ؓ ) کو اسلام سے ہمدردی پیدا ہوئی؛چنانچہ ان کی ہم‌شیر اور سعید بن زید نے اسلام قبول کیا تو گووہ مسلمان نہیں ہوئے تھے تاہم لوگوں کو اسلام پر قائم رہنے کی تاکید کیا کرتے تھے؛چناں‌چہ سعید نے اس واقعہ کو ایک موقع پر بیان کیا ہے۔" کان عمر بن الخطاب ؓ یقیم علی الاسلام اناواختہ ومااسلم "یعنی عمرمجھ کو اوراپنی بہن کو اسلام پر مضبوط کرتے تھے حالاں‌کہ خود نہیں اسلام لاتے تھے"۔ [19] اس حدیث میں اپنے موافق مطلب تحریر کرنے کے بعد وہ فرماتے ہیں:"اس حدیث کا بعض لوگوں نے اور بھی مطلب بیان کیا ہے اور قسطلانی نے اس کی تردید کی ہے۔" اس کے بعد بت خانہ میں ندائے غیب سننے کے واقعہ کا ذکر کیا۔ پہلی حدیث سے عمرکی اسلام کے ساتھ ہمدردی اوردوسری میں ہاتف غیب کی آواز سننے کا ذکر ہے، ان دونوں باتوں کو ملاکر انہوں نے فوراً عمرکے آغاز اسلام ہی میں مسلمان ہونے کا قطعی فیصلہ کر دیا اوراسی واقعہ کو ان کے فوری اسلام کا سبب قراردیدیا، اس کے بعد ایک اورشہادت پر مصنف کی نظر پڑی کہ مرض الموت میں ایک نوجوان نے عمرکے سامنے یہ الفاظ کہے:"اے امیر المومنین:خدانے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اورسبقت کے ذریعہ سے (جس کو آپ جانتے ہیں) جو بشارت دی ہے اس سے آپ خوش ہوں"اس قدر شواہد اوراتنے دلائل کے بعد فاضل مصنف ناظرین سے داد طلب ہیں کہ: "ایک طرف توصحیح بخاری کی مستند روایات ہیں جو عمرکی فطری سلامت روی اورحق پرستی کو ظاہر کرتی ہیں، دوسری طرف مزخرفات کا یہ دفتر بے پایاں ہے جو ان میں گذشتہ اوصاف سے متعارض صفات تسلیم کراتا ہے، ناظرین انصاف کریں کہ ان میں سے کس کو صحیح تسلیم کیا جائے؟’’ افسوس مصنف کو دیگر مسائل کی طرح اس مسئلہ میں بھی متعدد مسامحات میں گرفتار ہونا پڑا ہے، ہم ناظرین کو مصنف کے ابتدائی دلائل کی طرف توجہ دلاتے ہیں، مصنف نے سب سے پہلے اسلام کے ساتھ عمرکی ہمدردی میں سعید بن زید ؓ کی یہ روایت پیش کی ہے: کان عمر بن الخطاب یقیم علی الاسلام انا واختہ ومااسلم [20] "یعنی عمرمجھ کو اوراپنی بہن کو اسلام پر مضبوط کرتے تھے حالانکہ خود مسلمان نہیں ہوئے تھے۔" اس کے بعد لکھتے ہیں کہ اس حدیث کا بعض لوگوں نے ایک اور مطلب بھی بیان کیاہے اور قسطلانی نے اس کی تردید کی ہے، یہاں پر مصنف نے اپنا مطلب ثابت کرنے کے لیے بڑی جسارت سے کام لیا ہے، اول توحدیث کے لفظ میں صریح تحریف کی ہے اورتحریف بھی ادب عربی کے خلاف ہے، پھر حدیث میں "یقیم"کی بجائے "موثقی"ہے، [21]جس کے معنی باندھنے کے ہیں نہ کہ مضبوط کرنے اور قائم رکھنے کے یہ عربی کا محاورہ ہے اور قسطلانی نے باندھنے کے معنی لیے ہیں، اورمصنف کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ قسطلانی سے مصنف کے بیان کردہ معنی کی تائید ہوتی ہے، حالانکہ یہ سراسر غلط ہے، ہذا بہتان عظیم؛چنانچہ قسطلانی کے الفاظ یہ ہیں، ([22] بجبل اوقد کالا سیر تضییقا واھانۃ، یعنی موثقی سے مراد رسی یا تسمہ سے قیدی کی طرح تنگ کرنے اورذلیل کرنے کے لیے باندھنا ہے، البتہ قسطلانی نے مصنف کے اختیار کردہ غلط معنی کی تردید کی ہے جس کو بعض خوش فہموں نے اختیار کرنا چاہا تھا۔ دوسری حدیث جو مصنف نے عمرکے اسلام کے باب میں پیش کی ہے، یعنی ہاتف غیب کی آواز، اس روایت میں کوئی ایسا فقرہ نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ عمراس کو سن کر متاثر ہوئے اور فورا اسلام لےآئے، اس قصہ کے آخر میں یہ صاف مذکور ہے کہ اس کے بعد تھوڑے ہی دن گذرے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا شہرہ ہوا، اس لیے یہ بالکل ہی آغاز اسلام کا واقعہ ہوگا، اگر اسی وقت حضرت عمر ؓکا اسلام لانا ثابت ہوجائےتواس سے یہ بھی ثابت ہوجائے گا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر کی ولادت سے پہلے ہی آپ مسلمان ہو چکے تھے جو قطعی غلط ہے، جیسا کہ آگے ثابت ہوگا۔ آئیے اب ہم صحیح بخاری ہی کے ارشادات پر چل کر عمرکے اسلام کی تاریخ تلاش کریں، عمرکے اسلام کے واقعہ کے بیان میں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کے یہ الفاظ بخاری میں ہیں:"حضرت عمرؓ مسلمان ہوئے تو ایک ہنگامہ برپاہوگیا، مشرکین بکثرت ان کے مکان پرجمع ہو گئے اورکہنے لگے صبا عمر، عمر بے دین ہو گئے، حضرت عمرؓ خوف زدہ گھر کے اندر تھے اور میں مکان کی چھت پرتھا۔" [23] اس روایت سے ظاہر ہے کہ عمرکے اسلام کے وقت نہ صرف یہ کہ وہ پیدا ہوچکے تھے ؛بلکہ سن تمیز کے اس درجہ پر پہنچ چکے تھے کہ ان کو لڑکپن کے واقعات وضاحت سے یادرہ گئے اورتجربہ اس کا شاہد ہے کہ 5،6 سال کابچہ واقعات کو اس طرح سے محفوظ نہیں رکھ سکتا، آگے چلئے، 3 ھ یعنی بعثت کے سولہویں سال غزوہ ٔاحد ہوا، بخاری میں خود حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ اس وقت ان کی عمر 14 سال تھی اس لیے چھوٹی عمر کے بچوں کے ساتھ چھانٹ دیے گئے تھے اورمجاہدین میں نہیں لیے گئے، [24] اس حساب سے بعثت کے دوسال بعد آپ کی پیدائش ماننی پڑے گی، اورکم از کم پانچ سال کی عمر واقعات محفوظ رہنے کے لیے ماننی ہوگی توپانچ سال یہ اوردوسال بعد بعثت کے کل سات سال ہوجاتے ہیں، لہذا خود صحیح بخاری کی تائید سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عمرکا زمانہ اسلام؁ 7ھ بعثت ہوگا، اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ ہاتف غیب کی آواز سننے کے سات سال بعد اسلام لائے۔) عمرکے مسلمان ہوجانے سے اسلام کی تاریخ میں ایک نیا دورشروع ہو گیا، اس وقت تک چالیس یا اس سے کچھ کم وبیش آدمی دائرہ اسلام میں داخل ہوچکے تھے ؛لیکن وہ نہایت بے بسی ومجبوری کے عالم میں تھے، علانیہ فرائض مذہبی ادا کرنا تودرکنار اپنے کو مسلمان ظاہر کرنا بھی خطرہ سے خالی نہ تھا اورکعبہ میں نماز پڑھنا تو بالکل ناممکن تھا، عمرکے اسلام لانے سے دفعتاً حالت بدل گئی، انہوں نے علانیہ اپنے اسلام کا اظہارکیا، صرف اتنا ہی نہیں ؛بلکہ مشرکین کو جمع کرکے بآواز بلند اپنے ایمان کا اعلان کیا، مشرکین نہایت برافروختہ ہوئے ؛لیکن عاص بن وائل نے جو رشتہ میں عمرکے ماموں تھے، ان کو اپنی پناہ میں لے لیا، عمرقبول اسلام سے پہلے اپنی آنکھوں سے مسلمانوں کی مظلومیت کا تماشہ دیکھتے تھے اس لیے شوق مساوات نےاسے پسند نہ کیا کہ وہ اسلام کی نعمت سے متمتع ہونے کے بعد عاص بن وائل کی حمایت کے سہارے اس کے نتائج سے محفوظ رہیں، اس لیے انہوں نے پناہ قبول کرنے سے انکار کر دیا اور برابر ثبات واستقلال کے ساتھ مشرکین کا مقابلہ کرتے رہے، یہاں تک کہ مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ برابر کعبہ میں جاکر نماز اداکی۔ [25] یہ پہلا موقع تھا کہ حق، باطل کے مقابلہ میں سربلند ہوا اورعمرکو اس صلہ میں دربار نبوت سے فاروق کا لقب مرحمت ہوا۔

ہجرت

مکہ میں جس قدر مسلمانوں کی تعداد بڑہتی گئی، اسی قدرمشرکین قریش کے بغض وعناد میں بھی ترقی ہوتی گئی، اگر پہلے وہ صرف فطری خونخواری اورجوش مذہبی کی بناپر مسلمانوں کو اذیت پہنچاتے تھے تو اب انہیں سیاسی مصالح نے مسلمانوں کے کامل استیصال پر آمادہ کر دیا تھا، سچ یہ ہے کہ اگر بلا کشان اسلام میں غیر معمولی جوش ثبات اوروارفتگی کا مادہ نہ ہوتا ایمان پر ثابت قدم رہنا غیر ممکن تھا۔ حضرت عمر ؓ؁ 7نبوی میں اسلام لائے تھے اور؁ 13 نبوی میں ہجرت ہوئی، اس طرح گویا انہوں نے اسلام لانے کے بعد تقریباً 7،6 برس تک قریش کے مظالم برداشت کیے، جب مسلمانوں کو مدینہ کی جانب ہجرت کی اجازت ملی تو عمربھی اس سفر کے لیے آمادہ ہوئے اور بارگاہ نبوت سے اجازت لے کر چند آدمیوں کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور اس شان کے ساتھ روانہ ہوئے کہ پہلے مسلح ہوکر مشرکین کے مجمعوں سے گزرتے ہوئے خانہ کعبہ پہنچے، نہایت اطمینان سے طواف کیا، نمازپڑھی، پھر مشرکین سے مخاطب ہوکر کہا جس کو مقابلہ کرنا ہو وہ مکہ سے باہر نکل کر مقابلہ کرلے ؛لیکن کسی کی ہمت نہ ہوئی اوروہ مدینہ روانہ ہو گئے۔ [26] عمرمدینہ پہنچ کر قبا میں رفاعہ بن عبدالمنذر کے مہمان ہوئے، قبا کا دوسرانام عوالی ہے؛چنانچہ صحیح مسلم میں ان کی فرودگاہ کا نام عوالی ہی لکھا ہے، عمرکے بعد اکثر صحابہ نے ہجرت کی یہاں تک کہ 642ء میں خود آفتاب رسالت صلی اللہ علیہ وسلم بھی مکہ کی گھاٹیوں سے نکل کر مدینہ کے افق سے ضوافگن ہوا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ تشریف لانے کے بعد غریب الوطن مہاجرین کے رہنے سہنے کا اس طرح انتظام فرمایا کہ ان میں اور انصار میں برادری قائم کردی، اس موقع پر انصار نے عدیم النظیر ایثار سے کام لے کر اپنے مہاجربھائیوں کو مال واسباب میں نصف کا شریک بنالیا، اس رشتہ کے قائم کرنے میں درجہ ومراتب کا خاص طورپر خیال رکھا گیا تھا یعنی جو مہاجر جس رتبہ کا تھا اسی حیثیت کے انصاری سے اس کی برادری قائم کی گئی تھی؛چنانچہ عمر ؓ کے برادراسلام حضرت عتبہ بن مالک قرار پائے تھے جو قبیلہ بنی سالم کے معزز رئیس تھے۔ مدینہ کا اسلام مکہ کی طرح بے بس ومجبورنہ تھا؛بلکہ اب آزادی اوراطمینان کا دورتھا اور اس کا وقت آگیا تھا کہ فرائض وارکان محدود اورمعین کیے جائیں نیز مسلمانوں کی تعداد وسیع سے وسیع تر ہوتی جاتی تھی اوروہ دور دور کے محلوں میں آباد ہونے لگے تھے، اس بنا پر شدید ضرورت تھی کہ اعلان نماز کا کوئی طریقہ معین کیاجائے؛چنانچہ حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اسی کا انتظام کرنا چاہا، بعض صحابہ کی رائے ہوئی کہ آگ جلا کر لوگوں کو خبر کی جائے، بعض کا خیال تھا کہ یہودیوں اورعیسائیوں کی طرح بوق وناقوس سے کام لیا جائے، عمرنے کہا کہ ایک آدمی اعلان کے لیے کیوں نہ مقرر کیا جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رائے پسند آئی اور اسی وقت حضرت بلال ؓ کو اذان کا حکم دیا گیا، اس طرح اسلام کا ایک شعار اعظم عمرکی رائے کے موافق قائم ہوا، [27] جس سے تمام عالم قیامت تک دن اوررات میں پانچ وقت توحید ورسالت کے اعلان سے گونجتا رہے گا۔

غزوات نبوی میں شرکت

عمر مندرجہ ذیل غزوات و واقعات میں شریک رہے۔

غزوۂ بدر

مدینہ میں سب سے پہلا معرکہ بدر کا پیش آیا، عمراس معرکہ میں رائے، تدبرجانبازی اورپامردی کے لحاظ سے ہر موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست وبازو رہے، عاص بن ہشام ابن مغیرہ جو رشتہ میں ان کا ماموں ہوتا تھا، خود ان کے خنجرخاراشگاف سے واصل جہنم ہوا [28] یہ بات عمرکی خصوصیات میں سے ہے کہ اسلام کے مقابلہ میں قرابت ومحبت کے تعلقات سے مطلقاً متاثر نہیں ہوتےتھے، آپ کے ہاتھوں عاص کا قتل اس کی روشن مثال ہے۔ بدر کا میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا، غنیم کے کم وبیش ستر آدمی مارے گئے اور تقریباً اسی قدر گرفتار ہوئے ؛چونکہ ان میں سے قریش کے اکثر بڑے بڑے معزز سردار تھے، اس لیے یہ بحث پیدا ہوئی کہ ان کے ساتھ کیاسلوک کیا جائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ ؓ سے رائے لی، لوگوں نے مختلف رائیں دی، حضرت ابوبکر ؓ کی رائے ہوئی کہ فدیہ لے کرچھوڑدیا جائے، عمرنے اختلاف کیا اور کہا کہ ان سب کو قتل کردینا چاہیے، اوراس طرح کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے ہاتھوں سے اپنے عزیز کو قتل کرے، علی عقیل کی گردن ماریں اورفلاں جومیراعزیز ہےاس کاکام میں تمام کردوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رحمت نے حضرت ابوبکر ؓ کی رائے پسندکی اورفدیہ لے کر چھوڑدیا، بارگاہ الہی میں یہ چیز پسند نہ آئی اس پر عتاب ہوا اور یہ آیت نازل ہوئی: مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ "کسی پیغمبر کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک وہ خونریزی نہ کرلے۔" حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اورحضرت ابوبکر ؓ نے گریہ وزاری کی۔ [29]

غزوہ احد

واقعہ بدر کے بعد خود مدینہ کے یہودیوں سے لڑائی ہوئی اور ان کو جلاوطن کیا گیا اسی طرح غزوہ سویق اوردوسرے چھوٹے چھوٹے معرکے پیش آئے، سب میں عمرسرگرم پیکار رہے، یہاں تک کہ شوال؁ 3ھ میں احد کا معرکہ پیش آیا، اس میں ایک طرف تو قریش کی تعداد تین ہزار تھی جس میں دوسو سوار اورسات سو زرہ پوش تھے، ادھر غازیان اسلام کی کل تعداد صرف سات سو تھی جس میں سوزرہ پوش اوردوسو سوارتھے، 7شوال ہفتہ کے دن لڑائی شروع ہوئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن جبیرؓ کو پچاس تیر اندازوں کے ساتھ فوج کے عقب میں متعین کر دیا تھا کہ ادھر سے کفار حملہ نہ کرنے پائیں۔ مسلمانوں نے غنیم کی صفیں تہ وبالاکردیں، کفار شکست کھاکر بھاگے اور غازیان دین مال غنیمت جمع کرنے میں مصروف ہو گئے، تیراندازوں نے سمجھا کہ اب معرکہ ختم ہوچکا ہے، اس خیال سے وہ بھی لوٹنے میں مصروف ہو گئے، تیراندازوں کا اپنی جگہ سے ہٹنا تھا کہ خالدبن ولید نے (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے)دفعتہ عقب سے زوروشور کے ساتھ حملہ کر دیا، مسلمان چونکہ غافل تھے اس لیے ناگہانی ریلے کو روک نہ سکے، یہاں تک کہ کفار نے خود ذات اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر یورش کردی اوراس قدر تیروں اورپتھروں کی بارش کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہوئے، پیشانی پر زخم آیا اوررخساروں میں مغفر کی کڑیاں چبھ گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گڑھے میں گرپڑے اورلوگوں کی نظروں سے چھپ گئے۔ جنگ کا زور وشورجب کسی قدر کم ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تیس فدائیوں کے ساتھ پہاڑ پر تشریف لائے، اسی اثنا میں خالد کو ایک دستہ فوج کے ساتھ اس طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کر فرمایا کہ خدایا یہ لوگ یہاں تک نہ آنے پائیں، عمرنے چند مہاجرین اورانصار کے ساتھ آگے بڑھ کر حملہ کیا اور ان لوگوں کو ہٹادیا۔ [30] ابو سفیان سالار قریش نے درہ کے قریب پہنچ کر پکارا کہ اس گروہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ کوئی جواب نہ دے، ابو سفیان نے پھر عمراورحضرت ابوبکر صدیق ؓ کا نام لے کر کہا، یہ دونوں اس مجمع میں ہیں یا نہیں؟ اور جب کسی نے جواب نہ دیا تو بولا کہ ضرور یہ لوگ مارے گئے، عمرسے نہ رہا گیا، پکار کر کہا:او دشمن خدا!ہم سب زندہ ہیں، ابوسفیان نے کہا"اعل ھبل" یعنی اے ہبل بلند ہو، (ہبل ایک بت کا نام تھا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر سےفرمایا جواب دو، اللہ اعلیٰ واجل یعنی خدا بلند وبرتر ہے۔ [31] غزوہ احد کے بعد؁ 3 ھ میں حضرت عمر کو یہ شرف حاصل ہوا کہ ان کی صاحبزادی حضرت حفصہ ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں، ؁ 4ھ بنو نضیر کو ان کی بدعہدی کے باعث مدینہ سے جلاوطن کیا گیا، اس واقعہ میں بھی حضرت عمرؓ شریک رہے،

غزوہ خندق

5ھ میں غزوہ خندق پیش آیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے باہر نکل کر خندق تیار کرائی، دس ہزار کفار نے خندق کا محاصرہ کیا، وہ لوگ کبھی کبھی خندق میں گھس کر حملہ کرتے تھے، اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کے ادھر ادھر کچھ کچھ فاصلے پر اکابر صحابہ کو متعین فرمادیا تھا کہ دشمن ادھر سے نہ آنے پائیں، ایک حصہ پر حضرت عمر متعین تھے؛چنانچہ یہاں پران کے نام کی ایک مسجد آج بھی موجود ہے، ایک دن کافروں کے مقابلہ میں ان کو اس قدر مصروف رہنا پڑا کہ عصر کی نماز قضاہوتے ہوتے رہ گئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر عرض کیا کہ آج کافروں نے نماز پڑھنے تک کا موقع نہ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے بھی اب تک عصر کی نماز نہیں پڑھی، [32] کامل ایک ماہ کے محاصرہ کے بعد مسلمانوں کے ثبات واستقلال کے آگے کافروں کے پاؤں اکھڑ گئے اور یہ میدان بھی غازیوں کے ہاتھ رہا۔

بیعت الرضوان اورصلح حدیبیہ

؁ 6ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیارت کعبہ کا ارادہ فرمایا اور اس خیال سے کہ کسی کو لڑائی کا شبہ نہ ہو، حکم دیا کہ کوئی ہتھیار باندھ کر نہ چلے، ذوالحلیفہ پہنچ کر عمرکو خیال ہوا کہ دشمنوں میں غیر مسلح چلنا مصلحت نہیں ہے؛چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی رائے کے موافق مدینہ سے اسلحہ منگوالئے، مکہ کے قریب پہنچ کر معلوم ہوا کہ قریش نے عہد کر لیا ہے کہ مسلمانوں کو مکہ میں قدم نہ رکھنے دیں گے، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لڑنا مقصود نہیں تھا اس لیے مصالحت کے خیال سے حضرت عثمان ؓ کو سفیر بناکر بھیجا، قریش نے ان کو روک رکھا جب کئی دن گزرگئے تو یہ خبر مشہور ہو گئی کہ وہ شہید ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر سن کر صحابہ ؓ جو تعداد میں چودہ سو تھے، ایک درخت کے نیچے جہاد پر بیعت لی؛چنانچہ قرآن مجید کی اس آیت میں "لَقَدْ رَضِیَ اللہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ"، اسی واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ [33] عمرنے بیعت سے پہلے ہی لڑائی کی تیاری شروع کردی تھی، ہتھیارسج رہے تھے کہ خبر ملی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیعت لے رہے ہیں، اسی وقت بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اورجہاد کے لیے دست اقدس پر بیعت کی۔ [34] قریش مصر تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سال مکہ میں داخل نہیں ہوسکتے، آخر بڑے ردوقدح کے بعد ایک معاہدہ پر طرفین رضا مند ہو گئے، اس معاہدہ میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ اگر قریش کا کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں چلا جائے تو اس کو قریش کے پاس واپس کر دیا جائے گا؛لیکن اگر مسلمانوں کا کوئی شخص قریش کے ہاتھ آجائے تو ان کو نہ واپس کرنے کا اخیتار ہوگا، عمرکی غیور طبیعت اس شرط سے نہایت مضطرب ہوئی اورخود سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حاضر ہوکر دریافت کیا کہ جب ہم حق پر ہیں تو باطل سے اس قدردب کرکیوں صلح کرتے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں خدا کا پیغمبر ہوں اورخداکے حکم کے خلاف نہیں کرتا، اس کے بعد حضرت ابوبکر سے بھی یہی گفتگو کی، انہوں نےبھی یہی جواب دیا، بعد کو حضرت عمرؓ کو اپنی گفتگوپرندامت ہوئی اور اس کے کفارے میں کچھ خیرات کی۔ [35] غرض معاہدہ صلح لکھا گیا، عمرنے بھی اسپر اپنے دستخط ثبت کیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کا قصد کیا، راہ میں سورہ "اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا"نازل ہوئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرکو بلاکر سنایا اور فرمایا کہ آج ایسی سورۃ نازل ہوئی ہے جو مجھ کو دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے۔ [36]

غزوہ خیبر

7ھ میں واقعہ خبیر پیش آیا، یہاں یہودیوں کے بڑے بڑے مضبوط قلعے تھے جن کا مفتوح ہونا آسان نہ تھا، پہلے حضرت ابوبکر سپہ سالار ہوئے، ان کے بعدحضرت عمرؓ اس خدمت پر مامور ہوئے؛لیکن یہ فخر حضرت علی ؓ کے لیے مقدر ہوچکا تھا چنانچہ آخر میں جب آپ کو علم مرحمت ہوا تو آپ کے ہاتھوں خیبر کا رئیس مرحب مارا گیا اور خبیر مفتوح ہوا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین مجاہدوں کو تقسیم کردی؛چنانچہ ایک ٹکڑا ثمغ نامی عمرکے حصہ میں آیا، انہوں نے اس کو راہ خدا میں وقف کر دیا، [37]اسلام کی تاریخ میں یہ پہلا وقف تھا جو عمل میں آیا۔

فتح مکہ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اورقریش کے درمیان میں حدیبیہ میں جو معاہدہ ہواخیبر کے بعد قریش نے اس کو توڑدیا، ابوسفیان نے پیش بندی کےخیال سے مدینہ آکر عذرخواہی کی؛لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، اس لیے وہ اٹھ کر حضرت ابوبکر ؓ اورپھر عمرکے پاس گیا کہ وہ اس معاملہ کو طے کرادیں، عمرنے اس سختی سے جواب دیا کہ وہ بالکل ناامید ہو گیا، غرض نقض عہد کے باعث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ہزار مجاہدین کے ساتھ رمضان؁ 8 ھ میں مکہ کا قصد فرمایا، قریش میں مقابلہ کی طاقت نہ تھی، اس لیے انہوں نے کوئی مزاحمت نہ کی اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہایت جاہ وجلال کے ساتھ مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے اورباب کعبہ پر کھڑے ہوکر نہایت فصیح وبلیغ تقریری کی جو تاریخوں میں بعینہ مذکور ہے، پھر عمرکو ساتھ لے کر مقام صفا پر لوگوں سے بیعت لینے کے لیے تشریف لائے لوگ جوق درجوق آتے تھے اوربیعت کرتے جاتے تھے، عمرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ؛لیکن کسی قدر نیچے بیٹھے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیگانہ عورتوں کے ہاتھ مس نہیں کرتے تھے، اس لیے جب عورتوں کی باری آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرکو اشارہ کیا کہ تم ان سے بیعت لو؛چنانچہ تمام عورتوں نے ان ہی کے ہاتھ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔

غزوہ حنین

فتح مکہ کے بعد اسی سال ہوازن کی لڑائی پیش آئی جو غزوہ حنین کے نام سے مشہو رہے، عمراس جنگ میں بھی نہایت ثابت قدمی اورپامردی کے ساتھ شریک کارزار رہے، پھر؁ 9 ھ میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ قیصر روم عرب پر حملہ آور ہونا چاہتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کو تیاری کا حکم دیا اورجنگی تیاریوں کے لیے زرومال سے اعانت کی ترغیب دلائی، اکثرصحابہ نے بڑی بڑی رقمیں پیش کیں، عمرنے اس موقع پر اپنے تمام مال واملاک کا آدھا حصہ لاکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ [38]

غزوہ تبوک

اسلحہ اورسامان رسد مہیا ہوجانے کے بعد مجاہدین نے مقام تبوک کا رخ کیا، یہاں پہنچ کر معلوم ہواکہ خبر غلط تھی، اس لیے چند روز قیام کے بعد سب لوگ واپس آگئے۔

حجۃ الوداع

؁ 10ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے لیے تشریف لے گئے، حضرت عمرؓ بھی ہمرکاب تھے، اس حج سے واپس آنے کے بعد ابتداماہ ربیع الاول دوشنبہ کے دن حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم بیمارہوگئےاور دس روز کی مختصر علالت کے بعد 12 ربیع الاول دوشنبہ کے دن دوپہر کے وقت آپ کا وصال ہو گیا، عام روایت یہ ہے کہ عمرنے ازخود رفتہ ہوکر مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اعلان کیا کہ جوشخص یہ کہے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اس کو قتل کرڈالوں گا۔ شاید اس میں یہ بھی مصلحت ہوکہ منافقین کو فتنہ پردازی کا موقع نہ ملے، پھر بھی فتنہ سقیفہ بنی ساعدہ کھڑاہی ہو گیا، اگرعمراورحضرت ابوبکر صدیق ؓ وقت پر پہنچ کر اپنے ناخن عقل سے اس گتھی کو نہ سلجھاتے تو کیاعجب تھا کہ یہی فتنہ شمع اسلام کو ہمیشہ کے لیے گل کردیتا؛لیکن انصار کے ساتھ بہت بحث ومباحثہ کے بعدحضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکرصدیق ؓ کے ہاتھ پر بیعت کرلی اوراس کے بعداورلوگوں نے بیعت کی۔ [39] حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت صرف سوادوبرس رہی ان کے عہد میں جس قدر بڑے بڑے کام انجام پائے سب میں عمرشریک رہے، قرآن شریف کی تدوین کا کام خاص ان کے مشورہ اوراصرار سے عمل میں آیا، غرض حضرت ابوبکر ؓ کو اپنے عہد خلافت میں تجربہ ہوچکا تھا کہ منصب خلافت کے لیے عمر فاروق ؓ سے زیادہ کوئی شخص موزوں نہیں ہوسکتا؛چنانچہ انہوں نے وفات کے قریب اکابر صحابہ سے مشورہ کے بعد ان کو اپنے بعد خلیفہ نامزد کیا اور آئندہ کے لیے مفید مؤثر نصیحتیں کیں جو عمرکے لیے نہایت عمدہ دستور العمل ثابت ہوئیں۔

خلافت

حضرت ابوبکر ؓ تریسٹھ سال کی عمر میں اواخرجمادی الثانی دوشنبہ کے روز وفات پائی اورحضرت عمرفاروق ؓ مسند آرائے خلافت ہوئے، خلیفۂ سابق کے عہد میں مدعیان نبوت، مرتدین عرب اورمنکرین زکوٰۃ کا خاتمہ ہو کر فتوحات ملکی کا آغاز ہوچکا تھا، یعنی؁ 12ھ میں عراق پر لشکر کشی ہوئی اورحیرہ کے تمام اضلاع فتح ہو گئے، اسی طرح؁ 13ھ میں شام پر حملہ ہوا اوراسلامی فوجیں سرحدی اضلاع میں پھیل گئیں، ان مہمات کا آغاز ہی تھا کہ خلیفہ وقت نے انتقال کیا، حضرت عمرؓ نے عنان حکومت ہاتھ میں لی تو ان کا سب سے اہم فرض ان ہی مہمات کو تکمیل تک پہنچانا تھا۔ ہاتھ میں لی تو ان کا سب سے اہم فرض ان ہی مہمات کو تکمیل تک پہنچانا تھا۔

فتوحات عراق

سیرت صدیق ؓ میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ مذکور ہوچکا ہےکہ عراق پر حملےکے کیاوجوہ واسباب تھے اور کس طرح اس کی ابتداہوئی، یہاں سلسلہ کے لیے مختصراً اس قدر جان لینا چاہیے کہ خالدبن ولید بانقیا، کسکر، اورحیرہ کے اضلاع کو فتح کرچکے تھے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے حکم سے مثنی بن حارثہ کو اپنا جانشین کرکے مہم شام کی اعانت کے لیے ان کو شام جانا پڑا، حضرت خالد بن ولید ؓ کا جانا تھا کہ عراق کی فتوحات دفعۃ رک گئیں۔ عمرمسند نشین خلافت ہوئے تو سب سے پہلے مہم عراق کی تکمیل کی طرف متوجہ ہوئے، بیعت خلافت کے لیے عرب کے مختلف حصوں سے بے شمار آدمی آئے تھے، اس موقع کو غنیمت سمجھ کر مجمع عام میں آپ نے جہاد کا وعظ کیا؛لیکن چونکہ عام خیال تھا کہ عراق حکومت فارس کاپایہ تخت ہے اور اس کا فتح ہونا نہایت دشوار ہےاس لیے ہر طرف سے صدائے برنخاست کا معاملہ رہا، عمرنے کئی دن تک وعظ کہا ؛لیکن کچھ اثر نہ ہوا، آخر چوتھے دن ایسی پر جوش تقریر کی کہ حاضرین کے دل دہل گئے مثنی شیبانی نے کہا کہ"مسلمانو! میں نے مجوسیوں کو آزمالیا ہے وہ مرد میدان نہیں ہیں، ہم نے عراق کے بڑے بڑے اضلاع فتح کرلئے ہیں اور عجمی اب ہمارا لوہامان گئے ہیں، اسی طرح قبیلہ ثقیف کے سردار ابوعبیدہ ثقفی نے جوش میں آکر کہا"انالھذا"یعنی اس کے لیے میں ہوں، ابو عبیدہ کی بیعت نے تمام حاضرین کو گرمادیا اورہرطرف سے آوازیں اٹھیں کہ ہم بھی حاضر ہیں، عمرنے مدینہ اور اس کے مضافات سے ایک ہزار اوردوسری روایت کے مطابق پانچ ہزار آدمی انتخاب کیے اور ابو عبید کو سپہ سالارمقرر کرکے روانہ کیا۔ حضرت ابوبکر ؓ کے عہد میں عراق پر جو حملہ ہوا اس نے ایرانیوں کو بیدار کردیاتھا؛چنانچہ پوران وخت نے جوصغیر السن یزد گردشاہ ایران کی متولیہ تھی فرخ زاد گورنرخراسان کے بیٹے رستم کو جو نہایت شجاع اورمدبر تھا دربار میں طلب کرکے وزیر جنگ بنایا اور تمام اہل فارس کو اتحاد واتفاق پرآمادہ کیا، نیز مذہبی حمیت کا جوش دلا کر نئی روح پیدا کردی، اس طرح دولت کیانی نے پھر وہی قوت پیدا کرلی جو ہر مزپرویز کے زمانہ میں اس کو حاصل تھی۔ رستم نے ابو عبیدہ ؓ کے پہنچنے سے پہلے ہی اضلاع فرات میں غدرکرادیا اورجو مقامات مسلمانوں کے قبضہ میں آچکے تھے وہ ان کے قبضہ سے نکل گئے، پوران وخت نے ایک اور زبردست فوج رستم کی اعانت کے لیے تیار کی اورنرسی وجابان کو سپہ سالار مقررکیا یہ دونوں دوراستوں سے روانہ ہوئے، جابان کی فوج نماز ق پہنچ کر ابوعبیدہ ؓ کی فوج سے بر سر پیکار ہوئی اوربری طرح شکست کھا کر بھاگی، ایرانی فوج کے مشہور افسر جوشن شاہ اورمروان شاہ مارے گئے، جابان گرفتار ہوامگر اس حیلہ سے بچ گیا جس شخص نے اس کو گرفتار کیا تھا وہ پہچانتا نہ تھا، جابان نے اس سے کہا کہ میں بڑھاپے میں تمہارے کس کام کاہوں، معاوضے میں دوغلام لے لو اور مجھے چھوڑ دو، اس نے منظور کر لیا، بعد کو معلوم ہوا کہ یہ جابان تھا، لوگوں نے غل مچایا کہ ایسے دشمن کو چھوڑنا نہیں چاہیے ؛لیکن ابو عبیدہ ؓ نے کہا کہ اسلام میں بدعہدی جائز نہیں۔ ابو عبیدہ ؓ نے جابان کو شکست دینے کے بعد سقاطیہ میں نرسی کی فوج گراں کو بھی شکست دی، اس کا اثریہ ہوا کہ قرب وجوار کے تمام رؤسا خود بخود مطیع ہو گئے، نرسی وجابان کی ہزیمت سن کر رستم نے مروان شاہ کو چارہزار کی جمعیت کے ساتھ ابو عبیدہ ؓ کے مقابلہ میں روانہ کیا، ابوعبیدہ ؓ نے فوجی افسروں کے شدید اختلاف کے باوجود فرات سے پاراترکر غنیم سے نبردآزمائی کی چونکہ اس پار کا میدان تنگ اورناہموار تھا، نیز عربی دلاورں کے لیے ایران کے کوہ پیکر ہاتھیوں سے یہ پہلا مقابلہ تھا، اس لیے مسلمانوں کو سخت ہزیمت ہوئی اورنوہزارفوج میں سے صرف تین ہزار باقی بچی۔ حضرت عمر کو اس شکست نے نہایت برافروختہ کیا، انہوں نے اپنے پرجوش خطبوں سے تمام قبائل عرب میں آگ لگادی، ان کے جوش کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ نمروتغلب کے سرداروں نے جو مذہباً عیسائی تھے اپنے قبائل کے مسلمانوں کے ساتھ شرکت کی اور کہا کہ آج عرب وعجم کا مقابلہ ہے، اس قومی معرکہ میں ہم بھی قوم کے ساتھ ہیں، غرض حضرت عمرؓ ایک فوج گراں کے ساتھ جریر بجلی کو میدان رزم کی طرف روانہ کیا، یہاں مثنیٰ نے بھی سرحد کے عربی قبائل کو جوش دلا کر ایک زبردست فوج تیار کرلی تھی۔ پوران وخت نے ان تیاروں کا حال سنا تو اپنی فوج خاصہ میں سے بارہ ہزار جنگ آزمابہادر منتخب کرکے مہران بن مہرویہ کے ساتھ مجاہدین کے مقابلہ کے لیے روانہ کیے حیرہ کے قریب دونوں حریف صف آرا ہوئے، ایک شدید جنگ کے بعد عجمیوںمیں بھگدڑپڑگئی، مہران بن تغلب کے ایک نوجوان کے ہاتھ سے ماراگیا، مثنی نے پل کا راستہ روک دیا اور اتنے آدمیوں کو تہ تیغ کیا کہ کشتوں کے پشتے لگ گئے، اس فتح کےبعد مسلمان عراق کے تمام علاقوں میں پھیل گئے۔ حیرہ کے کچھ فاصلہ پر جہاں آج بغدادآباد ہے وہاں اسی زمانہ میں بہت بڑا بازارلگتا تھا، مثنی نے عین بازار کے دن حملہ کیا بازاری جان بچاکر بھاگ گئے اور بے شمار دولت مسلمانوں کے ہاتھ آئی، اسی طرح قرب وجوار کے مقامات میں مسلمانوں کی پیشقدمی شروع ہو گئی، سورا، کسکر، صراۃاورفلالیح وغیرہ پراسلامی پھر یرالہرانے لگا، پایہ تخت ایران میں یہ خبریں پہنچیں توایران قوم میں بڑا جوش وخروش پیدا ہو گیا، حکومت کا نظام بالکل بدل دیا، پوران وخت معزول کی گئی، یزد گردجوسولہ سالہ نوجوان اورخاندان کیانی کا تنہاوارث تھا تخت سلطنت پر بٹھادیا گیا، اعیان واکابرملک نے باہم متفق ومتحد ہوکر کام کرنے کا ارادہ کیا، تمام قلعے اورفوجی چھاؤنیوں کو مستحکم کر دیا گیا، اسی کے ساتھ کوشش کی گئی کہ مسلمانوں کے مفتوحہ مقامات میں بغاوت پھیلائی جائے، ان انتظامات سے سلطنت ایران میں نئی زندگی پیدا ہو گئی اورتمام مفتوحہ مقامات مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئے، مثنی مجبور ہوکر عرب کی سرحد میں ہٹ آئے اورربیعہ اورمضر کے قبائل کو جواطراف عراق میں پھیلے ہوئے تھے، ایک تاریخ معین تک علم اسلامی کے نیچے جمع ہونے کے لیے طلب کیا، نیز دربار خلافت کو اہل فارس کی تیاریوں سے مفصل طورپر مطلع کیا۔ عمرنے ایرانیوں کی تیاریوں کا حال سن کر حضرت سعدبن ابی وقاص ؓ کو جو بڑے رتبہ کے صحابی اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں تھے، بیس ہزار مجاہدین کے ساتھ مہم عراق کی تکمیل پر مامور کیا، اس فوج کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ اس میں تقریباً سترہ صحابی تھے جو سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدرمیں جوہر شجاعت دکھاچکےتھے، تین سووہ تھے جو فتح مکہ میں موجود تھے اور سات سو ایسے تھے جو خود صحابی نہ تھے ؛لیکن ان کی اولاد ہونے کا فخر رکھتے تھے۔ حضرت سعدبن ابی وقاص نے شراف پہنچ کر پڑاؤ کیا، مثنی آٹھ ہزار آدمیوں کے ساتھ مقام ذی قار میں اس عظیم الشان کمک کا انتظار کر رہے تھے کہ اس اثناء میں ان کا انتقال ہو گیا، اس لیے ان کے بھائی مغنی شراف آکر حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے ملے اور مثنی نے جو ضروری مشورے دیے تھے ان سے بیان کیے۔ عمرنے ایام جاہلیت میں نواح عراق کی سیاحت کی تھی اور وہ اس سرزمین کے چپہ چپہ سے واقف تھے اس لیے انہوں نے خاص طورپر ہدایت کردی تھی کہ فوج کا جہاں پڑاؤ ہووہاں کے مفصل حالات لکھ کر آپ کے پاس بھیجے جائیں؛چنانچہ سعد بن ابی وقاص ؓ نے اس مقام کا نقشہ، لشکر کا پھیلاؤ، فرودگاہ کی حالت اوررسد کی کیفیت سے ان کو اطلاع دی، اس کے جواب میں دربار خلافت سے ایک مفصل بیان آیا جس میں فوج کی نقل وحرکت حملہ کا بندوبست، لشکر کی ترتیب اورفوج کی تقسیم کے متعلق ہدایتیں درج تھیں، اسی کے ساتھ حکم دیا گیا کہ شراف سے بڑھ کر قادسیہ کو میدان کا رزار قراردیں اوراس طرح مورچے جمائیں کہ فارس کی زمین سامنے ہو اورعرب کا پہاڑ حفاظت کا کام دے۔ حضرت سعد ؓ نے دربار خلافت کی ہدایت کے مطابق شراف سے بڑھ کر قادسیہ میں مورچہ جمایا اورنعمان بن مقرن کے ساتھ چودہ نامور اشخاص کو منتخب کر کے دربار ایران میں سفیر بنا کر بھیجا کہ شاہ ایران اوراس کے رفقا کو اسلام کی ترغیب دیں ؛لیکن جو لوگ دولت وحکومت کے نشہ میں مخمور تھے، وہ خانہ بدوش عرب اوران کے مذہب کو کب خاطر میں لاتے چنانچہ سفارت گئی اورناکام واپس آئی۔ اس واقعہ کے بعد کئی مہینے تک دونوں طرف سے سکوت رہا، رستم ساٹھ ہزار کے فوج کے ساتھ ساباط میں پڑا تھا اوریزدگرد کی تاکید کے باوجود جنگ سے جی چرارہا تھا اور مسلمان آس پاس کے دیہات پر چڑھ جاتے تھے اور رسد کے مویشی وغیرہ حاصل کرلاتے تھے جب اس حالت نے طول کھینچا مجبور ہوکر رستم کو مقابلہ کے لیے بڑھنا پڑا، اورایرانی فوجیں ساباط سے نکل کر قادسیہ کے میدان میں خیمہ زن ہوئیں۔ رستم قادسیہ میں پہنچ کر بھی جنگ کو ٹالنے کی کوشش کرتارہا اورمدتوں سفراء کی آمدورفت اورنامہ وپیام کا سلسلہ جاری رکھا ؛لیکن مسلمانوں کا آخری اور قطعی جواب یہ ہوتا تھا کہ اگر اسلام یا جزیہ منظور نہیں ہے تو تلوار سے فیصلہ ہوگا، رستم جب مصالحت کی تمام تدبیروں سے مایوس ہو گیا تو سخت برہم ہوا اورقسم کھا کر کہا"آفتاب کی قسم!اب میں تمام عربوں کو ویران کردوں گا۔"

قادسیہ کی فیصلہ کن جنگ

اورغضب ناک ہوکر فوج کو کمر بندی کا حکم دے دیا اور خود تمام رات جنگی تیاریوں میں مصروف رہا، صبح کے وقت قادسیہ کا میدان عجمی سپاہیوں سے آدمیوں کا جنگل نظر آنے لگا جس کے پیچھے پیچھے ہاتھیوں کے کالے کالے پہاڑ عجیب خوفناک سماں پیداکر رہے تھے۔ دوسری طرف مجاہدین اسلام کا لشکرِجرارصف بستہ کھڑا تھا، اللہ اکبر کے نعروں سے جنگ شروع ہوئی، دن بھر ہنگامہ محشر برپارہا، شام کو جب تاریکی چھاگئی تو دونوں حریف اپنے اپنے خیموں میں واپس آئے، قادسیہ کا یہ پہلا معرکہ تھا اورعربی میں اس کو یوم الارماث کہتے ہیں۔ قادسیہ کی دوسری جنگ معرکہ اغواث کے نام سے مشہور ہے، اس معرکہ میں مہم شام کی چھ ہزار فوج عین جنگ کے وقت پہنچی اورعمرکے قاصد بھی جن کے ساتھ بیش قیمت تحائف تھے عین جنگ کے موقع پر پہنچے اورپکارکرکہا"امیر المومنین نے یہ انعام ان کے لیے بھیجا ہے جو اس کا حق ادا کریں"اس نے مسلمانوں کے جوش وخروش کو اور بھی بھڑکادیا تمام دن جنگ ہوتی رہی شام تک مسلمان دوہزار اورایرانی دس ہزار مقتول ومجروح ہوئے ؛لیکن فتح وشکست کا کچھ فیصلہ نہ ہوا۔ تیسرا معرکہ یوم العماس کے نام سے مشہور ہے، اس میں مسلمانوں نے سب سے پہلے کوہ پیکر ہاتھیوں سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی، کیونکہ ایرانیوں کے مقابلہ میں مجاہدین اسلام کو ہمیشہ اس کالی آندھی سے نقصان پہنچا تھا، اگرچہ قعقاع نے اونٹوں پر سیاہ جھول ڈال کر ہاتھی کا جواب ایجاد کرلیاتھا، تاہم یہ کالے دیو جس طرف جھک پڑتے تھے صف کی صف پس جاتی تھی، حضرت سعدبن ابی وقاص نےضخم وسلم وغیرہ پارسی نومسلموں سے اس سیاہ بلا کے متعلق مشورہ طلب کیا، انہوں نے کہا کہ ان کی آنکھیں اورسونڈ بیکارکردیئے جائیں، سعد ؓ نے قعقاع ؓ، جمال اورربیع کو اس خدمت پر مامور کیا، ان لوگوں نے ہاتھیوں کو نرغے میں لے لیا اور برچھے مار مار کر آنکھیں بیکار کر دیں، قعقاع ؓ نے آگے بڑھ کر پیل سفید کی سونڈ پر ایسی تلوار ماری کہ مستک الگ ہو گئی، جھر جھری لے کر بھاگا، اس کا بھاگنا تھا کہ تمام ہاتھی اس کے پیچھے ہولئے، اس طرح دم کے دم میں یہ سیاہ بادل چھٹ گیا۔ اب بہادروں کو حوصلہ افزائی کا موقع ملا، دن بھر ہنگامہ کارزارگرم رہا، رات کے وقت بھی اس کا سلسلہ جاری رہااور اس زورکارن پڑاکہ نعروں کی گرج سے زمین دہل اٹھتی تھی، اسی مناسبت سے اس رات کو لیلۃ الہریر کہتے ہیں، رستم پامردی اور استقلال کے ساتھ مقابلہ کرتا رہا؛لیکن آخر میں زخموں سے چورہوکر بھاگ نکلا اور ایک نہر میں کود پڑاکہ تیر کر نکل جائے گا، بلال نامی ایک مسلمان سپاہی نے تعاقب کیا اور ٹانگیں پکڑ کر نہر سے باہر کھینچ لایا اور تلوار سے کام تمام کر دیا، رستم کی زندگی کے ساتھ سلطنت ایران کی قسمت کا بھی فیصلہ ہو گیا، ایرانی سپاہیوں کے پاؤں اکھڑ گئے، مسلمانوں نے دورتک تعاقب کرکے ہزاروں لاشیں میدان میں بچھادیں۔ قادسیہ کے معرکوں نے خاندان کسریٰ کی قسمت کاآخری فیصلہ کر دیا، درفش کاریانی ہمیشہ کے لیے سرنگوں ہو گیا اور اسلامی حلم نہایت شان وشوکت کے ساتھ ایران کی سرزمین پر لہرانے لگا، مسلمانوں نے قادسیہ سے بڑھ کر آسانی کے ساتھ بابل، کوثی، بہرہ شیر اورخود نوشیروانی دار الحکومت مدائن پر قبضہ کر لیا، ایرانیوں نے مدائن سے نکل کر جلولا کو اپنا فوجی مرکز قراردیا، اس دوران میں رستم کے بھائی خرندانے حسن تدبیر سے ایک زبردست فوج جمع کرلی، سعد نے ہاشم بن عتبہ کو جلولا کی تسخیر پر مامور کیا، جلولا چونکہ نہایت مستحکم مقام تھا، اس لیے مہینوں کے محاصرہ کے بعد مفتوح ہوا، یہاں سے قعقاع ؓ کی سپردگی میں ایک جمعیت حلوان کی طرف بڑھی اورخسرووشنوم کو شکست دے کر شہر پر قابض ہو گیا۔ قعقاع ؓ حلوان میں قیام کیا اور عام منادی کرادی کہ جو لوگ اسلام یا جزیہ قبول کر لیں گے وہ مامون ومحفوظ رہیں گے، اس منادی پر بہت سے امرا اوررؤسا برضاورغبت اسلام میں آگئے یہ عراق کی آخری فتح تھی، کیونکہ یہاں اس کی حد ختم ہوجاتی ہے۔ تسخیر عراق کے بعد عمرکی دلی خواہش تھی کہ جنگ کا سلسلہ منقطع ہوجائے اور وہ فرمایا کرتے تھے کہ" کاش!ہمارے اورفارس کے درمیان میں آگ کا پہاڑ ہوتاکہ نہ وہ ہم پر حملہ کرسکتے نہ ہم ان پر چڑھ سکتے"لیکن ایرانیوں کو عراق سے نکل جانے کے بعد کسی طرح چین نہیں آتا تھا؛چنانچہ یزد گرد نے معرکہ جلول کےبعد مرو کو مرکزبناکر نئےسرے سے حکومت کے ٹھاٹھ لگائے اورتمام ملک میں فرامین ونقیب بھیج کر لوگوں کو عربوں کی مقاومت پر آمادہ کیا۔ یز گرد کے فرامین نے تمام ممالک میں آگ لگادی اورتقریباً ڈیڑھ لاکھ آدمیوں کا ٹڈی دل قم میں آکر مجتمع ہوا، یزدگردنے مروان شاہ کو سرلشکر مقرر کرکے نہادندکی طرف روانہ کیا، اس معرکہ میں درفش کاویانی جس کو عجم نہایت متبرک سمجھتے تھے، فال نیک کے خیال سے نکالاگیااورجب مروان شاہ روانہ ہوا تو یہ مبارک پھر یرا اس پر سایہ کرتا جاتا تھا۔ ایرانیوں کی ان تیاریوں کا حال سن کر عمرنے نعمان بن مقرن کو تیس ہزار کی جمعیت کے ساتھ اس ایرانی طوفان کو آگے بڑھنے سے روکنے کا حکم دیا نہاوند کے قریب دونوں کی فوجیں سرگرم پیکار ہوئیں اوراس زورکا رن پڑا کہ قادسیہ کے بعد ایسی خونزیز جنگ کوئی نہیں ہوئی تھی، یہاں تک کہ اس جنگ میں خود اسلامی سپہ سالارنعمانی ؓ شہید ہو گئے، ان کے بعد ان کے بھائی نعیم بن مقرن نے علم ہاتھ میں لے کر بدستور جنگ جاری رکھی اوررات ہوتے ہوتے عجمیوں کے پاؤں اکھڑ گئے، مسلمانوں نے ہمدان تک تعاقب کیا، اس لڑائی میں تقریباً ًتین ہزار عجمی کھیت رہے، نتائج کے لحاظ سے مسلمانوں نے اس کا نام "فتح الفتوح" رکھا، فیروز جس کے ہاتھ سے عمرکی شہادت مقدر تھی، اسی لڑائی میں گرفتار ہواتھا۔

عام لشکر کشی

واقعہ نہاوند کے بعد عمرکو خیال پیدا ہواکہ جب تک تخت کیانی کا وارث ایران کی سرزمین پر موجود ہے، بغاوت اورجنگ کا فتنہ فرونہ ہوگا، اس بنا پر عام لشکر کشی کا ارادہ کیا اوراپنے ہاتھ سے متعدد علم تیار کرکے مشہور افسروں کو دیے اور انہیں خاص خاص ممالک کی طرف روانہ کیا، چنانچہ؁ 21ھ میں یہ سب غازیان اسلام اپنے اپنے متعینہ ممالک کی طرف روانہ ہو گئے اور نہایت جوش وخروش سے حملہ کرکے تمام ممالک کو اسلام کازیرنگیں کردیااور صرف ڈیڑھ دو برس کے عرصہ میں کسریٰ کی حکومت نیست ونابود ہو گئی۔ خاندان کیانی کا آخری تاجدار ایران سے بھاگ کر خاقان کے دربار میں پہنچا، خاقان نے اس کی بڑی عزت وتوقیر کی اورایک فوج گراں کے ساتھ یزد گرد کو ہمراہ لے کر خراسان کی طرف بڑھااورخاقان نے احنف بن قیس کے مقابلہ میں صف آرائی کی ؛لیکن صفائی کے دوہی ہاتھ نے اس کے عزم واستقلال کو متزلز ل کر دیا اور اس کے ذہن نشین ہو گیا کہ ایسے بہادروں کو چھیڑنامصلحت نہیں؛چنانچہ اسی وقت کوچ کا حکم دے دیا اور اپنے حدود میں واپس چلا گیا۔ یزد گرد کوخاقان کے واپس جانے کی خبر ملی تو مایوس ہوکر خزانہ اورجواہرات ساتھ لیے ترکستان کا عزم کیا، درباریوں نے دیکھا کہ ملک کی دولت ہاتھ سے نکلی جاتی ہے تو روکا، اس نے نہ مانا تو مقابلہ کرکے تمام مال واسباب ایک ایک کرکے چھین لیا، یزد گردبے سروسامان خاقان کے پاس پہنچا اورخدا تعالی کی نافرمانی کے باعث مدتوں فرغانہ کی گلیوں میں خاک چھانتا رہا۔ "اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَاءُoوَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُo بِیَدِکَ الْخَیْرُ" "خدایا تو ہی ملکوں کا مالک ہے جس کو چاہتا ہے ملک دیتا ہے جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے، جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے ذلت دیتا ہے، ساری بھلائیاں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں۔" احنف نے بارگاہِ خلافت میں نامۂ فتح روانہ کیا، حضرت عمر فاروق ؓ نے تمام آدمیوں کو جمع کرکے یہ مژدہ جانفزاسنایا اورایک مؤثر تقریر کی، آخر میں فرمایا کہ آج مجوسیوں کی سلطنت برباد ہو گئی اور اب وہ کسی طرح اسلام کو نقصان نہیں پہنچا سکتے؛لیکن اگر تم بھی صراط مستقیم پر قائم نہ رہے تو خدا تعالی تم سے بھی حکومت چھین کر دوسروں کو دے دیگا۔

فتوحاتِ شام

ممالک شام میں سے اجنادین بصریٰ اور دوسرے چھوٹے چھوٹے مقامات عہد صدیقی میں فتح ہوچکے تھے، عمرمسند آرائے خلافت ہوئے تو دمشق محاصرہ کی حالت میں تھا، خالد سیف اللہ ؓ نےرجب 14 ھ میں اپنے حسن تدبیر سےاس کو مسخر کر لیا۔ رومی دمشق کی شکست سے سخت برہم ہوئے اور ہرطرف سے فوجیں جمع کرکے مقام بیسان میں مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے جمع ہوئے، مسلمانوں نے ان کے سامنے فحل میں پڑاؤڈالا، عیسائیوں کی درخواست پر معاذ بن جبل ؓ سفیر بن کر گئے؛لیکن مصالحت کی کوئی صورت نہ نکلی، آخر کار ذوقعدہ 14ھ میں فحل کے میدان میں نہایت خونزیز معرکے پیش آئے، خصوصاً آخری معرکہ نہایت سخت تھا، بالآخریہ میدان بھی مسلمانوں کے ہاتھ رہا[40]غنیم کے پاؤں اکھڑ گئے اور مسلمان اردن کے تمام شہر اورمقامات پر قابض ہو گئے، رعایا ذمی قراردی گئی اور ہرجگہ اعلان کر دیا گیاکہ"مقتولین کی جان ومال، زمین، مکانات، گرجے اور عبادت گاہیں سب محفوظ ہیں" دمشق اوراردن مفتوح ہوجانے کے بعد مسلمانوں نے حمص کا رخ کیا، راہ میں بعلبک، حماۃ، شیراز اورمعرۃ النعمان فتح کرتے ہوئے حمص پہنچے اور اس کا محاصرہ کر لیا، حمص والوں نے ایک مدت تک مدافعت کرنے کے بعد مصالحت کرلی سپہ سالار اعظم ابو عبیدہ ؓ نے عبادہ ابن صامت کو وہاں متعین کرکے لاذقیہ کا رخ کیا اور ایک خاص تدبیر سے اس کے مستحکم قلعوں پر قبضہ کر لیا۔ حمص کی فتح کے بعد اسلامی فوجوں نے ہر قل کے پایہ تخت انطاکیہ کا رخ کیا ؛لیکن بارگاہ خلافت سے حکم پہنچا کہ اس سال آگے بڑھنے کا ارادہ نہ کیاجائے، اس لیے فوجیں واپس آگئیں۔ [41]

میدان یرموک اور شام کی قسمت کا فیصلہ

دمشق، حمص اورلاذقیہ کی پیہم اورمتواتر ہزیمتوں نے قیصر کوسخت برہم کر دیا اوروہ نہایت جوش وخروش کے ساتھ مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے اپنی شہنشاہی کا پورازورصرف کرنے پر آمادہ ہوگیااورانطاکیہ میں فوجوں کا ایک طوفان امنڈآیا، حضرت ابو عبیدہ ؓ نے اس طوفان کو روکنے کے لیے افسروں کے مشورہ سے تمام ممالک مفتوحہ کو خالی کرکے دمشق میں اپنی قوت مجمتع کی اورذمیوں سے جو کچھ جزیہ وصول کیا گیا تھا سب واپس کر دیا گیا، [42] کیونکہ اب مسلمان ان کی حفاظت کرنے سے مجبور تھے اس واقعہ کا عیسائیوں اوریہودیوں پر اس قدر اثر ہوا کہ وہ روتے تھے اور جوش کے ساتھ کہتے تھے کہ خدا تم کو جلدواپس لائے۔ عمرکو مفتوحہ مقامات سے مسلمانوں کے ہٹ آنے کی خبر ملی تو پہلے وہ بہت رنجیدہ ہوئے ؛لیکن جب معلوم ہوا کہ تمام افسروں کی یہی رائے تھی تو فی الجملہ تسلی ہو گئی اور فرمایا خداکی اسی میں مصلحت ہوگی، سعید بن عامر ؓ کو ایک ہزار کی جمعیت کے ساتھ مدد کے لیے روانہ کیا اور قاصد کو ہدایت کی کہ خود ایک صف میں جاکر زبانی یہ پیغام پہنچانا: "الاعمر یقرئک الاسلام ویقول لکم یا اھل السلام اصدقوااللقاء وشدواعلیہم مثداللیوث ولیکونوااھون علیکم من الذر فاناقد علمنا انکم علیہم منصورون" ترجمہ: اے برادران اسلام! عمر ؓ نے بعد سلام کے تم کو یہ پیغام دیا ہے کہ پوری سرگرمی کے ساتھ جنگ کرو اوردشمنوں پر شیروں کی طرح اس طرح حملہ آور ہو کہ وہ تم کو چیونٹیوں سے زیادہ حقیر معلوم ہوں، ہم کو یقین کامل ہے کہ خدا کی نصرت تمہارے ساتھ ہے اورآخر فتح تمہارے ہاتھ ہے" اردن کی حدود میں یرموک کا میدان ضروریات جنگ کے لحاظ سے نہایت باموقع تھا، اس لیے ا س اہم معرکہ کے لیے اسی میدان کو منتخب کیا گیا، رومیوں کی تعداد دولاکھ تھی، اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کی تعداد صرف تیس بتیس ہزار تھی؛لیکن سب کے سب یگانۂ روزگارتھے، اس فوج کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ تقریباً ایک ہزار ایسے بزرگ تھے جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جمال مبارک دیکھا تھا، سو وہ تھے جو غزوہ بدر میں حضور خیر الانام صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرکاب رہ چکے تھے، عام مجاہدین بھی ایسے قبائل سے تعلق رکھتے تھے جواپنی شجاعت اورسپہ گری میں نظیر نہیں رکھتے تھے۔ یرموک کا پہلا معرکہ بے نتیجہ رہا، پانچویں رجب؁ 15ھ کو دوسرا معرکہ پیش آیا، رومیوں کے جوش کا یہ عالم تھا کہ تیس ہزار آدمیوں نے پاؤں میں بیڑیاں پہن لی تھیں کہ بھاگنے کا خیال تک نہ آئے، ہزاروں پادری اوربشپ ہاتھوں میں صلیب لیے آگے آگے تھے اور حضرت عیسی کا نام لے کر جوش دلاتے تھے، اس جوش واہتمام کے ساتھ رومیوں نے حملہ کیا، فریقین میں بڑی خونریز جنگ ہوئی ؛لیکن انجام کار مسلمانوں کی ثابت قدمی اورپامردی کے آگے ان کے پاؤں اکھڑگئے، تقریباً ایک لاکھ عیسائی کھیت رہے اور مسلمان کل تین ہزار کام آئے، قیصر کو اس ہزیمت کی خبر ملی تو حسرت وافسوس کے ساتھ شام کو الوداع کہہ کر قسطنطنیہ کی طرف روانہ ہو گیا، [43]حضرت عمر نے مژدہ فتح سنا تو اسی وقت سجدہ میں گرکر خداکا شکر اداکیا۔ فتح یرموک کے بعد اسلامی فوجیں تمام اطراف ملک میں پھیل گئیں اور قنسرین، انطاکیہ جومہ، سرمین، توزی، قورس، تل غرار، ولوک، رعیان وغیرہ چھوٹے چھوٹے مقامات نہایت آسانی کے ساتھ فتح ہو گئے۔

بیت المقدس

فسلطین کی مہم پر حضرت عمروبن العاص ؓ مامور ہوئے تھے، انہوں نے نابلس، لد، عمواس، بیت جبرین وغیرہ پر قبضہ کرکے؁ 6ھ میں بیت المقدس کا محاصرہ کیا، اس اثناء میں حضرت ابو عبیدہ ؓ بھی اس مہم سے فارغ ہوکر ان سے مل گئے، بیت المقدس کے عیسائیوں نے کچھ دنوں کی مدافعت کے بعد مصالحت پر آمادگی ظاہر کی اور اپنے اطمینان کے لیے یہ خواہش ظاہر کی کہ امیر المومنین خود یہاں آکر اپنے ہاتھ سے معاہدہ لکھیں، عمرکو اس کی خبردی گئی، انہوں نے اکابر صحابہ ؓ سے مشورہ کرکے حضرت علی ؓ کو نائب مقررکیا اوررجب؁ 16ھ میں مدینہ سے روانہ ہوئے۔ [44]

بیت المقدس کا سفر

حضرت عمرؓ کا یہ سفر نہایت سادگی سے ہوا، مقام جابیہ میں افسروں نے استقبال کیا اوردیر تک قیام کرکے بیت المقدس کا معاہدہ صلح ترتیب دیا، پھر وہاں سے روانہ ہوکر بیت المقدس میں داخل ہوئے، پہلے مسجد میں تشریف لے گئے پھر عیسائیوں کے گرجا کی سیر کی، نماز کا وقت ہوا تو عیسائیوں نے گرجا میں نمازپڑھنے کی اجازت دی ؛لیکن حضرت عمرؓ نے اس خیال سے کہ آئندہ نسلیں اس کو حجت قراردے کر مسیحی معبدوں میں دست اندازی نہ کریں، باہر نکل کر نماز پڑھی، [45] بیت المقدس سے واپسی کے وقت عمرنے تمام ملک کا دورہ کیا، سرحدوں کا معائنہ کرکے ملک کی حفاظت کا انتظام کیا اوربخیر وخوبی مدینہ واپس تشریف لائے۔

متفرق معرکے اورفتوحات

بیت المقدس کی فتح کے بعد بھی متفرق معرکہ پیش آئے، اہل جزیرہ کی مستعدی اورہر قل کی اعانت عیسائیوں نے دوبارہ حمص پر قبضہ کی کوشش کی ؛لیکن ناکام رہے، فلسطین کے اضلاع میں قیساریہ نہایت آباد اور پررونق شہرتھا، ؁ 13ھ میں عمروبن العاص ؓ نے اس پر چڑھائی کی، ؁ 18 ھ ء تک متواترحملوں کے باوجود فتح نہ ہو سکا، آخر؁ 18 ھ کے اخیر میں امیر معاویہ ؓ نے ایک یہودی کی مدد سے قلعہ پر قبضہ کر لیا اور شہر پر اسلامی پرچم لہرانے لگا، جزیرہ پر ؁ 16ھ میں عبد اللہ بن الغنم نے فوج کشی کی، تکریت کا ایک مہینہ تک محاصرہ رہا اورچوبیس دفعہ حملے ہوئے، آخر میں حسن تدبیر سے مسخر ہوا، باقی علاقوں کو عیاض بن غنم نے فتح کیا، اسی طرح ؁ 16ھ میں مغیرہ بن شعبہ نے خوزستان پر حملہ کیا، ؁ 17 ھ میں وہ معزول ہوئے اور ان کی جگہ حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ مقرر ہوئے، انہوں نے نئے سروسامان سے حملہ کیا اوراہواز، مناذر، سوس، رامہرز کوفتح کرتے ہوئے خوزستان کے صدر مقام شوسترکارخ کیا، یہ نہایت مستحکم اور قلعہ بند مقام تھا؛لیکن ایک شخص کی راہنمائی سے مسلمانوں نے تہ خانہ کی راہ سے گھس کر اس کو مسخر کر لیا، یہاں کا سردار ہر مزان گرفتار ہوکر مدینہ بھیجا گیا، وہاں پہنچ کر اس نے اسلام قبول کیا، [46] عمرنہایت خوش ہوئے، خاص مدینہ میں رہنے کی جازت دی اور دوہزار سالانہ مقرر کر دیا۔

فتوحات مصر

حضرت عمر وبن العاص ؓ نے بہ اصرار فاروق اعظم ؓ سے اجازت لے کر چار ہزار فوج کے ساتھ مصر پر حملہ کیا اورفرما، بلیبس، ام ونین وغیرہ کو فتح کرتے ہوئے فسطاط کے قلعہ کا محاصرہ کر لیا اورعمرکو امدادی فوج کے لیے لکھا، انہوں نے دس ہزار فوج اورچارافسر بھیجے، زبیر بن العوام ؓ، عبادہ بن صامت ؓ، مقدادبن عمر ؓ، سلمہ بن مخلد ؓ، حضرت عمر وبن العاص ؓ نےحضرت زبیرؓ کو ان رتبہ کےلحاظ سےافسربنایا سات مہینے کےبعد حضرت زبیر ؓ کی غیر معمولی شجاعت سے قلعہ مسخر ہوا اوروہاں سے فوجیں اسکندریہ کی طرف بڑھیں، مقام کربوں میں ایک سخت جنگ ہوئی، یہاں بھی عیسائیوں کو شکست ہوئی اور مسلمانوں نے اسکندریہ پہنچ کر دم لیا اورچند دنوں کے محاصرہ کے بعد اس کو بھی فتح کر لیا، عمرنے مژدۂ فتح سنا تو سجدہ میں گرپڑے اورخدا کا شکر اداکیا۔[47]فتح اسکندریہ کے بعد تمام مصر پر اسلام کا سکہ بیٹھ گیا اور بہت سے قبطی برضاو رغبت حلقہ بگوشہ اسلام ہوئے۔

شہادت

مغیرہ بن شعبہ ؓ کے ایک پارسی غلام فیروز نامی نے جس کی کنیت ابولولوتھی، عمرسے اپنے آقا کے بھاری محصول مقررکرنے کی شکایت کی، شکایت بے جا تھی، اس لیے عمرنے توجہ نہ کی، اس پر وہ اتنا ناراض ہوا کہ صبح کی نماز میں خنجر لے کر اچانک حملہ کر دیا اور متواتر چھ وار کیے، عمرزخم کے صدمے سے گرپڑے، اورحضرت عبدالرحمن بن عوف نے نماز پڑھائی۔ [48] یہ ایسا زخم کاری تھا کہ اس سے آپ جانبر نہ ہو سکے، لوگوں کے اصرار سے چھ اشخاص کو منصب خلافت کے لیے نامزد کیا کہ ان میں سے کسی ایک کو جس پر باقی پانچوں کا اتفاق ہوجائے اس منصب کے لیے منتخب کر لیا جائے، ان لوگوں کے نام یہ ہیں، علی ؓ، عثمان ؓ، زبیر ؓ، طلحہ ؓ، سعد بن ابی وقاص ؓ، عبدالرحمن بن عوف ؓ، اس مرحلہ سے فارغ ہونے کے بعد حضرت عائشہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن ہونے کی جازت لی۔ [49] اس کے بعد مہاجرین انصار، اعراب اوراہل ذمہ کے حقوق کی طرف توجہ دلائی اور اپنے بیٹے عبد اللہ ؓ کو وصیت کی کہ مجھ پر جس قدر قرض ہو اگروہ میرے متروکہ مال سے ادا ہو سکے تو بہتر ہے، ورنہ خاندان عدی سے درخواست کرنااور اگر ان سے نہ ہو سکے تو کل قریش سے ؛لیکن قریش کے سوا اورکسی کو تکلیف نہ دینا۔ سیدنا عمرؓ بن خطاب پر بدھ کے روز حملہ کیا گیا، اور جمعرات کے روز جان بحق نوش کرگئے۔ ابن اثیرؒ کے مطابق "سیدنا عمرؓ کی وفات ہوگئی تھی جبکہ ذی الحج کی چار راتیں باقی تھیں یعنی 26 ذی الحج کو، اور اتوار کے دن سیدنا عثمانؓ کی بیعت ہوگئی تھی جبکہ ذی الحج کی ایک رات باقی تھی، اسلئے صحیح یہی ہے کہ 26 یا 27 ذوالحجہ تاریخ شہادت ہے "

۔ [50][51]

فتوحات پراجمالی نظر

فتوحات کی جو تفصیل اوپر گزرچکی ہے اس سے تم کو معلوم ہواہوگا کہ مسلمانوں نے اپنے جوش، ثبات اوراستقلال کے باعث عمرکے دس سالہ عہد خلافت میں روم ایران کی عظیم الشان حکومتوں کا تختہ الٹ دیا ؛لیکن کیا تاریخ کوئی ایسی مثال پیش کرسکتی ہے کہ چند صحرا نشینوں نے اس قدر قلیل مدت میں ایسا اعظیم الشان انقلاب پیدا کردیاہو؟ بے شبہ سکندر، چنگیزاورتیمورنے تمام عالم کوتہ وبالا کر دیا؛لیکن ان کے فتوحات کو فاروق اعظم ؓ کی کشورستانی سے کوئی مناسبت نہیں، وہ لوگ ایک طوفان کی طرح اٹھے اورظلم وخونریزی کے مناظر دکھاتے ہوئے ایک طرف سے دوسری طرف کو گزرگئے، چنگیز اورتیمور کا حال تو سب کو معلوم ہے، سکندر کی یہ کیفیت ہے کہ اس نے ملک شام میں شہر صورفتح کیا تو ایک ہزار شہریوں کے سرکاٹ کر شہر پناہ کی دیوار پر لٹکادیئے اور تیس ہزار بے گناہ مخلوق کو لونڈی غلام بناکر بیچ ڈالا، اسی طرح ایران میں اصطخر کو فتح کیا تو تمام مردوں کو قتل کرادیا، برخلاف اس کے عمرکے فتوحات میں ایک واقعہ بھی ظلم وتعدی کا نہیں ملتا، فوج کی خاص طور پر ہدایت تھی کہ بچوں، بوڑھوں، عورتوں سے مطلق تعرض نہ کیا جائے، قتل عام تو ایک طرف، ہرے بھرے درختوں تک کاٹنے کی اجازت نہ تھی، مسلمان حکام مفتوحہ اقوام کے ساتھ ایسا عدل وانصاف کرتے تھے اوراس طرح اخلاق سے پیش آتے تھے کہ تمام رعایا ان کی گرویدہ ہوجاتی اوراسلام حکومت کو خدا کی رحمت تصور کرتی تھی، صرف یہی نہیں ؛بلکہ وہ لوگ جوش امتنان میں مسلمانوں کی اعانت ومساعدت سے دریغ نہیں کرتے تھے، فتوحات شام میں خود شامیوں نے جاسوسی اورخبررسانی کی خدمات انجام دیں، [52]حملہ مصر میں قبطیوں نے سفر مینا کا کام کیا، [53] اسی طرح عراق میں عجمیوں نے اسلامی لشکر کے لیے پل بندھوائے اورغنیم کے راز سے مطلع کرکے نہایت گراں قدرخدمات انجام دیں، ان حالات کی موجودگی میں عمرکے مقابلہ میں سکندر اورچنگیز جیسے سفاکوں کا نام لینا کس قدر بے موقع ہے، سکندر اورچنگیز کی سفاکیاں فوری فتوحات کے لیے مفید ثابت ہوئیں؛لیکن جس سلطنت کی بنیاد ظلم وتعدی پر ہوتی ہے وہ کبھی دیرپا نہیں ہوسکتی ہے؛چنانچہ ان لوگوں کی سلطنت قائم کی اس کی بنیاد عدل وانصاف اورمسالمت پر قائم ہوئی تھی، اس لیے وہ آج تیرہ سو برس کے بعد بھی اسی طرح ان کے جانشینوں کے قبضہ اقتدار میں موجود ہے۔ یورپین مورخین عہد فاروقی کے اس بدیع مثال کارنامے کی اہمیت کم کرنے کے لیے بیان کرتے ہیں کہ اس وقت فارس وروم کی دونوں سلطنتیں طوائف الملوکی اورمسلسل بدنظمیوں کے باعث اوج اقبال سے گزرچکی تھیں؛لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کی ایسی زیردست سلطنتیں بادشاہوں کے ادل بدل اورمعمولی اختلاف سے اس درجہ کمزور ہو گئی تھی کہ روم و ایران میں قسطنطین اعظم اورخرد پرویز کا جاہ و جلال نہ تھا، تاہم ان سلطنتوں کا عرب جیسی بے سروسامان قوم سے ٹکراکرپرزے پرزے ہوجانا دنیا کا عجیب وغریب واقعہ ہے اورہم کو اس کا راز ان سلطنتوں میں کمزوری میں نہیں ؛بلکہ اسلامی نظام خلافت اورخلیفہ وقت کے طرز عمل میں تلاش کرنا چاہیے۔

نظام خلافت

اسلام میں خلافت کا سلسلہ گوحضرت ابوبکر صدیق ؓ کے عہد سے شروع ہوا اور ان کے قلیل زمانہ خلافت میں بھی بڑے بڑے کام انجام پائے ؛لیکن منتظم اورباقاعدہ حکومت کا آغاز عمرکے عہد سے ہوا، انہوں نے نہ صرف قیصر وکسریٰ کی وسیع سلطنتوں کو اسلام کے ممالک محروسہ میں شامل کیا؛بلکہ حکومت وسلطنت کا باقاعدہ نظام بھی قائم کیا اوراس کو اس قدر ترقی دی کہ حکومت کے جس قدر ضروری شعبے ہیں، سب ان کے عہد میں وجود پزیر ہوچکے تھے؛لیکن قبل اس کے کہ ہم نظام حکومت کی تفصیل بیان کریں یہ بتانا ضروری ہے کہ اس حکومت کی ترکیب اورساخت کیاتھی؟ عمرکی خلافت جمہوری طرز حکومت سےمشابہ تھی، یعنی تمام ملکی وقومی مسائل مجلس شوریٰ میں پیش ہوکر طے پاتے تھے، اس مجلس میں مہاجرین وانصار ؓ کے منتخب اوراکابر اہل الرائے شریک ہوتے تھے اوربحث ومباحثہ کے بعد اتفاق آراء یا کثرت رائے سے تمام امور کا فیصلہ کرتے تھے، مجلس کے ممتاز اورمشہورارکان یہ ہیں: حضرت عثمان ؓ، حضرت علی ؓ، حضرت عبد اللہ بن عوف ؓ، حضرت معاذ بن جبل ؓ، حضرت ابی بن کعب ؓ، حضرت زید بن ثابت ؓ۔ [54] مجلس شوریٰ کے علاوہ ایک مجلس عام بھی تھی جس میں مہاجرین وانصار کے علاوہ تمام سرداران قبائل شریک ہوتے تھے، یہ مجلس نہایت اہم امور کے پیش آنے پر طلب کی جاتی تھی، ورنہ روز مرہ کے کاروبار میں مجلس شوریٰ کا فیصلہ کافی ہوتا تھا، ان دونوں مجلسوں کے سوا ایک تیسری مجلس بھی تھی جس کو ہم مجلس خاص کہتے ہیں، اس میں صرف مہاجرین صحابہ شریک ہوتے تھے۔ [55] مجلس شوریٰ کے انعقاد کا عام طریقہ یہ تھا کہ منادی"الصلاۃ جامعۃ" کا اعلان کرتا تھا لوگ مسجد میں جمع ہوجاتے تھے، اس کے بعد ہر ایک کی رائے دریافت کرتے تھے، [56] جمہوری حکومت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہرشخص کو اپنے حقوق کی حفاظت اوراپنی رائے کے علانیہ اظہار کا موقع دیا جائے، حاکم کے اختیارات محدود ہوں اور اس کے طریق عمل پر ہر شخص کو نکتہ چینی کا حق ہو، حضرت عمرؓ کی خلافت ان تمام امور کی جامع تھی، ہرشخص آزادی کے ساتھ اپنے حقوق کا مطالبہ کرتا تھا اورخلیفہ وقت اختیارات کے متعلق خود حضرت عمؓر نے متعدد موقعوں پرتصریح کردی تھی کہ حکومت کے لحاظ سے ان کی کیا حیثیت ہے، نمونہ کے لیے ایک تقریر کے چند فقرے درج ذیل ہیں: "وإنما أنا ومالكم كولي اليتيم إن استغنيت استعففت، وإن افتقرت أكلت بالمعروف، لكم علي أيها الناس خصال فخذوني بها، لكم علي أن لا أجتبي شيئا من خراجكم و مما أفاء اللہ عليكم إلا من وجهہ لكم علي إِذَا وقع فِي يدي أن لا يخرج مني إلا فِي حقہ ومالكم علي أن أزيد أعطياتكم وأرزاقكم إن شاء اللہ وأسد ثغوركم، ولكم علي أن لا ألقيكم فِي المهالك" [57] "مجھ کو تمہارے مال میں اسی طرح حق ہے جس طرح یتیم کے مال میں اس کے مربی کا ہوتا ہے، اگر میں دولتمندہوں گا تو کچھ نہ لوں گا اوراگر صاحب حاجت ہوں گا تواندازہ سے کھانے کے لیے لوں گا، صاحبو!میرے اوپر تمہارے متعدد حقوق ہیں جن کا تم کو مجھ سے مواخذہ کرنا چاہیے، ایک یہ کہ ملک کا خراج اورمال غنیمت بے جاطورپر صرف نہ ہونے پائے، ایک یہ کہ تمہارے روز ینے بڑھاؤں اورتمہاری سرحدوں کو محفوظ رکھوں اوریہ کہ تم کو خطروں میں نہ ڈالوں۔" مذکورہ بالاتقریر صرف دلفریب خیالات کی نمائش نہ تھی ؛بلکہ عمرنہایت سختی کے ساتھ اس پر عامل بھی تھے، واقعات اس کی حرف بحرف تصدیق کرتے ہیں، ایک دفعہ حضرت حفصہ ؓ آپ کی صاحبزادی اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ یہ خبر سن کر کہ مال غنیمت آیا ہے، عمرکے پاس آئیں اورکہا کہ امیر المومنین !میں ذوالقربی میں سے ہوں، اس لیے اس مال میں سے مجھ کو بھی عنایت کیجئے، عمرنے جواب دیا کہ"بے شک تم میرے خاص مال میں حق رکھتی ہو؛لیکن یہ تو عام مسلمانوں کا مال ہے، افسوس ہے کہ تم نے اپنے باپ کو دھوکا دینا چاہا، وہ بے چاری خفیف ہوکر چلی گئیں، [58] ایک دفعہ خود بیمار پڑے لوگوں نے علاج میں شہد تجویز کیا، بیت المال میں شہد موجود تھا ؛لیکن بلا اجازت نہیں لے سکتے تھے، مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جاکر لوگوں سے کہا کہ"اگر آپ اجازت دیں تو تھوڑا ساشہد لے لوں" [59] ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں جب عمرکی احتیاط کا یہ حال تھا تو ظاہر ہے کہ مہمات امور میں وہ کسی قدر محتاط ہوں گے۔ عمرنے لوگوں کو احکام پر نکتہ چینی کرنے کی ایسی عام آزادی دی تھی کہ معمولی سے معمولی آدمیوں کو خود خلیفۂ وقت پر اعتراض کرنے میں باک نہیں ہوتا تھا، ایک موقع پر ایک شخص نے کئی بار عمرکو مخاطب کرکے کہا"اتق اللہ یاعمر"[60]حاضرین میں سے ایک شخص نے اس کو روکنا چاہا، عمرنے فرمایا"نہیں کہنے دو، اگریہ لوگ نہ کہیں گے تو یہ بے مصرف ہیں اورہم نہ مانیں تو ہم"یہ آزادی صرف مردوں تک محدود نہ تھی؛بلکہ عورتیں بھی مردوں کے قدم بہ قدم تھیں۔ ایک دفعہ عمرمہر کی مقدار کے متعلق تقریر فرما رہے تھے، ایک عورت نے اثنا ئے تقریر ٹوک دیا اورکہا"اتق اللہ یاعمر!"یعنی اے عمر ؓ !خدا سے ڈر!اس کا اعتراض صحیح تھا عمرنے اعتراف کے طورپر کہا کہ ایک عورت بھی عمر ؓ سے زیادہ جانتی ہے، حقیقت یہ ہے کہ آزادی اورمساوات کی یہی عام ہوا تھی جس نے عمرکی خلافت کو اس درجہ کامیاب کیا اور مسلمانوں کو جوش استقلال اورعزم وثبات کا مجسم پتلا بنادیا۔ خلافت فاروقی کی ترکیب اورساخت بیان کرنے کے بعد اب ہم انتظامات ملکی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور دکھانا چاہتے ہیں کہ فاروق اعظم نے اپنے عہد مبارک میں خلافت اسلامیہ کو کس درجہ منظم اورباقاعدہ بنادیا تھا اور کس طرح حکومت کی ہرشاخ کو مستقل محکمہ کی صورت میں قائم کر دیا تھا۔ نظام حکومت کے سلسلہ میں سب سے پہلا کام ملک کا صوبوں اورضلعوں میں تقسیم ہے، اسلام میں سب سے پہلے حضرت عمرؓ نے اس کی ابتدا کی اور تمام ممالک مفتوحہ کو آٹھ صوبوں پر تقسیم کیا، مکہ، مدینہ، جزیرہ، بصرہ، کوفہ، مصر، فلسطین، ان صوبوں کے علاوہ تین صوبے اورتھے، خراسان، آذربائیجان، فارس، ہر صوبہ میں مفصلہ ذیل بڑے بڑے عہدہ دار رہتے تھے، والی یعنی حاکم صوبہ، کاتب یعنی میر منشی، کاتب دیوان یعنی فوجی محکمہ کا میر منشی، صاحب الخراج عینی کلکٹر، صاحب احداث یعنی افسر پولیس، صاحب بیت المال، یعنی افسر خزانہ، قاضی یعنی جج چنانچہ کوفہ میں عماربن یاسر ؓ والی، عثمان بن حنیف ؓ کلکٹر، عبد اللہ بن مسعود ؓ افسر خزانہ، شریح ؓ قاضی اور عبد اللہ بن خزاعی کاتب دیوان تھے۔ [61] بڑے بڑے عہدہ داروں کا انتخاب عموماً مجلس شوریٰ میں ہوتا تھا، عمرکسی لائق راستباز اورمتدین شخص کا نام پیش کرتے تھے، اورچونکہ عمرمیں جوہر شناسی کا مادہ فطرتا تھا اس لیے ارباب مجلس عموما ان کے حسن انتخاب کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور اس شخص کے تقرر پر اتفاق رائے کرلیتے تھے؛چنانچہ نہاوند کی عظیم الشان مہم کے لیے نعمان بن مقرن کا اسی طریقہ سے انتخاب ہواتھا۔ [62]

احتساب

خلیفہ وقت کا سب سے بڑا فرض حکام کی نگرانی اورقوم کے اخلاق وعادات کی حفاظت ہے، عمراس فرض کو نہایت اہتمام کے ساتھ انجام دیتے تھے، وہ اپنے ہر عامل سے عہد لیتے تھے کہ ترکی گھوڑے پر سوارنہ ہوگا، باریک کپڑے نہ پہنےگا، چھنا ہوا آٹانہ کھائے گا، دروازہ پر دربان نہ رکھے گا، اہل حاجت کے لیے دروازہ ہمیشہ کھلا رکھے گا، [63]اسی کے ساتھ اس کے مال واسباب کی فہرست تیارکراکے محفوظ رکھتے تھے اورجب کسی عامل کی مالی حالت میں غیر معمولی اضافہ کا علم ہوتا تھا تو جائزہ لے کر آدھا مال بٹالیتے تھے[64] اور بیت المال میں داخل کردیتے تھے، ایک دفعہ بہت سےعمال اس بلا میں مبتلا ہوئے، خالد بن صعق نے اشعار کے ذریعہ سے عمرکو اطلاع دی، انہوں نے سب کی املاک کا جائز ہ لے کر آدھا آدھا مال بٹالیا اور بیت المال میں داخل کر لیا، موسم حج میں اعلان عام تھا جس عامل سے کسی کو شکایت ہو وہ فورا بارگاہ خلافت میں پیش کرے، [65]چنانچہ ذراذرا سی شکایتیں پیش ہوتی تھیں اور تحقیقات کے بعد اس کا تدارک کیاجاتا تھا۔ ایک دفعہ ایک شخص نے شکایت کی کہ آپ کے فلاں عامل نے مجھ کو بے قصور کوڑے مارے ہیں، عمرنے مستغیث کو حکم دیا کہ وہ مجمع عام میں اس عامل کو کوڑے لگائے، حضرت عمروبن العاص ؓ نے التجا کی کہ عمال پر یہ امر گراں ہوگا، عمرنے فرمایا کہ یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ میں ملزم سے انتقام نہ لوں، عمروبن العاص ؓ نے منت سماجت کرکے مستغیث کوراضی کیا کہ ایک ایک تازیا نے کے عوض دو دو اشرفیاں لے کر اپنے حق سے بازآئے۔ [66] حضرت خالد سیف اللہ جو اپنی جانبازی اورشجاعت کے لحاظ سے تاج اسلام کے گوہر شاہوار اوراپنے زمانہ کے نہایت ذی عزت اور صاحب اثر بزرگ تھے محض اس لیے معزول کر دیے گئے کہ انہوں نے ایک شخص کو انعام دیا تھا، عمرکو خبر ہوئی تو انہوں نے حضرت ابو عبیدہ ؓ سپہ سالار اعظم کو لکھا کہ خالد ؓ نے یہ انعام اپنی گرہ سے دیا تو اسراف کیا اور بیت المال سے دیا تو خیانت کی، دونوں صورت میں وہ معزولی کے قابل ہیں۔ [67] حضرت ابوموسی اشعری ؓ جو بصرہ کے گورنر تھے، شکایتیں گزریں کہ انہوں نے اسیران جنگ میں سے ساٹھ رئیس زادے منتخب کرکے اپنے لیے رکھ چھوڑے ہیں اور کاروبار حکومت زیاد بن سفیان کے سپر د کررکھا ہے اوریہ کہ ان کے پاس ایک لونڈی ہے جس کو نہایت اعلیٰ درجہ کی غذا بہم پہنچائی جاتی ہے جو عام مسلمانوں کو میسر نہیں آسکتی، عمرنے ابو موسیٰ اشعری سے مواخذہ کیا تو انہوں نے دو اعتراضوں کا جواب تشفی بخش دیا، لیکن تیسری شکایت کا کچھ جواب نہ دے سکے؛چنانچہ لونڈی ان کے پاس سے لے لی گئی۔ [68] حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے کوفہ میں ایک محل تعمیر کرایا جس میں دیوڑھی بھی تھی، عمرنے اس خیال سے کہ اہل حاجت کو رکاؤ ہوگا محمد بن مسلمہ ؓ کو حکم دیا کہ جاکر ڈیوڑھی میں آگ لگادیں ؛چنانچہ اس حکم کی تعمیل ہوئی اورحضرت سعد بن ابی وقاص ؓ خاموشی سے دیکھتے رہے۔ [69] عیاض بن غنم عامل مصر کی نسبت شکایت پہنچی کہ وہ باریک کپڑے پہنتے ہیں اور ان کے دروازہ پر دربان مقرر ہے، عمرنے محمد بن مسلمہ ؓ کو تحقیقات پر مامور کیا، محمد بن مسلمہ ؓ نے مصر پہنچ کر دیکھا تو واقعی دروازہ پر دربان تھا اورعیاض باریک کپڑے پہنے ہوئے تھے، اس ہیئت اورلباس کے ساتھ لے کر مدینہ آئے، عمرنے ان کا باریک کپڑا اتراوادیا اوربالوں کا کرتا پہنا کر جنگل میں بکری چرانے کا حکم دیا، عیاض ؓ کو انکارکی مجال نہ تھی، مگر باربار کہتے تھے، اس سے مرجانا بہتر ہے، عمرنے فرمایا کہ یہ تو تمہارا آبائی پیشہ ہے، اس میں عار کیوں ہے؟ عیاض نے دل سے توبہ کی اورجب تک زندہ رہے اپنے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیتے رہے۔ [70] حکام کے علاوہ عام مسلمانوں کی اخلاقی اورمذہبی نگرانی کا خاص اہتمام تھا، عمرجس طرح خود اسلامی اخلاق کا مجسم نمونہ تھے، چاہتے تھے کہ اسی طرح تمام قوم مکارم اخلاق سے آراستہ ہوجائے، انہوں نے عرب جیسی فخار قوم سے فخروغرور کی تمام علامتیں مٹادیں، یہاں تک کہ آقا اورنوکر کی تمیز باقی نہ رہنے دی، ایک دن صفوان بن امیہ نے ان کے سامنے ایک خوان پیش کیا، عمرنے فقیروں اورغلاموں کو ساتھ بٹھا کر کھانا کھلایا اورفرمایا کہ خدا ان لوگوں پر لعنت کرے جن کو غلاموں کے ساتھ کھانے میں عار آتا ہے۔ [71] ایک دفعہ حضرت ابی بن کعب ؓ جو بڑے رتبہ کے صحابی تھے، مجلس سے اٹھتے تو لوگ ادب اور تعظیم کے خیال سے ساتھ ساتھ چلتے اتفاق سے عمرآنکلے، یہ حالت دیکھ کر ابی بن کعب ؓ کودرہ لگایا، ان کو نہایت تعجب ہوا اور کہا خیر تو ہے؟ عمرنے فرمایا: اوما تری فتنۃ للمتبوع ومذلۃ للتابع۔ [72] "تمہیں معلوم نہیں ہے کہ یہ امر متبوع کے لیے فتنہ اورتابع کے لیے ذلت ہے"۔ شعر وشاعری کے ذریعہ ہجووبدگوئی عرب کا عام مذاق تھا، عمرنے نہایت سختی سے اس کو بندکردیا، حطیہ اس زمانہ کا مشہور ہجوگوئی شاعرتھا، عمرنے اس کو قید کر دیا اورآخر اس شرط پر رہا کیا کہ پھر کسی کی ہجو نہیں لکھے گا، [73]ہواپرستی، رندی اورآوارگی کی نہایت شدت سے روک تھا م کی، شعرا کو عشقیہ اشعارمیں عورتوں کا نام لینے سے قطعی طورپر منع کر دیا، شراب خوری کی سزاسخت کردی، چالیس درے سے اسی درے کر دیے۔ عمرکو اس کا بڑا خیال تھا کہ لوگ عیش پرستی اور تنعم کی زندگی میں مبتلا ہو کر سادگی کے جوہر سےخالی نہ ہوجائیں، افسروں کو خاص طور پر عیسائیوں اورپارسیوں کے لباس اورطرز معاشرت کے اختیا ر کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے، سفر شام میں مسلمان افسروں کے بدن پر حریر دیباکے حلے اورپرتکلف قبائیں دیکھ کر اس قدر خفا ہوئے کہ ان کو سنگریز ےمارے اورفرمایا تم اس وضع میں میرا استقبال کرتےہو۔ [74] مسلمانوں کواخلاق ذمیمہ سے باز رکھنے کے ساتھ ساتھ مکارم اخلاق کی بھی خاص طورپر تعلیم دی، مساوات اورعزت نفس کا خاص خیال رکھتے تھے اور تمام عمال کو ہدایت تھی کہ مسلمانوں کو مارانہ کریں اس سے وہ ذلیل ہو جائیں گے۔ [75]

ملکی نظم ونسق

شام وایران فتح ہواتو لوگوں کی رائے ہوئی کہ مفتوحہ علاقے امرائے فوج کی جاگیر میں دے دیے جائیں، حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کہتے تھے کہ جن کی تلواروں نے ملک فتح کیا ہے ان ہی کا قبضہ بھی حق ہے، حضرت بلال ؓ کو اس قدر اصرار تھا کہ عمرنے دق ہوکر فرمایا"اللہم اکفنی بلالا" لیکن خود عمرکی رائے تھی کہ زمین حکومت کی ملک اورباشندوں کے قبضہ میں رہنے دی جائے، حضرت علی ؓ، حضرت عثمان ؓ، اورحضرت طلحہ ؓ بھی عمرکے ہم آہنگ تھے، غرض مجلس عام میں مسئلہ پیش ہوا اوربحث ومباحثہ کےبعد فاروق اعظم ؓ کی رائے پر فیصلہ ہوا۔ [76] عراق کی پیمائش کرائی، قابل زراعت اراضی کا بندوبست کیا، عشروخراج کا طریقہ قائم کیا، عشرکا طریقہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اورحضرت صدیق ؓ کے زمانہ میں جاری ہوچکا تھا ؛لیکن خراج کا طریقہ اس قدر منضبط نہیں ہواتھا، اسی طرح شام ومصر میں بھی لگان تشحیص کیا ؛لیکن وہاں کا قانون ملکی حالات کے لحاظ سےعراق سے مختلف تھا، تجارت پر عشر یعنی چنگی لگائی گئی، اسلام میں یہ خاص عمرکی ایجاد ہے اور اس کی ابتدایوں ہوئی کہ مسلمان جو غیر ممالک میں تجارت کے لیے جاتے تھے ان کو دس فیصد ٹیکس دینا پڑتا تھا، عمرکو معلوم ہوا تو انہوں نے بھی غیر ملکی مال پر ٹیکس لگادیا، اسی طرح تجارتی گھوڑوں پر بھی زکوٰۃ خاص عمرکے حکم سے قائم کی ورنہ گھوڑے مستثنی تھے، اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ نعوذ باللہ عمرنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی ؛بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو الفاظ فرمائے تھے اس سے بظاہر سواری کے گھوڑے مفہوم ہوتے ہیں، اس لیے تجارت کے گھوڑے مستثنی کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ حضرت عمرؓ نے تمام ملک میں مردم شمار کرائی، اضلاع میں باقاعدہ عدالتیں قائم کیں، محکمۂ قضا کے لیے اصول وقوانین بنائے، قاضیوں کی بیش قرار تنخواہیں مقرر کیں تاکہ یہ لوگ رشوت ستانی سے محفوظ رہیں؛چنانچہ سلمان ؓ، ربیعہ ؓ اورقاضی شریح ؓ کی تنخواہیں پانچ پانچ سودرہم ماہانہ تھی۔ [77] اور امیر معاویہ ؓ کی تنخواہ ایک ہزار دینار تھی، [78] حل طلب مسائل کے لیے شعبہ افتاء قائم کیا، حضرت علی ؓ، حضرت عثمان ؓ، حضرت معاذبن جبل ؓ، حضرت عبد اللہ بن عوف ؓ، حضرت ابی بن کعب ؓ، حضرت زید بن ثابت ؓ اور حضرت ابودرداءؓ اس شعبے کے ممتاز رکن تھے۔ ملک میں امن وامان قائم رکھنے کے لیے عمرنے احداث یعنی پولیس کا محکمہ قائم کیا، اس کے افسر کانام "صاحب الاحداث" تھا، حضرت ابوہریرہ ؓ کو بحرین کا صاحب الاحداث بنادیا تو ان کو خاص طورپر ہدایت کی کہ امن وامان قائم رکھنے کے علاوہ احتساب کی خدمت بھی انجام دیں، احتساب کے متعلق جو کام ہیں، مثلاً دکان دار ناپ تول میں کمی نہ کریں، کوئی شخص شاہراہ پر مکان نہ بنائے، جانوروں پر زیادہ بوجھ نہ لادا جائے، شراب علانیہ نہ بکنے پائے، اس قبیل کے اوربہت سے امور کی نگرانی کا جن کا تعلق پبلک مفاد اور احترام شریعت سے تھا اور پورا انتظام تھا اورصاحبان احداث (افسران پولیس) اس خدمت کو انجام دیتے تھے۔ عہد فاروقی سے پہلے عرب میں جیل خانوں کا نام ونشان نہ تھا، عمرنے اول مکہ معظمہ میں صفوان بن امیہ کا مکان چارہزار درہم پر خریدکر اس کو جیل خانہ بنایا، [79] پھر اور اضلا ع میں بھی جیل خانے بنوائے، جلاوطنی کی سزا بھی عمرہی کی ایجاد ہے؛چنانچہ ابو محجن ثقفی کو بار بار شراب پینے کے جرم میں ایک جزیرہ میں جلاوطن کر دیا تھا۔ [80]

بیت المال

خلافت فاروقی سے پہلے مستقل خزانہ کاوجود نہ تھا ؛بلکہ جو کچھ آتا اسی وقت تقسیم کر دیا جاتا تھا، ابن سعد ؓ کی ایک روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے ایک مکان بیت المال کے لیے خاص کر لیا تھا ؛لیکن وہ ہمیشہ بند پڑارہتا تھا اوراس میں کچھ داخل کرنے کی نوبت ہی نہیں آتی تھی؛چنانچہ ان کی وفات کے وقت بیت المال کا جائزہ لیا گیا تو صرف ایک درہم نکلا۔ عمرنے تقریبا؁ 15ھ میں ایک مستقبل خزانہ کی ضرورت محسوس کی اور مجلسِ شوریٰ کی منظوری کے بعد مدینہ منورہ میں بہت بڑاخزانہ قائم کیا، دار الخلافہ کے علاوہ تمام اضلاع اورصوبہ جات میں بھی اس کی شاخیں قائم کی گئیں اور ہر جگہ اس محکمہ کے جداگانہ افسر مقرر ہوئے، مثلاً اصفہان میں خالد بن حارث ؓ اورکوفہ میں عبد اللہ بن مسعود خزانہ کے افسر تھے، صوبہ جات اوراضلاع کے بیت المال میں مختلف آمدنیوں کی جو رقم آتی تھی وہ وہاں کے سالانہ مصارف کے بعد اختتام سال پر صدر خزانہ یعنی مدینہ منورہ کے بیت المال میں منتقل کردی جاتی تھی، صدر بیت المال کی وسعت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ دار الخلافہ کے باشندوں کی جو تنخواہیں اوروظائف مقرر تھے، صرف اس کی تعداد تین کروڑ درہم تھی، بیت المال کے حساب کتاب کے لیے مختلف رجسٹرڈ بنوائے، اس وقت تک کسی مستقل سنہ کا عرب میں رواج نہ تھا، عمرنے؁ 16ھ میں سنہ ہجری ایجاد کرکے یہ کمی بھی پوری کردی۔

تعمیرات

اسلام کا دائرہ حکومت جس قدر وسیع ہوتا گیا، اسی قدر تعمیرات کا کام بھی بڑھتا گیا، عمرکے عہد میں اس کے لیے کوئی مستقل صیغہ نہ تھا تاہم صوبہ جات کے عمال اورحکام کی نگرانی میں تعمیرات کا کام نہایت منتظم اوروسیع طورپر جاری تھا، ہر جگہ حکام کے بودوباش کے لیے سرکاری عمارتیں تیار ہوئیں، رفاہ عام کے لیے سڑک، پل اورمسجدیں تعمیر کی گئیں، فوجی ضروریات کے لحاظ سے قلعے چھاؤنیاں اوربارکیں تعمیر ہوئیں، مسافروں کے لیے مہمان خانے بنائے گئے، خزانہ کی حفاظت کے لیے بیت المال کی عمارتیں تیار ہوئیں، عمرتعمیرات کے باب میں نہایت کفایت شعار تھے ؛لیکن بیت المال کی عمارتیں عموما ًشاندار اورمستحکم بنواتے تھے؛چنانچہ کوفہ کے بیت المال کو روزبہ نامی ایک مشہور مجوسی معمار نے بنایا تھا اوراس میں خسر وان فارس کی عمارت کا مسالحۃ استعمال کیا گیا تھا۔ [81] مکہ معظمہ اورمدینہ منورہ میں جو خاص تعلق ہے اس کے لحاظ سے ضروری تھا کہ ان دونوں شہروں کے درمیان میں راستہ سہل اور آرام دہ بنایا جائے، عمرنے؁ 17ھ میں اس کی طرف توجہ کی اورمدینہ سے لے کر مکہ معظمہ تک ہر ہر منزل پر چوکیاں، سرائیں اورچشمے تیار کرائے۔[82]ترقی زراعت کے لیے تمام ملک میں نہریں کھدوائی گئیں، بعض نہریں ایسی تھیں جن کا تعلق زراعت سے نہ تھا، مثلاً نہر ابی موسیٰ جو محض بصرہ والوں کے لیے شیریں پانی بہم پہنچانے کے خیال سے دجلہ کو کاٹ کر لائی گئی تھی، یہ نہر نو میل لمبی تھی، [83]اسی طرح نہر معقل جس کی نسبت عربی ضرب المثل ہے اذاجاء نھر اللہ بطل نھرا لمعقل، [84] حضرت سعد بن ابی وقاص گورنر کوفہ نے بھی ایک نہر تیار کرائی جو سعد بن عمرو بن حرام کے نام سے مشہور ہوئی، (ایضاً 383)اس سلسلہ میں سب سے بڑی اور فائدہ رساں وہ نہر تھی جو نہر امیر المومنین کے نام سے مشہور ہوئی جس کے ذریعہ سے دریائے نیل کو بحیرہ قلزم سے ملادیا گیاتھا۔ [85]

مستعمرات

مسلمان جب عرب کی گھاٹیوں سے نکل کر شام وایران کے چمن زار میں پہنچے تو ان کو یہ ممالک ایسے خوش آئندنظر آئے کہ انہوں نے وطن کو خیرباد کہہ کر یہیں طرح اقامت ڈال دی اور نہایت کثر ت سے نوآبادیاں قائم کیں، عمرکے عہد میں جو شہر آباد ہوئے ان کی ایک اجمالی فہرست درج ذیل ہے۔

بصرہ

؁ 14ھ میں عتبہ بن غزوان نے عمرکے حکم سے اس شہر کو بسایا تھا، ابتدا میں صرف آٹھ سو آدمیوں نے یہاں سکونت اختیار کی ؛لیکن اس کی آبادی بہت جلد ترقی کر گئی، یہاں تک کہ زیاد بن ابی سفیان کے عہد امارت میں صرف ان لوگوں کی تعداد جن کے نام فوجی اندراج میں درج تھے اسی ہزار اوران کی آل واولاد کی ایک لاکھ بیس ہزار تھی، بصرہ اپنی علمی خصوصیات کے لحاظ سے مدتوں مسلمانوں کا مایہ ناز شہر رہا ہے۔

کوفہ

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے امیر المومنین کے حکم سے عراق کے قدیم عرب فرمانروا نعمان بن منذر کے پایہ تخت کو آباد کیا اور اس میں چالیس ہزار آدمیوں کی آبادی کے لائق مکانات بنوائے گئے، عمرکو اس شہر کے بسانے میں غیر معمولی دلچسپی تھی، شہر کے نقشہ کے متعلق خود ایک یادداشت لکھ بھیجی، اس میں حکم تھا کہ شارع ہائے عام چالیس چالیس ہاتھ چوڑی رکھی جائیں، اس سے کم کی مقدار 30 ، 30 ہاتھ اور 20 ، 20 ہاتھ سے کم نہ ہو، جامع مسجد کی عمارت اس قدر وسیع بنائی گئی تھی کہ اس میں چالیس ہزار آدمی آسانی سے نماز ادا کرسکتے تھے، [86] مسجد کے سامنے دوسوہاتھ لمبا ایک وسیع سائبان تھا جو سنگ رخام کے ستونوں پر قائم کیا گیا تھا، یہ شہر عمرہی کے عہد میں اس عظمت و شان کو پہنچ چکا تھا کہ وہ اس کو راس اسلام فرمایا کرتے تھے، علمی حیثیت سے بھی ہمیشہ ممتاز رہا ہے، امام نخعی، حماد، امام ابو حنیفہ اورامام شعبی اسی معدن کے لعل وگوہر تھے۔

فسطاط

دریائے نیل اور جبل مقطم کے درمیان میں ایک کف دست میدان تھا، حضرت عمرو بن العاص ؓ فاتح مصر نے اثنائے جنگ میں یہاں پڑاؤ کیا، اتفاق سے ایک کبوتر نے ان کے خیمہ میں گھونسلا بنالیا، عمروبن العاص ؓ نے کوچ کے وقت قصدا اس خیمہ کو چھوڑدیا کہ اس مہمان کو تکلیف نہ ہو مصر کی تسخیر کے بعد انہوں نے عمرکے حکم سے اسی میدان میں ایک شہر آبادکیا، چونکہ خیمہ کو عربی میں فسطاط کہتے ہیں، اس لیے اس شہر کا نام فسطاط قرارپایا، [87]فسطاط نے بہت جلد ترقی کرلی اورپورے مصر کا صدر مقام ہو گیا، چوتھی صدی کا ایک سیاح ان الفاظ میں اس شہر کے عروج وکمال کا نقشہ کھینچتا ہے: "یہ شہر بغداد کا ناسخ، مغرب کا خزانہ اوراسلام کا فخر ہے، دنیائے اسلام میں یہاں سے زیادہ کسی جامع مسجد میں علمی مجلسیں نہیں ہوتی ہیں، نہ یہاں سے زیادہ کبھی ساحل پر جہاز لنگر انداز ہوتے ہیں۔"

موصل

یہ پہلےایک گاؤں کی حیثیت رکھتا تھا، عمرنے اس کو ایک عظیم الشان شہر بنادیا۔ ہرثمہ بن عرفجہ نے بنیاد رکھی اورایک جامع مسجد تیار کرائی اورچونکہ یہ مشرق ومغرب کو آپس میں ملاتا ہے اس لیے اس کا نام موصل رکھا گیا۔

جیزہ

فتح اسکندریہ کے بعد عمروبن العاص ؓ اس خیال سے کہ رومی دریا کی سمت سے حملہ نہ کرنے پائیں، تھوڑی سی فوج لب ساحل مقرر کردی تھی، ان لوگوں کو دریا کا منظر ایسا پسند آگیا کہ وہاں سے ہٹنا پسند نہ کیا، عمرنے ان لوگوں کی حفاظت کے لیے؁ 21ھ میں ایک قلعہ تعمیر کرادیا اور اس وقت سے یہاں ایک مستقل نوآبادی کی صورت پیدا ہو گئی۔ [88]

فوجی انتظامات

اسلام جب رومن امپائر سے بھی زیادہ وسیع سلطنت کا مالک ہو گیا اور قیصر وکسریٰ کے عظیم الشان ممالک اس کا ورثہ بن گئے تو اس کو ایک منتظم اورفوجی سسٹم کی ضرورت محسوس ہوئی، ؁ 15ھ میں عمرنے اس کی طرف توجہ کی اور تمام ملک کو فوجی بنانا چاہا ؛لیکن ابتدا میں ایسی تعلیم ممکن نہ تھی اس لیے پہلے قریش وانصارسے آغاز کیا اورمخرمہ بن نوفل ؓ، جبیربن مطعم ؓ، عقیل بن ابی طالب ؓ کے متعلق یہ خدمت سپرد کی کہ وہ قریش وانصار کا ایک رجسٹر تیار کریں جس میں ہرشخص کانام ونسب تفصیل سےدرج ہواس ہدایت کےمطابق رجسٹرتیار ہوا اور حسب حیثیت تنخواہیں اوران کی بیوی بچوں کے گزارے کے لیے وظائف مقرر ہوئے مہاجرین اورانصار کی بیویوں کی تنخواہ 200 سے 400 درہم تک اوراہل بدر کی اولاد ذکور کی تنخواہ دودوہزار درہم سالانہ مقرر ہوئی، اس موقع پر یہ امر خاص طور پر قابل لحاظ ہے کہ جن لوگوں کی جتنی تنخواہیں مقرر ہوئیں اتنی ہی ان کے غلاموں کی بھی مقرر ہوئیں، [89]اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ فاروق اعظم نے مساوات کا کیسا سبق سکھایا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد اس نظام کو قریش وانصار سے وسعت دے کر تمام قبائل عرب میں عام کر دیا، پورے ملک کی مردم شماری کی گئی اور ہر ایک عربی نسل کی علی قدرمراتب تنخواہ مقرر ہوئی، یہاں تک کہ شیر خوار بچوں کے لیے وظائف کا قاعدہ جاری کیا گیا، [90]گویا عرب کا ہر ایک بچہ اپنے یوم ولادت ہی سے اسلامی فوج کا ایک سپاہی تصور کر لیا جاتا تھا، ہر سپاہی کو تنخواہ کے علاوہ کھانا اورکپڑا بھی ملتا تھا، تنخواہ کی تقسیم کا طریقہ یہ تھا کہ ہر قبیلہ میں ایک عریف ہوتا تھا، اسی طرح ہر دس سپاہی پر ایک افسر ہوتا تھا جن کو امرا الاعشار کہتے ہیں، تنخواہیں عریف کو دی جاتی تھیں وہ امرائے عشار کی معرفت فوج میں تقسیم کرتا تھا، ایک ایک عریف کے متعلق ایک ایک لاکھ درہم کی تقسیم تھی، کوفہ اوربصرہ میں سو عریف تھے جن کے ذریعہ سے ایک کروڑ کی رقم تقسیم ہوتی تھی، حسن خدمت اور کار گزاری کے لحاظ سے سپاہیوں اورافسروں کی تنخواہوں میں وقتا فوقتا اضافہ بھی ہوتا رہتا تھا؛چنانچہ زہرہ، عصمہ، اورضبی وغیرہ نے قادسیہ میں غیر معمولی جانبازی کا اظہا رکیا تھا، اس صلہ میں ان کی تنخواہیں دو دو ہزار سے اڑھائی اڑھائی ہزار کردی گئیں۔ عمرکو فوج کی تربیت کا بہت خیال تھا، انہوں نے نہایت تاکیدی احکام جاری کیے تھے کہ ممالک مفتوحہ میں کوئی شخص زراعت یا تجارت کا شغل اختیار نہ کرنے پائے، کیونکہ اس سے ان کے سپاہیانہ جوہر کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا، سرد اور گرم ممالک پر حملہ کرتے وقت موسم کا بھی کاخاص خیال رکھا جاتا تھا کہ فوج کی صحت اورتندرستی کو نقصان نہ پہنچے۔ قواعد کے متعلق چارچیزوں کے سیکھنے کی سخت تاکید تھی، تیرنا، گھوڑے دوڑانا، تیرلگانا اورننگے پاؤں چلنا، ہر چار مہینے کے بعد سپاہیوں کو وطن جاکر اپنے اہل و عیال سے ملنے کے لیے رخصت دی جاتی تھی، [91]جفاکشی کے خیال سے حکم تھا کہ اہل فوج رکاب کے سہارے سے سوارنہ ہوں، نرم کپڑے نہ پہنیں، دھوپ سے بچیں حماموں میں نہ نہائیں۔ موسم بہار میں فوجیں عموما سرسبز وشاداب مقامات میں بھیج دی جاتی تھیں، بارکوں اورچھاؤنیوں کے بنانے میں آب و ہوا کی خوبی کا لحاظ رکھا جاتا تھا، کوچ کی حالت میں حکم تھا کہ فوج جمعہ کے دن مقام کرے اورایک شب وروز قیام رکھے کہ لوگ دم لیں، غرض عمرنے تیرہ سوبرس پیشتر فوجی تربیت کے لیے اعلیٰ اصول وضع کر دیے تھے کہ آج بھی اصولی حیثیت سے اس پر کچھ اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ حسب ذیل مقامات کو فوجی مرکز قراردیا تھا، مدینہ، کوفہ، بصرہ، موصل، فسطاط، دمشق، حمص، اردن، فلسطین، ان مقام کے علاوہ تمام اضلاع میں فوجی بارکیں اور چھاؤنیاں تھیں، جہاں تھوڑی تھوڑی فوج ہمیشہ متعین رہتی تھی۔ فوج میں حسب ذیل عہدے دار لازمی طورپر رہتے تھے، خزانچی، محاسب، مترجم، طبیب، جراح، اورجاسوس جو غنیم کی نقل وحرکت کی خبریں بہم پہنچایا کرتے تھے، یہ خدمت زیادہ تر ذمیوں سے لی جاتی تھی چنانچہ قیساریہ کے محاصرہ میں یوسف نامی یہودی نے جاسوسی کی خدمت انجام دی تھی، [92]اسی طرح عراق میں بعض وفادار مجوسی اپنی خوشی سے اس خدمت کو انجام دیتے تھے، تاریخ طبری میں ہے: وکانت تکون لعمرالعیون فی کل جیش "ہر فوج میں عمرکے جاسوس رہتے تھے۔" آلات جنگ میں تیغ وسنان کے علاوہ قلعہ شکنی کے لیے منجنیق اور دبابہ بھی ساتھ رہتا تھا چنانچہ دمشق کے محاصروں میں منجنیقوں کا استعمال ہواتھا۔ [93] فوج حسب ذیل شعبوں میں منقسم تھی، مقدمہ، قلب، میمنہ، میسرہ، ساقہ، طلیعہ، سفرمینا، روایعنی عقبی گارد، شترسوار، سوار، پیادہ، تیرانداز گھوڑوں کی پرورش وپرداخت کا بھی نہایت اہتمام تھا، ہر مرکز میں چارہزار گھوڑے ہر وقت سازوسامان سے لیس رہتے تھے، موسم بہار میں تمام گھوڑے سرسبزو شاداب مقامات پر بھیج دیے جاتے تھے، خود مدینہ کے قریب ایک چراگاہ تیار کرائی، اوراپنے ایک غلام کو اس کی حفاظت اورنگرانی کے لیے مقرر کیا تھا، گھوڑوں کی رانوں پر داغ سے"جیش فی سبیل اللہ"نقش کیا جاتا تھا۔ عرب کی تلوار اپنی فتوحات میں کبھی غیروں کی ممنون احسان نہیں ہوئی ؛لیکن حریف اقوام کو خود ان ہی کے ہم قوموں سے لڑانا فن جنگ کا ایک بڑا اصول ہے، عمرنے اس کو نہایت خوبی سے برتا، صدہاعجمی، یونانی اوررومی بہادروں نے اسلامی فوج میں داخل ہوکر مسلمانوں کے دوش بدوش نہایت وفاداری کے ساتھ خود اپنی قوموں سے جنگ کی، قادسیہ کے معرکہ میں دوران میں جنگ ہی میں ایرانیوں کی چارہزارافواج حلقہ اسلام میں آگئی اور سعد بن ابی وقاص ؓ نے ان کو اسلامی فوج میں شامل کر لیا اور ان کی تنخواہیں مقرر کر دیں، یرموک کے معرکہ میں رومیوں کے لشکر کا مشہور سپاہی عین حالت جنگ میں مسلمان ہو گیا اور مسلمانوں کے دوش بدوش لڑکر شہید ہوا۔

مذہبی خدمات

مذہبی خدمات کے سلسلہ میں سب سے بڑا کام اشاعت اسلام ہے عمرکو اس میں بہت انہماک تھا ؛لیکن تلوار کے زور سے نہیں؛بلکہ اخلاق کی قوت سے انہوں نے اپنے غلام کو اسلام کی دعوت دی، اس نے باوجود ترغیب وہدایت کے انکار کیا تو فرمایا لااکراہ فی الدین [94]یعنی مذہب میں جبر نہیں، حکام کو ہدایت تھی کہ جنگ سے پہلے لوگوں کے سامنے محاسن اسلام پیش کرکے ان کو شریعت عزا کی دعوت دی جائے، اس کے علاوہ انہوں نے تمام مسلمانوں کو اپنی تربیت اور ارشاد سے اسلامی اخلاق کا مجسم نمونہ بنادیا تھا، وہ جس طرف گزرجاتے تھےلوگ ان کے اخلاقی تفوق کو دیکھ کر خود بخود اسلام کے گرویدہ ہوجاتے تھے، رومی سفیر اسلامی کیمپ میں آیا تو سالار فوج کی سادگی اوربے تکلفی دیکھ کر خودبخود اس کا دل اسلام کی طرف کھینچ گیا اور وہ مسلمان ہو گیا، مصر کا ایک رئیس مسلمانوں کے حالات ہی سن کر اسلام کا گرویدہ ہو گیا اور دوہزار کی جمعیت کے ساتھ مسلمان ہو گیا۔ [95] وہ عربی قبائل جو عراق وشام میں آباد ہو گئے تھے، نسبتا آسانی کے ساتھ اسلام کی جانب مائل کیے جاسکتے تھے، عمرکو ان لوگوں میں تبلیغ کا خاص خیال تھا چنانچہ اکثر قبائل معمولی کوشش سے حلقہ بگوش اسلام ہو گئے، مسلمانوں کے فتوحات کی بوالعجبی نے بھی بہت سے لوگوں کو اسلام کی صداقت کا یقین دلادیا؛چنانچہ معرکہ قادسیہ کے بعد دیلیم کی چارہزار عجمی فوج نے خوشی سے اسلام قبول کر لیا، [96]، اسی طرح فتح جلولا کے بعد بہت سے رؤسا برضاورغبت مسلمان ہو گئے جن میں بعض کے نام یہ ہیں: جمیل بن بصہیری، بسطام بن نرسی، رفیل، فیروزان، (ایضا فتح جلولا) عراق کی طرح شام ومصر میں بھی کثرت سے لوگ مسلمان ہوئے؛چنانچہ شہر فسطاط میں ایک بڑا محلہ نو مسلموں کا تھا غرض عمرکے عہد میں نہایت کثرت سے اسلام پھیلا، اس سے بھی بڑ ھ کر یہ کہ آپ دین حنیف کی آئندہ کے لیے راستہ صاف کرگئے۔ اشاعت اسلام کے بعد سب سے بڑا کام خود مسلمانوں کی مذہبی تعلیم وتلقین اورشعار اسلامی کی ترویج تھی، اس کے متعلق عمرکے مساعی کا سلسلہ حضرت ابوبکر ؓ ہی کے عہد سے شروع ہوتا ہے، قرآن مجید جو اساس اسلام ہے عمرہی کے اصرار سے کتابی صورت میں عہد صدیقی میں مرتب کیا گیا تھا، اس کے بعد انہوں نے اپنے عہد میں اس کے درس وتدریس کا رواج دیا، معلمین اورحفاظ اورمؤذنوں کی تنخواہیں مقررکیں، [97]حضرت عبادہ بن الصامت ؓ، حضرت معاذبن جبل اورحضرت ابوالدردا کو جو حفاظ قرآن اورصحابۂ کبار میں سے تھے، قرآن مجید کی تعلیم دینے کے لیے ملک شام میں روانہ کیا، [98]قرآن مجید کو صحت کے ساتھ پڑھنے اور پڑھانے کے لیے تاکیدی احکام روانہ کیے ابن الانباری کی روایت کے مطابق ایک حکم نامہ کے الفاظ یہ ہیں تعلموا اعراب القران کما تعلمون حفظہ، غرض عمرکی مساعی جمیلہ سے قرآن کی تعلیم ایسی عام ہو گئی تھی کہ ناظرہ خوانوں کا توشمارہی نہیں، حافظوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی تھی، حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے ایک خط کے جواب میں لکھا تھا کہ صرف میری فوج میں تین سو حفاظ ہیں۔ [99] اصول اسلام میں قرآن کے بعد حدیث کا رتبہ ہے، عمرنے اس کے متعلق جو خدمات انجام دیں ان کی تفصیل یہ ہے: احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو نقل کرا کے حکام کے پاس روانہ کیا کہ عام طورپر اس کی اشاعت ہو، مشاہیرصحابہ کو مختلف ممالک میں حدیث کی تعلیم کے لیے بھیجا؛چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کو ایک جماعت کے ساتھ کوفہ روانہ کیا، عبد اللہ بن مغفل، عمران بن حسین اور معقل بن یسار ؓ کو بصرہ بھیجا، حضرت عبادہ بن الصامت ؓ اورحضرت ابوالدردا ؓ کو شام روانہ کیا، (ازالۃ الخلفاء ج 2 : 6)اگرچہ محدثین کے نزدیک تمام صحابہ عدول ہیں؛لیکن عمراس نکتہ سے واقف تھے کہ جو چیزیں خصائص بشری ہیں، ان سے کوئی زمانہ مستثنیٰ نہیں ہوسکتا ؛چنانچہ انہوں نے روایت قبول کرنے میں نہایت چھان بین اوراحتیاط سے کام لیا، ایک دفعہ آپ کسی کام میں مشغول تھے، حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ آئے اور تین دفعہ سلام کرکے واپس چلے گئے، عمرکام سے فارغ ہوئے تو ابو موسیٰ ؓ کو بلا کر دریافت کیا کہ تم واپس کیوں چلے گئے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تین دفعہ اجازت مانگو اگر اس پر بھی نہ ملے تو واپس چلے جاؤ، عمرنے فرمایا، اس روایت کا ثبوت دوورنہ میں تم کو سزا دو گا، [100] حضرت ابوموسیٰ ؓ نے حضرت سعید ؓ کو شہادت میں پیش کیا، اسی طرح سقط یعنی کسی عورت کا حمل ضائع کردینے کے مسئلہ میں مغیرہ ؓ نے حدیث روایت کی تو عمرنے شہادت طلب کی جب محمد بن مسلمہ ؓ نے تصدیق کی تو انہوں نے تسلیم کیا، [101]حضرت عباس ؓ کے مقدمہ میں ایک حدیث پیش کی گئی تو عمرنے تائید ثبوت طلب کیا، جب لوگوں نے تصدیق کی تو فرمایا مجھ کو تم سے بدگمانی نہ تھی ؛بلکہ اپنا اطمینان مقصود تھا۔ [102] عمرلوگوں کو کثرت روایت سے بھی نہایت سختی کے ساتھ منع فرماتے تھے؛چنانچہ جب قرظہ بن کعب کو عراق کی طرف روانہ کیا تو خود دور تک ساتھ گئے اور سمجھا یا کہ دیکھو تم ایسے ملک میں جاتے ہو جہاں قرآن کی آواز گونچ رہی ہے، ایسا نہ ہو کہ ان کی توجہ کو قرآن سے ہٹاکر احادیث کی طرف مبذول کردو، [103] حضرت ابوہریرہ ؓ بڑے حافظ حدیث تھے اس لیے وہ روایتیں بھی کثرت سے بیان کرتے تھے، ایک دفعہ لوگوں نے ان سے پوچھا کہ آپ عمرکے عہد میں اس طرح روایت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ اگر اس زمانہ میں ایسا کرتا تو درے کھاتا، [104] حدیث کے بعد فقہ کا درجہ ہے، عمرخود بالمشافہہ اپنے خطبوں اورتقریروں میں مسائل فقہیہ بیان کرتے تھے اور دور دراز ممالک کے حکام فقہی مسائل لکھ کر بھیجتے تھے، مختلف فیہ مسائل کو صحابہ ؓ کے مجمع میں پیش کرا کے طے کراتے تھے، اضلاع میں عمال اورافسروں کی تقرری میں عالم اورفقیہ ہونے کا خاص خیال رکھا جاتاتھا، تمام ممالک محروسہ میں فقہا مقرر کیے تھے جو احکام مذہبی کی تعلیم دیتے تھے اور حسب بیان ابن جوزی عمرنے فقہا کی بیش قرار تنخواہیں مقرر کی تھیں، اس سے پہلے فقہا اورمعلمین کو تنخواہ دینے کا رواج نہ تھا، غرض یہ کہ فاروق اعظم ؓ کے عہد میں مذہبی تعلیم کا ایک مرتب اورمنظم سلسلہ قائم ہو گیا تھا جس کی تفصیل کے لیے اس اجمال میں گنجائش نہیں۔ عملی انتظامات کی طرف بھی حضرت عمرؓ نے بڑی توجہ کی، تمام ممالک محروسہ میں کثرت سے مسجدیں تعمیر کرائیں، امام اورمؤذن مقرر کیے، حرم محترم کی عمارت ناکافی تھی، ؁ 17ھ میں اس کو وسیع کیا، غلاف کعبہ کے لیے نطع کی بجائے قباطی کا رواج دیا جو نہایت عمدہ کپڑا ہوتا ہے اورمصر میں بنایاجاتا ہے، مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہایت وسعت دی، پہلے اس کا طول سوگز تھا انہوں نے بڑھا کر140 گزکردیا، عرض میں بھی 20 گز کا اضافہ ہوا، مسجد کے ساتھ ایک گوشہ چبوترا بنوادیا جس کو بات چیت کرنا یا شعر پڑھنا ہو تو یہاں چلاآئے، مسجدوں میں روشنی اورفرش کا انتظام بھی عمرکے عہد سے ہی ہوا، حجاج کی راحت وآسائش کا بھی پورا انتظام تھا، ہر سال خود حج کے لیے جاتے تھے اور خبر گیری کی خدمت انجام دیتے تھے۔ [105]

متفرق انتظامات

ملکی، فوجی اورمذہبی انتظامات کا ایک اجمالی خاکہ درج کرنے کے بعد اب ہم ان متفرق انتظامات کا تذکرہ کرتے ہیں جو کسی خاص عنوان کے تحت نہیں آتے۔ ؁ 18ھ میں عرب میں قحط پڑا، عمرنے اس مصیبت کو کم کرنے میں جو سرگرمی ظاہر کی وہ ہمیشہ یادگار زمانہ رہے گی، بیت المال کا تمام نقد وجنس صرف کر دیا، تمام صوبوں سے غلہ منگوایا اور انتظام کے ساتھ قحط زدوں میں تقسیم کیا[106]لاوارث بچوں کو دودھ پلانے اورپرورش پرداخت کا انتظام کیا، [107] غرباء ومساکین کے روز ینے مقرر کیے اور منبر پر اس کا اعلان فرمایا: انی فرضت لکل نفس مسلمۃ فی شہر مادی حنطۃ وقسطی خل۔ میں نے ہر مسلمان کے لیے فی ماہ دو مد گیہوں اوردوقسط سرکہ مقرر کیا۔" اس پر ایک شخص نے کہا کہ کیا غلام کے لیے بھی؟ فرمایاہاں غلام کے لیے بھی، (فتوح البلدان ذکر العطاءفی خلافۃ عمر ؓ )لیکن اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ عمراس نکتہ سے بے خبر تھے کہ اس طرح مفت خوری سے لوگ کاہل ہوجائیں گے، درحقیقت انہوں نے ان ہی لوگوں کے روزینے مقرر کیے تھے جو یا تو فوجی خدمت کے لائق تھے یا ضعف کے باعث کسب معاش سے معذور تھے، ملکی حالات سے واقفیت کے لیے ملک کے ہر حصے میں پرچہ نویس اورواقعہ نگار مقرر کیے تھے جن کے ذریعہ سے ہر جزئی واقع کی اطلاع ہوجاتی تھی، مورّخ طبری لکھتے ہیں: وکان عمر لایخفی علیہ شی فی علمہ کتب الیہ من العراق یخرج من خرج ومن الشام بجائزۃ من اجیزبھا "عمر پر کوئی بات مخفی نہیں رہتی تھی، عراق میں جن لوگوں نے خروج کیا اورشام میں جن لوگوں کو انعام دیے گئے سب ہی ان کو لکھا جاتا تھا۔" محکمہ خبر رسانی کی سرگرمی کا اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ نعمان بن عدی حاکم میسان نے عیش وعشرت میں مبتلا ہوکر اپنی بی بی کو ایک خط لکھا جس میں یہ شعر بھی تھا۔ لعل امیر المومنین یسوءہ تنادمنابالجوسق المتھدم غالبا امیر المومنین برامانیں گے کہ ہم لوگ محلوں میں رندان صحبت رکھتے ہیں اس محکمہ کو میاں بیوی کے راز ونیاز کی بھی خبر ہو گئی، عمرنے نعمان کو معزول کرکے لکھا کہ"ہاں مجھ کو تمہاری یہ حرکت ناگوار ہوئی" [108]

عدل وانصاف

خلافت فاروقی کا سب سے نمایاں وصف عدل وانصاف ہے، ان کے عہد میں کبھی سرموبھی انصاف سے تجاوز نہیں ہوا، شاہ وگدا، شریف ورزیل، عزیزوبیگانہ سب کے لیے ایک ہی قانون تھا، ایک دفعہ عمروبن العاص ؓ کے بیٹے عبد اللہ نے ایک شخص کو بے وجہ مارا، حضرت عمرؓ نے اسی مضروب سے ان کے کوڑے لگوائے، عمروبن العاص ؓ بھی موجود تھے، دونوں باپ بیٹے خاموشی سے عبرت کا تماشہ دیکھتے رہے اورکچھ نہ کہا[109] جبلہ بن ایہم رئیس شام نے کعبہ کے طواف میں ایک شخص کو طمانچہ مارا، اس نے بھی برابر کا جواب دیا، جبلہ نے حضرت عمرؓ سے شکایت کی تو انہوں نے جواب دیا کہ جیسا کیا ویسا پایا جبلہ کو اس جواب سے حیرت ہوئی اور مرتد ہوکر قسطنطنیہ بھاگ گیا۔ عمرنے لوگوں کی تنخواہیں مقرر کیں تو اسامہ بن زید ؓ کی تنخواہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب غلام حضرت زید ؓ کے فرزند تھے، اپنے بیٹے عبد اللہ سے زیادہ مقررکی، عبد اللہ نے عذر کیا کہ واللہ اسامہ ؓ کسی بات میں ہم سے فائق نہیں ہیں، حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ ہاں! لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسامہ ؓ کو تجھ سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔ [110] فاروقی عدل وانصاف کا دائرہ صرف مسلمانوں تک محدود نہ تھا ؛بلکہ ان کا دیوان عدل مسلمان، یہودی، عیسائی سب کے لیے یکساں تھا، قبیلۂ بکربن وائل کے ایک شخص نے حیرہ کے ایک عیسائی کو مارڈالا، عمرنے لکھا کہ قاتل مقتول کے ورثاء کے حوالہ کر دیا جائے؛چنانچہ وہ شخص مقتول کے وارث کو جس کانام حنین تھا سپرد کیا گیا اور اس نے اس کو مقتول عزیز کے بدلہ میں قتل کر دیا۔ عمرنے ایک ضعیف شخص کو گداگری کرتے دیکھا، پوچھا"توبھیک مانگتا ہے؟ اس نے کہا مجھ پر جزیہ لگایا گیا ہے، حالانکہ میں بالکل مفلس ہوں"، عمراسے اپنے گھر لے آئے اور کچھ نقددے کر مہتمم بیت المال کو لکھا کہ اس قسم کے ذمی مساکین کے لیے بھی وظیفہ مقرر کر دیا جائے، واللہ! یہ انصاف نہیں ہے کہ ان کی جوانی سے ہم متمتع ہوں اوربڑھاپے میں ان کی خبر گیری نہ کریں"۔ [111] عربسوس کے عیسائیوں کو ان کی متواتر بغاوتوں کے باعث جلاوطن کیا گیا، مگر اس طرح کہ ان کی املاک کی دوچند قیمت دی گئی، [112] نجران کے عیسائیوں کو جلاوطن کیا گیا تو ان کے ساتھ بھی اچھا سلوک کیا گیا۔ [113]

علم وفضل

اسلام سے قبل عرب میں لکھنے پڑھنے کا چنداں رواج نہ تھا؛چنانچہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو قبیلہ قریش میں صرف سترہ آدمی ایسے تھے جو لکھنا جانتے تھے، عمرنے اسی زمانہ میں لکھنا اور پڑھنا سیکھ لیا تھا، [114] عمرکے فرامین خطوط توقیعات اورخطبے اب تک کتابوں میں محفوظ ہیں، ان سے ان کی قوت تحریر، برجستگی کلام اور زورتحریر کا اندازہ ہوسکتا ہے، بیعت خلافت کے بعد جو خطبہ دیا اس کے چند فقرے یہ ہیں: اللہم انی غلیظ فلینی، اللہم انی ضعیف فقونی الاوان العرب جمل انف وقد اعطیت خطامہ الاوانی حاملہ علی المحجۃ "اے خدا میں سخت ہوں تو مجھ کو نرم کر، میں کمزور ہوں مجھ کو قوت دے، ہاں عرب والے سرکش اونٹ ہیں جن کی مہارمیرے ہاتھ میں دیدی گئی ہے ؛لیکن میں ان کو راستہ پر چلا کر چھوڑوں گا۔" قوت تحریر کا اندازہ اس خط سے ہوسکتا ہے جو حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کے نام لکھا گیا تھا، اس کے چند فقرے یہ ہیں: اما بعد فان القوۃ فی العمل ان لا توخروا عمل الیوم لغد فانکم اذا فعلتم ذلک قدارکت علیکم اعما لکم فلم تدروا ایھاتا خذون فاضعتم "اما بعد!مضبوطی عمل کی یہ ہے کہ آج کا کام کل پر نہ اٹھا رکھو، ایساکروگے تو تمہارے بہت سے کام جمع ہوجائیں گے، پھر پریشان ہوجاؤگے کہ کس کو کریں اورکس کو چھوڑیں، اس طرح کچھ بھی نہ ہو سکے گا۔" شاعری کا خاص ذوق تھا اورشعرائے عرب کے کلام پر تنقیدی نگاہ رکھتے تھے، مشاہیر میں سے زہیر کے کلام کو سب سے زیادہ پسند کرتے تھے، کبھی کبھی خود بھی شعر کہتے تھے، ( ابوعلی الحسن بن رشیق نے کتاب العمدہ میں ان کے اشعار نقل کیے ہیں) لیکن اس کی طرف زیادہ شغل نہ تھا۔ فصاحت وبلاغت کا یہ حال تھا کہ ان کے بہت سے مقولے ضرب المثال بن گئے جو آج بھی عربی ادب کی جان ہیں، علم الانساب میں بھی یدطولی ٰ حاصل تھا، یہ علم کئی پشتوں سے ان کے خاندان میں چلاآتا تھا، ان کے والد خطاب مشہور نساب تھے، جاحظ نے لکھا ہے کہ جب وہ انساب کے متعلق کچھ بیان کرتے تھے تو اپنے باپ کا حوالہ دیتے تھے، [115]معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ پہنچ کر عبرانی زبان بھی انہوں نے سیکھ لی تھی، مسند دارمی میں ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ توریت کا نسخہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور پڑھنا شروع کیا، وہ پڑھتے جاتے تھے اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہوتا جاتا ہے، [116] اس سے قیاس ہوتا ہے کہ عبرانی زبان سے اس قدر واقف ہو گئے تھے کہ توریت کو خود پڑھ سکتے تھے۔ عمرفطرۃ ذہین، طباع اورصائب الرائے تھے، اصابت رائے کی اس سے زیادہ اورکیا دلیل ہوسکتی ہے کہ ان کی بہت سی رائیں مذہبی احکام بن گئیں، اذان کا طریقہ ان کی رائے کے موافق ہوا، اسیران بدر کے متعلق جو رائے انہوں نے دی وحی الہی نے اسی کی تائید کی، شراب کی حرمت، ازواج مطہرات ؓ کے پردہ اورمقام ابراہیم کو مصلےٰ بنانے کے متعلق عمرنے نزول وحی سے پہلے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کو رائے دی تھی۔ [117] آپ کو بارگاہ نبوت میں جو خاص تقرب حاصل تھا، اس کے لحاظ سے قدرۃ ان کو شرعی احکام اورعقائد سے واقف ہونے کا زیادہ موقع ملا، طبیعت نکتہ رس واقع ہوئی تھی اس لیے آئندہ نسلوں کے لیے اجتہاد اوراستنباط مسائل کی وسیع شاہراہ قائم کردی، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی شرعی مسائل پر غور و فکر کیا کرتے تھے اور جب کوئی مسئلہ خلاف عقل معلوم ہوتا تو اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کرتے تھے، سفر میں قصر کا حکم دے دیا گیاتھا؛لیکن جب راستے مامون ہو گئے تو عمرنے دریافت کیا کہ اب سفر میں یہ حکم کیوں باقی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ خدا کا انعام ہے۔"مسائل دریافت کرنے میں مطلقاً پس وپیش نہیں کرتے تھے اور جب تک تشفی نہ ہوجاتی ایک ہی مسئلہ کو باربار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتے تھے، کلالہ کے مسئلہ کو جو نہایت دقیق اورمختلف فیہ مسئلہ ہے، باربار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سورۂ نساء کی آخری آیت تمہارے لیے کافی ہے۔ [118] نہایت غوروتوجہ کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے، ہر ایک آیت پر مجتہدانہ حیثیت سے نگاہ ڈالتے تھے، ایک دن صحابہ ؓ کے مجمع میں اس آیت کے معنی پوچھے اَیَوَدُّ اَحَدُکُمْ اَنْ تَکُوْنَ لَہٗ جَنَّۃٌ لوگوں نے کہا واللہ اعلم، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے کہا کہ اس میں ایک کام کرنے والے کی تمثیل ہے، چونکہ جواب ناتمام تھا، عمرنے اس پرقناعت نہ کی ؛لیکن عبد اللہ بن عباس ؓ اس سےزیادہ نہ بتاسکےعمرنےفرمایا: یہ اس آدمی کی مثال ہےجس کو خدا نےدولت ونعمت دی کہ خدا کی بندگی بجا لاے مگراس نے نافرمانی کی، تو اس کےاچھے اعمال بھی برباد کردیے جائیں گے۔ [119] قرآن مجید سے استدلال میں بڑی مہارت رکھتے تھے، عراق کی فتح کے بعد یہ بحث پیدا ہوئی کہ ممالک مفتوحہ مجاہدین کی ملکیت اور وہاں کے باشندے ان کے غلام ہیں عمرکا خیال تھا کہ مقام مفتوحہ کسی شخص یا ایک بہت سے مخصوص اشخاص کی ملکیت نہیں ہیں ؛بلکہ وقف عام ہیں اوراستدلال میں یہ آیت پیش کی، وَمَا اَفَاء اللہُ علی رَسُوْلِہٖ مِنْ اَھْلِ الْقُرْیٰ بالآخر سب نے اس کی تائید کی اور اسی پر فیصلہ ہوا، عمرکی مرفوع روایات کی تعداد سترسے زیادہ نہیں ہے؛لیکن اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ وہ صرف اس قدر احادیث سے واقف تھے، درحقیقت انہوں نے اپنے عہد خلافت میں جس قدر احکام صادر فرمائے ہیں وہ سب احادیث ہی کے ماخوذ ہیں، یہ دوسری بات ہے کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نہیں لیا ہے اور نام نہ لینے کی وجہ یہ تھی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی قول کو منسوب کرنے میں نہایت محتاط تھے جب تک کے ہر لفظ پر یقین نہ ہوتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح بیان فرمائی ہے اس وقت تک ہرگز ہر گز زبان سے قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لفظ نہیں نکالتے تھے، یہی وجہ تھی کہ وہ خود بھی بہت کم احادیث روایت کرتے تھے اور دوسروں کو بھی کثرت روایت سے روکتے تھے، علامہ ذہبی عمرکے حالات میں لکھتے ہیں: وقد کان عمر من دجلہ یخطیٔ الصاحب علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یامرہم ان یقلوالروایۃ من نبیہم [120] اورعمراس ڈرسے کہ صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنے میں غلطی نہ کریں ان کو حکم دیتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کم روایت کریں محدث کا سب سے بڑا فرض روایات کی تحقیق وتنقید اورجرح وتعدیل ہے، اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے بھی اپنے عہد میں روایت کے قبول کرنے میں ثبوت اورشہادت کا لحاظ رکھا؛لیکن عمرکو اس میں بہت زیادہ غلو تھا اور جب تک روایت و درایت دونوں حیثیت سے اس کا ثبوت نہ پہنچتا، قبول نہ کرتے، اس کی مثالیں تفصیل کےساتھ مذہبی خدمات کے سلسلہ میں مذکور ہوچکی ہیں، اس لیے یہاں اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ فقہ کا سلسلہ بھی درحقیقت عمرکا ہی ساختہ پرداختہ ہے ان سے اس قدر فقہی مسائل منقول ہیں کہ اگر جمع کیے جائیں تو ایک ضخیم کتاب تیار ہوسکتی ہے، استنباط احکام اورتفریع مسائل کے لیے بھی انہوں نے ایک شاہراہ قائم کردی تھی، مختلف فیہ مسائل کے طے کرنے کے لیے اجماع صحابہ جس کثرت سے عمرکے عہد میں ہوا پھر نہیں ہوا۔

اخلاق

حضرت سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا حقیقی مقصد دنیا کو برگزیدہ اورپسندیدہ اخلاق کی تعلیم دینا تھا، جیسا کہ خود ارشاد فرمایا بعثت لا تم مکارم الاخلاق، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو براہ راست اس سرچشمہ اخلاق سے سیراب ہونے کا موقع ملاتھا اس لیے اس مقدس جماعت کا ہر فرد اسلامی اخلاق کا مجسم نمونہ تھا؛لیکن عمرکو بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جو تقرب حاصل تھا اس کے لحاظ سے ان کو زیادہ حصہ ملا، وہ محاسن ومحامد کی مجسم تصویر تھے ان کے آئینہ اخلاق میں خلوص، انقطاع الی اللہ، لذایذدنیا سے اجتناب حفظ لسان حق پرستی، راست گوئی، تواضع اورسادگی کا عکس سب سے زیادہ نمایاں نظر آتا ہے، یہ اوصاف آپ میں ایسے راسخ تھے کہ جو شخص آپ کی صحبت میں رہتا تھا، وہ بھی کم وبیش متاثر ہوکر اسی قالب میں ڈھل جاتا تھا، مسوربن مخرمہ ؓ کا بیان ہے کہ ہم اس غرض سے عمرکے ساتھ رہتے تھے کہ ان سے پرہیز گاری وتقویٰ سیکھیں، عہد فاروقی کے افسروں اورعہدیداروں کے حالات کا بغور مطالعہ کرو، تم کو معلوم ہوگا کہ وہ سب ایک ہی رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔

خوف خدا

اخلاق کی پختگی اور استواری کا اصلی سرچشمہ خشئیت الہی اورخداوند جل وعلا جبروت وعظمت کا غیر متزلزل تیقن ہے، جو دل خشوع وخضوع اورخوف خداوندی سے خالی ہے اس کی حقیقت ایک مضغۂ گوشت سے زیادہ نہیں، عمرخشوع وخضوع کے ساتھ رات رات بھر نمازیں پڑھتے، صبح ہونے کے قریب گھروالوں کو جگاتے اوریہ آیت پڑھتے:وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا[121]، نمازمیں عموماً ایسی سورتیں پڑھتے جن میں قیامت کا ذکر یا خدا کی عظمت کا جلال کا بیان ہوتا اور اس قدر متاثر ہوتے کہ روتے روتے ہچکی بندھ جاتی، حضرت عبد اللہ بن شداد ؓ کا بیان ہے کہ میں باوجود یکہ پچھلی صف میں رہتا تھا ؛لیکن حضرت عمرؓ یہ آیت اِنَّمَا اَشکُوْبِثَیْ وَحُزْنِیْ پڑھکر اس زور سے روتے تھے کہ میں رونے کی آواز سنتا تھا۔ [122] حضرت امام حسن ؓ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ عمرنماز پڑھ رہے تھے جب اس پر پہنچے:اِنَّ عَذابَ ربک لواقع مالہ من دافع "یہ تیرے رب کا عذاب یقینی ہوکر رہنے والا ہے اس کو کوئی دفع کرنے والا نہیں"تو بہت متاثر ہوئے اورروتے روتے آنکھیں سوج گئیں، اسی طرح ایک دفعہ اس آیت پر: وَإِذَا أُلْقُوا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُقَرَّنِينَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُورًا[123]اس قدرخضوع وخشوع طاری ہواکہ اگر کوئی ان کے حال سے ناواقف شخص دیکھ لیتا تو یہ سمجھتا کہ اسی حالت میں روح پرواز کرجائے گی، رقت قلب اورعبرت پذیری کا یہ عالم تھا کہ ایک روز صبح کی نماز میں سورۂ یوسف شروع کی اورجب اس آیت پر پہنچے وَابیَضَّتْ عَیْنَاہُ مِنَ الْحُزْنِ فَھُوَ کَظِیْمٌ، (یوسف)توزاروقطاررونےلگے، یہاں تک کہ قرآن مجید ختم کرکے رکوع پر مجبور ہو گئے۔ [124] قیامت کے مواخذہ سے بہت ڈرتے تھے اور ہر وقت اس کاخیال رہتا تھا، صحیح بخاری میں ہے کہ ایک دفعہ ایک صحابی سے کہا کہ "تم کو یہ پسند ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسلام لائے، ہجرت کی، جہاد اورنیک اعمال کیے، اس کے بدلہ میں دوزخ سے بچ جائیں اور عذاب وثواب برابر ہوجائے، بولے خدا کی قسم نہیں، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی روزے رکھے، نمازیں پڑھیں، بہت سے نیک کام کیے اورہمارے ہاتھ پر بہت سے لوگ اسلام لائے ہم کوان اعمال سے بڑی بڑی توقعات ہیں، عمرنے فرمایا اس ذات کی قسم!جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مجھے تو یہی غنیمت معلوم ہوتا ہے کہ عذاب سے بچ جائیں اورنیکی اوربدی برابر ہوجائیں۔ [125] ایک بار راہ میں پڑا ایک تنکا اٹھالیا اورکہا کاش میں بھی خش وخاشاک ہوتا، کاش!کاش میں پیدا ہی نہ کیا جاتا، کاش میری ماں مجھے نہ جنتی۔ [126] غرض عمرکا دل ہر لمحہ خوف خداوندی سے لرزاں وترساں رہتا تھا، آپ فرماتے کہ اگر آسمان سے ندا آئے کہ ایک آدمی کے سوا تمام دنیا کے لوگ جنتی ہیں تب بھی مواخذہ کا خوف زائل نہ ہوگا کہ شاید وہ بد قسمت انسان میں ہی ہوں۔ [127]

حب رسول اوراتباع سنت

تہذیب نفس اوراخلاق حمیدہ سے مزین ہونے کے لیے ہر مسلمان کافرض ہے کہ اپنے دل میں مبدءخلق عظیم یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خالص محبت اوراتباع سنت کا صحیح جذبہ پیداکرے جو دل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے خالی اورجو قدم اسوۂ حسنہ کا جادۂ مستقیم سے منحرف ہے وہ کبھی سعادت کونین کی نعمت سے متمتع نہیں ہوسکتا، ایک دفعہ عمرنے بارگاہ نبوت میں عرض کیا کہ اپنی جان کے سوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا سے زیادہ محبوب ہیں، ارشاد ہوا، عمرمیری محبت اپنی جان سے بھی زیادہ ہونی چاہیے، عمرنے کہا اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ آپ جمال نبوت کے سچے شیدائی تھے، ان کو اس راہ میں جان ومال اولاد اورعزیز واقارب کی قربانی سے بھی دریغ نہ تھا، عاصی بن ہشام جو عمرکاماموں تھا، معرکۂ بدر میں خود ان کے ہاتھ سے مارا گیا، اسی طرح جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات ؓ سے ناراض ہوکر علیحدگی اخیتار کرلی توحضرت عمرؓ نے یہ خبر سن کر حاضر خدمت ہونا چاہا، جب باربار اذن طلب کرنے پر بھی اجازت نہ ملی تو پکار کر کہا"خداکی قسم !میں حفصہ کی سفارش کے لیے نہیں آیا ہوں، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو اس کی گردن ماردوں۔ [128] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرکی محبت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو ان کو کسی طرح اس کا یقین نہیں آتا تھا، مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حالت وارفتگی میں قسمیں کھا کر اعلان کرتے تھے جس کی زبان سے نکلے گا کہ میرا محبوب آقا دنیا سےاُٹھ گیا اس کا سرتوڑدوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جب کبھی عہد مبارک یاد آجاتا تورقت طاری ہوجاتی اورروتے روتے بیتاب ہوجاتے، ایک دفعہ سفرِشام کے موقع پر حضرت بلال ؓ نے مسجد اقصیٰ میں اذان دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد تازہ ہو گئی اور اس قدر روئے کہ ہچکی بندھ گئی۔ [129] یہ فطری امر ہے کہ محبوب کا عزیز بھی عزیز ہوتا ہےاس بناپر جن لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں عزیز رکھتے تھے، عمرنے اپنے ایام خلافت میں ان کا خاص خیال رکھا؛ چنانچہ جب آپ نے صحابہ ؓ کے وظائف مقرر کیے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب غلام زید بن حارثہ کے فرزند اسامہ بن زید کی تنخواہ اپنے بیٹے عبد اللہ سے زیادہ مقرر کی، عبد اللہ نے عذرکیا تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسامہ کو تجھ سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔[130]اسی طرح جب فتح مدائن کے بعد مال غنیمت آیا تو عمرنے حضرت امام حسن اورحضرت امام حسین ؓ کو ہزار ہزار درہم مرحمت فرمائے اوراپنے بیٹے عبد اللہ کو صرف پانچ سودیئے، حضرت عبد اللہ ؓ نے عذرکیا اورکہا کہ جب یہ دونوں بچے تھے، اس وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معرکوں میں پیش پیش رہا ہوں، عمرنہ کہا ہاں ؛لیکن ان کے بزرگوں کا جو رتبہ ہے وہ تیرے باپ دادا کا نہیں ہے۔ ازواج ِمطہرات ؓ کے مرتبہ، ان کے احترام اورآرام وآسائش کا خاص لحاظ رکھتے تھے چنانچہ ان کی تنخواہیں سب سے زیادہ بارہ ہزار مقرر کیں، [131]؁ 63ھ میں جب امیر الحجاج بن کر گئے تو ازواج مطہرات کو بھی نہایت ادب واحترام کے ساتھ ہمراہ لے گئے، حضرت عثمان ؓ اورحضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کو سواریوں کے ساتھ کر دیا تھا، یہ لوگ آگے پیچھے چلتے تھے اورکسی کو سواریوں کے قریب نہیں آنے دیتے تھے، ازواج مطہرات ؓ منزل پر حضرت عمرؓ کے ساتھ قیام کرتی تھیں اورحضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کسی کو قیام گاہ کے متصل آنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ [132] عمرکے دستور عمل کا سب سے زریں صفحہ اتباع سنت تھا، وہ خور و نوش، لباس وضع، نشست وبرخاست غرض ہر چیز میں اسوۂ حسنہ کو پیش نظر رکھتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ فقر وفاقہ سے بسر کی تھی، اس لیے عمرنے روم وایران کی شہنشاہی ملنے کے بعد بھی فقر وفاقہ کی زندگی کا ساتھ نہ چھوڑا، ایک دفعہ حضرت حفصہ ؓ نے کہا کہ اب خدا نے مرفہ الحالی عطا فرمائی ہے اس لیے آپ کو نرم لباس اورنفیس غذا سے پرہیز نہ کرنا چاہیے، عمرنے کہا، جان پدر!تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عسرت اورتنگ حالی کو بھول گئیں، خداکی قسم !میں اپنے آقا کے نقش قدم پر چلوں گا کہ آخرت کی فراغت اورخوشحالی نصیب ہو، اس کے بعد دیر تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عسرت کا تذکرہ کرتے رہے، یہاں تک کہ حضرت حفصہ ؓ بے تاب ہوکر رونے لگیں۔ [133] ایک دفعہ یزید بن ابی سفیان کے ساتھ شریک طعام ہوئے، معمولی کھانے کے بعد دسترخوان پر جب عمدہ کھانے لائے گئے تو عمرنے ہاتھ کھنچ لیا اورکہا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں عمر ؓ کی جان ہے اگر تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روش سے ہٹ جاؤ گے تو خداتم کو جادۂ مستقیم سے منحرف کر دے گا۔ [134] اسلام میں شعائر اللہ کی تعظیم کا حکم ہے اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حجراسود کو بوسہ دیاہے، حضرت عمرؓ کو اپنے زمانہ خلافت میں جب اس کا موقع پیش آیا تو اس خیال سے کہ ایسا نہ ہو کہ پتھر کو بوسہ دینے سے کبھی مسلمانوں کو یہ دھوکا ہوکہ اس میں بھی الہی شان ہے حجراسود کو بوسہ تو دیا؛لیکن اس کے سامنے کھڑے ہوکرکہا: إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ "میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے نہ نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع، اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیتے نہ دیکھتا تو تجھے ہرگز بوسہ نہ دیتا۔" [135] اسی طرح طواف میں رمل کا حکم مشرکین عرب کے دلوں پر رعب ڈالنے کی مصلحت پر مبنی تھا اس لیے جب خدا نے ان کو ہلاک کر دیا تو عمرکو خیا ل ہوا کہ اب رمل سے کیا فائدہ ہے مگر پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یادگار کو ترک کرنے پر جرأت نہ ہوئی۔ [136] ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوجو کام جس طرح کرتے دیکھا اسی طرح وہ بھی عمل پیرا ہوں، ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں دورکعت نماز پڑھی تھی، عمرنے جب اس طرف سے گزرتے تو اس جگہ دورکعت نماز ادا کرلیتے تھے، ایک شخص نے پوچھا یہ نماز کیسی ہے؟آپ نے فرمایا کہ میں نے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ہے، یہ کوشش صرف اپنی ذات تک محدودنہ تھی؛بلکہ وہ چاہتے تھے کہ ہر شخص کا دل اتباع سنت کے جذبہ سے معمور ہوجائے۔ ایک دفعہ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، عمرنے عین خطبہ کی حالت میں اس کی طرف دیکھا اور کہا آنے کا یہ کیا وقت ہے؟ انہوں نے کہا کہ بازار سے آرہا تھا کہ اذان سنی، وضو کرکے فوراً حاضر ہوا، حضرت عمرؓ نے فرمایا"وضو پر کیوں اکتفاکیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جمعہ کو)غسل کا حکم دیا کرتے تھے۔ [137]

زہد وقناعت

دنیا طلبی اورحرص تمام بداخلاقیوں کی بنیاد ہے، عمرکو اس سے طبعی نفرت تھی، یہاں تک کہ خود ان کے ہم مرتبہ معاصرین کو اعتراف تھا کہ وہ زہد وقناعت کے میدان میں سب سے آگے ہیں، حضرت طلحہ ؓ کا بیان ہے: قدامتِ اسلام اورہجرت کے لحاظ سے بہت سے لوگوں کو عمر بن الخطاب پر فوقیت حاصل ہے؛لیکن زہد وقناعت میں وہ سب سے بڑے ہوئے ہیں، صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرکو کچھ دینا چاہتے تو وہ عرض کرتے کہ مجھ سے زیادہ حاجت مند لوگ موجود ہیں جو اس عطیہ کے زیادہ مستحق ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے کہ اس کو لے لو، پھر تمہیں اختیار ہے کہ اپنے پاس رکھویا صدقہ کردو، انسان کو اگر بے طلب مل جائے تو لے لیناچاہیے۔ [138] عمرکا جسم کبھی نرم اور ملائم کپڑے سے مس نہیں ہوا، بدن پر بارہ بارہ پیوند کا کرتا، سرپر پھٹاہوا عمامہ اورپاؤں میں پھٹی ہوئی جوتیاں ہوتی تھیں، اسی حالت میں وہ قیصر وکسریٰ کے سفیروں سے ملتے تھے اور وفود کو باریاب کرتے تھے، مسلمانوں کو شرم آتی تھی، مگر اقلیم زہد کے شہنشاہ کے آگے کون زبان کھولتا، ایک دفعہ حضرت عائشہ ؓ اورحضرت حفصہ ؓ نے کہا، امیرالمومنین !اب خدانے مرفہ الحال کیا ہے، بادشاہوں کے سفراء اورعرب کے وفود آتے رہتے ہیں، اس لیے آپ کو اپنے طرز معاشرت میں تغیر کرنا چاہیے، عمرنے کہا، افسوس تم دونوں امہات المومنین ہوکر دنیا طلبی کی ترغیب دیتی ہو، عائشہؓ!تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حالت کو بھول گئیں کہ تمہارے گھر میں صرف ایک کپڑا تھا جس کو دن کو بچھاتے اوررات کو اوڑھتے تھے، حفصہؓ!تم کو یاد نہیں ہے کہ ایک دفعہ تم نے فرش کو دہرا کرکے بچھادیا تھا، اس کی نرمی کے باعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر سوتے رہے۔ بلال ؓ نے اذان دی تو آنکھ کھلی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یاحفصۃ ماذا ضعت ثنیت المھاد حتی ذھب بی النوم الی الصباح مالی وللدنیا ومالی شغلتمو نی بین الفراش [139] "حفصہ تم نے یہ کیا کیا فرش کو دہرا کر دیا کہ میں صبح تک سوتا رہا مجھے دنیاوی راحت سے کیا تعلق ہے؟ اور فرش کی نرمی کی وجہ سے تونے مجھے غافل کر دیا۔" ایک دفعہ گزی کا کرتا ایک شخص کو دھونے اورپیوند لگانے کے لیے دیا اس نے اس کے ساتھ ایک نرم کپڑے کا کرتا پیش کیا، عمرنے اس کو واپس کر دیا اوراپنا کرتا لے کر کہا اس میں پسینہ خوب جذب ہوتا ہے۔ [140] کپڑا عموماً گرمی میں بنواتے تھے اورپھٹ جاتا تو پیوند لگاتے چلے جاتے، حضرت حفصہ ؓ نے اس کے متعلق گفتگو کی تو فرمایا، مسلمانوں کے مال میں اس سے زیادہ تصرف نہیں کرسکتا، [141]ایک دفعہ دیر تک گھر میں رہے، باہر آئے تو لوگ انتظار کر رہے تھے، معلوم ہوا کہ پہننے کو کپڑے نہ تھے اس لیے ان ہی کپڑوں کو دھوکر سوکھنے کو ڈالدیا تھا، خشک ہوئے تو وہی پہن کر باہر نکلے۔ غذا بھی عموماً نہایت سادہ ہوتی تھی، معمولاً روٹی اورروغن زیتون دسترخوان پر ہوتا تھا، روٹی گیہوں کی ہوتی تھی ؛لیکن آٹا چھانا نہیں جاتا تھا، مہمان یا سفراء آتے تھے تو کھانے کی ان کو تکلیف ہوتی تھی کیونکہ وہ ایسی سادی اورمعمولی غذا کے عادی نہیں ہوتے تھے، حفص بن ابی العاص ؓ اکثر کھانے کے وقت موجود ہوتے تھے ؛لیکن شریک نہیں ہوتے تھے، ایک دفعہ عمرنے وجہ پوچھی تو کہا کہ آپ کے دسترخوان پر ایسی سادہ اورمعمولی غذا ہوتی ہے کہ ہم لوگ اپنے لذیذ اور نفیس کھانوں پراس کو ترجیح نہیں دے سکتے، عمرنے کہا، کیا تم یہ سمجھتے ہوکہ میں قیمتی اورلذیذ کھانا کھانے کی مقدرت نہیں رکھتا؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر قیامت کا خوف نہ ہوتا تو میں بھی تم لوگوں کی طرح دنیاوی عیش وعشرت کا دلدادہ ہوتا۔ [142] عمرہر شخص کو اپنی طرح زہد اورسادگی کی حالت میں دیکھنا چاہتے تھے، وقتاً فوقتاً اپنے عمال اوراحکام کو ہدایت کرتے رہتے تھے کہ رومیوں اورعجمیوں کی طرز معاشرت نہ اختیار کریں، سفر شام میں جب انہوں نے افسروں کو اس وضع میں دیکھا کہ بدن پر حریر ودیبا کے حلے اور پر تکلف قبائیں ہیں اور وہ اپنی زرق برق پوشاک اورظاہری شان وشوکت سے عجمی معلوم ہوتے ہیں تو آپؓ کو اس قدر غصہ آیا کہ گھوڑے سے اتر پڑے اورسنگریزے اٹھا کر ان پر پھینکے اور فرمایا کہ اس قدر جلد تم نے عجمی عادتیں اخیتار کر لیں، اسی طرح ایک دفعہ ایک شخص جس کو انہوں نے یمن کا عامل مقرر کیا تھا، اس صورت سے ملنے آیا کہ لباس فاخرہ زیب تن کیے ہوئے تھے اور بالوں میں خوب تیل پڑا ہواتھا، اس وضع کو دیکھ کر عمرنہایت ناراض ہوئے اور وہ کپڑے اترواکر موٹا جھوٹا کپڑا پہنایا۔ احنف بن قیس ایک جماعت کے ساتھ عراق کی ایک مہم پر روانہ کیے گئے، وہ وہاں سے کامیاب ہوکر تزک واحتشام کے ساتھ واپس آئے تو عمرنے ان کے زرق برق پوشاک دیکھ کر منہ پھیر لیا، وہ لوگ امیر المومنین کو برہم دیکھ کر دربار سے اٹھ آئے اور عرب کی سادہ پوشاک زیب تن کرکے پھر حاضر خدمت ہوئے، عمراس لباس میں دیکھ کر بہت خوش ہوئے اورفرد اً فرداً ہر ایک سے بغلگیر ہوئے۔ قناعت کا یہ حال تھا کہ اپنے زمانہ خلافت میں چند برس تک مسلمانوں کے مال سے ایک خرمہرہ نہیں لیا حالانکہ فقروفاقہ سے حالت تباہ تھی، صحابہ ؓ نے ان کی عسرت اور تنگدستی کو دیکھ کر اس قدر تنخواہ مقرر کردی جو معمولی خوراک اورلباس کے لیے کافی ہو ؛لیکن شہنشاہ قناعت نے اس شرط پر قبول کیا کہ جب تک ضرورت ہے لوں گا اورجب میری مالی حالت درست ہوجائے گی، کچھ نہ لوں گا، فرمایا کرتے تھے کہ میرا حق مسلمانوں کے مال میں اسی قدر ہے جس قدر یتیم کے مال میں ولی کا ہوتا ہے، [143]میں اپنی ذات پراس سے زیادہ نہیں صرف کرسکتا جس قدر خلافت سے پہلے اپنے مال میں سے صرف کرتا تھا، ایک دفعہ ربیع بن زیاد حارثی نے کہا امیر المومنین! آپ کو خدانے جو مرتبہ بخشا ہے اس کے لحاظ سے آپ دنیا میں سب سے زیادہ عیش ونشاط کی زندگی کے مستحق ہیں، عمرنہایت خفا ہوئے اورفرمایا میں قوم کاامین ہوں، امانت میں خیانت کب جائز ہے، [144]ایک دفعہ عتبہ بن فرقد شریک طعام تھے اور ابلاہوا گوشت اورسوکھی روٹی کے ٹکڑے زبردستی حلق سے فروکر رہے تھے عمرنے کہا اگر تم سے نہیں کھا یا جاتا تو نہ کھاؤ، عتبہ ؓ سے نہ رہا گیا، کہنے لگے امیر المومنین!اگر آپ اپنے کھانے پہننے میں کچھ زیادہ صرف کریں گے تو اس سے مسلمانوں کا مال کم نہ ہوجائے گا، حضرت عمرؓ نے کہا، افسوس تم مجھے دنیاوی عیش و تنعم کی ترغیب دیتے ہو۔ [145] اپنے وسیع کنبہ کے لیے بیت المال سے صرف دو درہم روزانہ لیتے تھے اور تکلیف وعسرت کے ساتھ بسر کرتے تھے، ایک دفعہ حج میں اسی درہم صرف ہو گئے تو اس کا افسوس ہوا اوراسے اسراف تصور کیا، (اسد الغابہ ج 4 : 72)کپڑے پھٹ جاتے تھے ؛لیکن اس خیال سے کہ بیت المال پر بار نہ پڑے اسی میں پیوند پر پیوند لگاتے جاتے تھے، حضرت امام حسن ؓ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ عمرجمعہ کے روز خطبہ دے رہے تھے، میں نے شمار کیا تو ان کے تہبند پر بارہ پیوند لگے ہوئے تھے، (کنزالعمال ج 6 : 347) انس بن مالک ؓ کا بیان ہے کہ میں نے زمانہ خلافت میں دیکھا کہ ان کے کرتا کے مونڈے پر تہ بہ تہ پیوند لگے ہوئے ہیں، (موطا امام مالک باب ماجاء فی لبس الثیاب)غرض فاروق اعظم ؓ نے زہد وقناعت کا جو نمونہ پیش کیا، دنیا کی تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے، اورحقیقت یہ ہے کہ ان کی عظمت وشان کے تاج پر زہد وقناعت ہی کا طرہ زیب دیتا ہے۔ خلافت کے بارگراں نے حضرت عمرؓ کو بہت زیادہ محتاط بنادیا تھا کیونکہ اس وقت ان کی معمولی بے احتیاطی اور فرو گذاشت قوم کے لیے صدہاخرابیوں کا باعث ہوسکتی تھی اور مشکوک طبائع ان کی ذراسی لغزش سے طرح طرح کے افسانے اختراع کرسکتے تھے، عمرنے اپنے قبیلہ کے لوگوں کو کبھی ملکی عہدے نہیں دئےکہ اس میں جانبداری پائی جاتی تھی، عمال وحکام کے تحائف واپس کردیتے اور اس سختی سے چشم نمائی کرتے کہ پھر کسی کو جرأت نہ ہوتی، ایک دفعہ حضرت ابو موسی اشعری ؓ نے آپ کی زوجہ عاتکہ بنت زید ؓ کے پاس ہدیۃً ایک نفیس چادر بھیجی، عمرنے دیکھا تو ابو موسیٰ اشعری ؓ کوبلاکر کہا مجھے اس کی ضرورت نہیں، (کنزالعمال ج6 : 350)اسی طرح ایک دفعہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے بیت المال کا جائزہ لیا تو وہاں صرف ایک درہم موجود تھا، انہوں نے اس خیال سے کہ یہ یہاں کیوں پڑا رہے، اٹھا کر عمرکے بیٹے کو دیدیا، حضرت عمرؓ کو معلوم ہوا تو انہوں نے درہم واپس لے کر بیت المال میں داخل کر دیا اورابو موسیٰ اشعری ؓ کو بلاکر فرمایا کہ افسوس تم کو مدینہ میں آل عمر ؓ کے سوا اور کوئی کمزور نظر نہ آیا، تم چاہتے ہو کہ قیامت کے دن تمام امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالبہ میری گردن پر ہو۔ [146] فتح شام کے بعد قیصر روم سے دوستانہ مراسم ہو گئے تھے اور خط کتابت رہتی تھی، ایک دفعہ ام کلثوم ؓ(عمرکی زوجہ) نے قیصر کی حرم کے پاس تحفہ کے طورپر عطر کی چند شیشیاں بھیجیں، اس نے اس کے جواب میں شیشیوں کو جواہرات سے بھر کر بھیجا، عمرکو معلوم ہوا تو فرمایا کہ گوعطر تمہارا تھا؛لیکن قاصد جولے کر گیا وہ سرکاری تھا اور اس کے مصارف عام آمدنی سے ادا کیے گئے تھے؛چنانچہ جواہرات لے کر بیت المال میں داخل کر دیے اور ان کو کچھ معاوضہ دے دیا، اسی طرح ایک بازار میں ایک فربہ اونٹ فروخت ہوتے دیکھا، دریافت سے معلوم ہوا کہ آپ کے بیٹے عبد اللہ ؓ کا ہے، ان سے پوچھا کہ یہ اونٹ کیسا ہے؟انہوں نے کہا میں نے اس کو خرید کر سرکاری چراگاہ مین بھیج دیا تھا اور اب کچھ فربہ ہو گیا ہے تو بیچنا چاہتا ہوں، عمرنے فرمایا چونکہ یہ سرکاری چراگاہ میں فربہ ہوا ہے اس لیے تم صرف راس المال کے مستحق ہو، اوربقیہ قیمت لے کر بیت المال میں داخل کردی، [147] خلافت سے پہلے آپ تجارت کرتے تھے، بیت المال سے وظیفہ مقرر ہونے سے بیشتر تک کچھ دنوں زمانہ خلافت میں بھی یہ مشغلہ جاری تھا، ایک دفعہ شام کی طرف مال بھیجنا چاہا، روپیہ کی ضرورت ہوئی تو حضرت عبدالرحمن بن عوف سے قرض طلب کیا، انہوں نے کہا، آپ امیر المومنین ہیں، بیت المال سے اس قدر رقم قرض لے سکتے ہیں، عمرنے فرمایا کہ بیت المال سے نہیں لوں گا، کیونکہ اگر ادا کرنے سے پہلے مرجاؤں گا تو تم لوگ میرے ورثاءسے مطالبہ نہ کروگے اور یہ بارمیرے سررہ جائے گا، اس لیے چاہتا ہوں کہ کسی ایسے شخص سے لوں جو میرے متروکہ سے وصول کرنے پر مجبور ہو۔ [148] ایک دفعہ بیمار ہوئے طبیبوں نے شہد تجویز کیا، بیت المال میں شہد موجود تھا؛ لیکن قلب متقی بغیر مسلمانوں کی اجازت کے لینے پر راضی نہ تھا؛چنانچہ اسی حالت میں مسجد میں تشریف لائے اور مسلمانوں کو جمع کر کے اجازت طلب کی، جب لوگوں نے اجازت دے دی تو استعمال فرمایا، [149] بحرین سے مال غنیمت میں مشک وعنبر آیا اس کو مسلمانوں میں تقسیم کرنے کے لیے کسی ایسے شخص کی تلاش ہوئی جس کو عطریات کے وزن میں دستگاہ ہو، عمرکی بیوی عاتکہ بنت زید ؓ نے کہا میں اس کام کو کرسکتی ہوں، حضرت عمرؓ نے کہا تم سے یہ کام نہیں لوں گا، کیونکہ مجھے خوف ہے کہ تمہاری انگلیوں میں جو کچھ لگ جائیگا اسے اپنے جسم پر لگاؤ گی اور اس طرح عام مسلمانوں سے زیادہ میرے حصہ میں آجائے گا۔ [150] ابو موسیٰ اشعری ؓ نے عراق سے زیورات بھیجے، اس وقت آپ کی گود میں آپ کی سب سے محبوب یتیم بھتیجی اسماء بنت زید ؓ کھیل رہی تھی، اس نے ایک انگوٹھی ہاتھ میں لے لی، عمرنے بلطائف الحیل اس سے لے کر زیورات میں ملادی اورلوگوں سے کہا کہ اس لڑکی کو میرے پاس سے لے جاؤ، اسی طرح عبد اللہ بن ارقم نے معرکۂ جلولا کے بعد زیورات بھیجے تو آپ کے ایک بیٹے نے ایک انگوٹھی کی درخواست کی، عمراس سوال پر خفا ہوئے اور کچھ نہ دیا۔ [151] ایک دفعہ حضرت حفصہ ؓ یہ سن کر کہ مال غنیمت آیا ہوا ہے، عمرکے پاس آئیں اورکہا امیر المومنین! اس میں میراحق مجھ کو عنایت کیجئے، میں ذوالقربی میں سے ہوں، عمرنے کہانور نظر تیرا حق میرے خاص مال میں ہے، یہ تو غنیمت کا مال ہے، افسوس ہے کہ تونے اپنے باپ کو دھوکا دینا چاہا، وہ بیچاری خفیف ہوکر چلی گئیں۔ عمرکی تمنا تھی کہ اپنے محبوب آقا حضرت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں مدفون ہوں، حضرت عائشہ ؓ نے اجازت دیدی تھی، مگر خیال یہ تھا کہ شاید خلافت کے رعب نے انہیں مجبور کیاہو، اس لیے اپنےصاحبزادےکو وصیت فرمائی کہ مرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر اجازت لی جائے، اگر اذن ہو توخیر ورنہ عام مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کردینا، اس طرح وفات کے بعد بھی فاروق اعظم ؓ نے ورع وتقویٰ کا بدیع المثال نمونہ پیش کیا، ؓ۔

تواضع

عمرکی عظمت وشان اوررعب وداب کا ایک طرف تو یہ حال تھا کہ محض نام سے قیصر وکسریٰ کے ایوان حکومت میں لرزہ پیدا ہوجاتا تھا، دوسری طرف تواضع اورخاکساری کا یہ عالم تھا کہ کاندھے پر مشک رکھ کر بیوہ عورتوں کے لیے پانی بھرتے تھے، مجاہدین کی بیویوں کا بازار سے سودا سلف خرید کر لادیتے تھے، پھر اس حالت میں تھک کر مسجد کے گوشہ میں فرش خاک پرلیٹ جاتے تھے۔ ایک دفعہ اپنے ایام خلافت میں سرپرچادرڈال کر باہر نکلے، ایک غلام کو گدھے پر سوار جاتے دیکھا چونکہ تھک گئے تھے اس لیے اپنے ساتھ بٹھا لینے کی درخواست کی، اس کے لیے اس سے زیادہ کیا شرف ہوسکتا ہے، فوراً اتر پڑا اورسواری کے لیے اپنا گدھا پیش کیا، عمرنے کہا اپنی وجہ سے تمہیں تکلیف نہیں دے سکتا تم جس طرح سوار تھے سوار رہو میں تمہارے پیچھے بیٹھ لوں گا، غرض اسی حالت میں مدینہ کی گلیوں میں داخل ہوئے، لوگ امیرالمومنین کو ایک غلام کے پیچھے دیکھتے تھے اور تعجب کرتے تھے۔ [152] آپ کو بارہا سفر کا اتفاق ہوا ؛لیکن خیمہ وخرگاہ کبھی ساتھ نہیں رہا، درخت کا سایہ شامیانہ اورفرش خاک بستر تھا، سفر شام کے موقع پر مسلمانوں نے اس خیال سے کہ عیسائی امیر المومنین کے معمولی لباس اوربے سروسامانی کو دیکھ کر اپنے دل میں کیا کہیں گے؟ سواری کے لیے ترکی گھوڑا اور پہننے کے لیے قیمتی لباس پیش کیا، حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ خدانے ہم کو جو عزت دی ہے وہ اسلام کی عزت ہے اور ہمارے لیے یہی بس ہے۔ ایک دن صدقہ کے اونٹوں کے بدن پر تیل مل رہے تھے، ایک شخص نے کہا امیر المومنین!یہ کام کسی غلام سے لیا ہوتا ؟ بولے مجھ سے بڑھ کر کون غلام ہوسکتا ہے؟ جو شخص مسلمانوں کاوالی ہے وہ ان کا غلام بھی ہے۔ [153]

تشددوترحم

عمرکی تندمزاجی کے افسانے نہایت کثرت سے مشہورہیں اور ایک حد تک وہ صحیح بھی ہیں؛لیکن یہ قیاس صحیح نہیں ہے کہ قدرت نے ان کو لطف اور رحمدلی سے ناآشنا رکھاتھا، اصل یہ ہے کہ ان کا غیظ و غضب بھی خدا کے لیے تھا اور لطف ورحم بھی اسی کے لیے، جیسا کہ ایک موقع پر خود ارشاد فرمایا تھا: واللہ لقد لان قلبي في اللہ حتى لهو ألين من الزبد ولقد اشتد قلبي في اللہ حتى لهو أشد من الحجر۔"واللہ!میرادل خدا کے بارے میں نرم ہوتا ہے تو جھاگ سے بھی نرم ہوجاتا ہےاور سخت ہوتا ہے تو پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے۔" [154] مثال کے طورپر چند واقعات درج ذیل ہیں جس سے اندازہ ہوگا کہ حضرت عمرؓ کا غصہ اور لطف ورحم محض خدا کے لیے تھا، ذاتیات کو مطلقاً دخل نہ تھا۔ غزوۂ بدر میں کافروں نے بنوہاشم کو مسلمانوں سے لڑنے پر مجبور کیا تھا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ عباس ؓ کہیں نظر آئیں تو ان کو قتل نہ کرنا، ابو حذیفہ ؓ کی زبان سے نکل گیا کہ بنوہاشم میں کیا خصوصیت ہے؟ اگر عباس ؓ سے مقابلہ ہو گیا تو ضرور مزہ چکھاؤں گا، عمریہ گستاخی دیکھ کر آپے سے باہر ہو گئے اور کہااجازت دیجئے کہ میں اس کا سراُڑادوں۔ [155] حضرت حاتم بن ابی بلتعہ ؓ بڑے رتبہ کے صحابی تھے، یہ خود ہجرت کرکے مدینہ چلے آئے تھے؛لیکن ان کے اہل و عیال مکہ میں تھے، جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کا قصد فرمایا تو حاطب ؓ نے اپنے اہل و عیال کی حفاظت کے خیال سے اپنے بعض مشرک دوستوں کو اس کی اطلاع دیدی، حضرت عمرؓ کو معلوم ہوا تو برافروختہ ہوکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اجازت دیجئے کہ اس کو قتل کردوں۔ [156] اسی طرح خویصرہ نے ایک دفعہ گستاخانہ کہا"محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)عدل کر"عمرغصے سے بےتاب ہو گئے اور اس کو قتل کردینا چاہا؛لیکن رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا۔ غرض اسی قسم کے متعدد واقعات ہیں جن سے اگر تم مزاج کی سختی کا اندازہ کرسکتے ہو تو دوسری طرف للہیت کا بھی اعتراف کرنا پڑے گا۔ ایام خلافت میں جو سختیاں ظاہو ہوئیں وہ اصولِ سیاست کے لحاظ سے نہایت ضروری تھیں، حضرت خالد بن ولید ؓ کی معزولی، حکام سے سختی کے ساتھ بازپرس، مذہبی پابندی کے لیے تنبیہ وتعزیر اور اسی قسم کے تمام امور عمرکے فرائض منصبی میں داخل تھے، اس لیے انہوں نے جو کچھ کیا وہ منصب خلافت کی حیثیت سے ان پر واجب تھا، ورنہ ان کا دل لطف ومحبت کے شریفانہ جذبات سے خالی نہ تھا ؛بلکہ وہ جس قدر مذہبی اورانتظامی معاملات میں سختی اورتشدد کرتے تھے، ہمدردی کے موقعوں پر اس سے زیادہ لطف ورحم کا برتاؤ کرتے تھے، خدا کی ذی عقل مخلوق میں غلاموں سے زیادہ قابل رحم حالت کسی کی نہیں ہوگی، حضرت عمرؓ نے عنان خلافت ہاتھ میں لینے کے ساتھ تمام عربی غلاموں کو آزاد کرادیا، (یعقوبی ج2 : 158) اوریہ قانون بنادیا کہ اہل عرب کبھی کسی کے غلام نہیں ہوسکتے، کنزالعمال میں بہ تصریح ان کا قول مذکور ہے کہ "لا تسترق عربی" یعنی عربی غلام نہیں ہوسکتے، عام غلاموں کا آزاد کرانا بہت مشکل تھا تاہم ان کے حق میں بہت سی مراعات قائم کیں، مجاہدین کی تنخواہیں مقرر ہوئیں تو آقا کے ساتھ اسی قدران کے غلام کی تنخواہ مقرر ہوئی، (فتوح البلدان ذکر العطاء فی خلافت عمر بن الخطاب ؓ)اکثر غلاموں کو بلاکر ساتھ کھانا کھلاتے، ایک شخص نے دعوت کی تومحض اس وجہ سے برافروختہ ہوکر آٹھ گئے کہ اس نے دسترخوان پر اپنے غلام کو نہیں بٹھایا تھا، آپ اکثر حاضرین کو سنا کر کہتے تھے کہ جو لوگ غلاموں کو اپنے ساتھ کھانا کھلانا عار سمجھتے ہیں، خداان پر لعنت بھیجتا ہے غلاموں کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ وہ اپنے عزیز واقارب سے جدا ہوجاتے تھے، عمرنے حکم دیا کہ کوئی غلام اپنے اعزہ سے جدانہ کیاجائے۔ [157] ؁ 18ھ میں جب عرب میں قحط پڑا اس وقت عمرکی بےقراری قابل دید تھی، دور دراز ممالک سے غلہ منگواکر تقسیم کیا، گوشت گھی اور دوسری مرغوب غذائیں ترک کر دیں، اپنے لڑکے کے ہاتھ میں خربوزہ دیکھ کر خفا ہوئے کہ قوم فاقہ مست ہے اورتو تفکہات سے لطف اٹھاتا ہے، غرض !جب تک قحط رہا، عمرنے ہر قسم کے عیش و لطف سے اجتناب رکھا۔ [158] عراق عجم کے معرکہ میں نعمان بن مقرن اوردوسرے بہت سے مسلمان شہید ہوئے، عمرپر ان کی شہادت کا اتنا اثر تھا کہ زار وقطار روتے تھے، مال غنیمت آیا تو غصہ سے واپس کر دیا کہ مجاہدین اورشہداء کے ورثا میں تقسیم کر دیا جائے۔ تم نے انتظامات کے سلسلہ میں پڑھا ہوگا کہ عمرنے اپنے عہد میں ہر جگہ لنگر خانے، مسافر خانے اوریتیم خانے بنوائے تھے، غرباء مساکین اورمجبوروناچار آدمیوں کے روز ینے مقرر کر دیے تھے، کیا یہ تمام امور لطف وترحم کے دائرہ سے باہر ہیں۔ عمرنے ذمیوں اور کافروں کے ساتھ جس رحمدلی اور لطف کا سلوک کیا آج مسلمان، مسلمان سے نہیں کرتے، زندگی کے آخری لمحے تک ذمیوں کا خیال رہا، وفات کے وقت وصیت میں ذمیوں کے حقوق پر خاص زوردیا۔ [159]

عفو

اس لطف وترحم کی بناپر عمرعفواوردرگزر سے بھی کام لیتے تھے، ایک دفعہ حر بن قیس اورعینیہ بن حصن حاضر خدمت ہوئے، عینیہ نے کہا آپ انصاف سے حکومت نہیں کرتے، عمراس گستاخی پر بہت غضبناک ہوئے، حربن قیس نے کہا امیر المومنین! قرآن مجید میں آیا ہے"خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِين [160]" یہ شخص جاہل ہے اس کی بات کاخیال نہ کیجئے، اس گفتگو سے عمرکا غصہ بالکل ٹھنڈا پڑ گیا۔ [161]

رفاہِ عام

عمرنے فریضۂ خلافت کی حیثیت سے رفاہ عام اور بنی نوع انسان کی بہبودی کے جو کام کیے اس کی تفصیل گزرچکی ہے، ذاتی حیثیت سے بھی ان کا ہرلمحہ خلق اللہ کی نفع رسانی کے لیے وقف تھا، ان کا معمول تھا کہ مجاہدین کے گھروں پر جاتے اور عورتوں سے پوچھ کر بازار سے سودا سلف لادیتے تھے، مقام جنگ سے قاصد آتا تو اہل فوج کے خطوط ان کے گھروں میں پہنچاآتے اور جس گھر میں کوئی لکھا پڑھا نہ ہوتا خود ہی چوکھٹ پر بیٹھ جاتے اور گھر والے جو کچھ لکھا تے لکھ دیتے، راتوں کو عموماً گشت کرتے کہ عام آبادی کا حال معلوم ہو، ایک دفعہ گشت کرتے ہوئے مدینہ سے تین میل کے فاصلہ پر مقام حرار پہنچے، دیکھا کہ ایک عورت پکاررہی ہے اور دوتین بچے رو رہے ہیں، پاس جاکر حقیقت حال دریافت کی، عورت نے کہا بچےبھوک سے تڑپ رہے ہیں، میں نے ان کے بہلانے کو خالی ہانڈی چڑھا دی ہے، عمراسی وقت مدینہ آئے اور آٹا، گھی، گوشت اورکھجوریں لے چلے، عمرکے غلام اسلم نے کہا میں لیے چلتا ہوں، فرمایا، ہاں قیامت میں تم میرا بار نہیں اٹھاؤ گے اور خود ہی سب سامان لے کر عورت کے پاس گئے، ا س نے پکانے کا انتظام کیا، حضرت عمرؓ دیکھتے تھے اور خوش ہوتے تھے۔ [162] ایک دفعہ کچھ لوگ شہر کے باہر اترے، عمرنے عبدالرحمن بن عوف ؓ کو ساتھ لیا اور کہا مجھ کو ان کے متعلق مدینہ کے چوروں کا ڈرلگاہوا ہے، چلو ہم دونوں چل کر پہرہ دیں؛چنانچہ دونوں آدمی رات بھر پہرہ دیتے رہے۔ [163] ایک دفعہ رات کو گشت کر رہے تھے کہ ایک بدو کے خیمہ سے رونے کی آواز آئی، دریافت سے معلو ہوا کہ بدو کی عورت دردزہ میں مبتلا ہے، حضرت عمرؓ گھر آئے اور اپنی بیوی ام کلثوم ؓ کو ساتھ لیکر بدو کے خیمہ گئے، تھوڑی دیر کے بعد بچہ پیدا ہوا، ام کلثوم ؓ نے پکار کر کہا اے امیر المومنین !اپنے دوست کو مبارکباددیجئے، بدوامیر المومنین کا لفظ سن کو چونک پڑا، حضرت عمرؓ نے کہا کچھ خیال نہ کرو، کل میرے پاس آنا، بچہ کی تنخواہ مقرر کردوں گا۔ [164] عمراپنی غیر معمولی مصروفیات میں سے بھی مجبور، بیکس اوراپاہج آدمیوں کی خدمت گزاری کے لیے وقت نکال لیتے تھے، مدینہ سے اکثر نابینا اورضعیف اشخاص فاروق اعظم ؓ کی خدمت گزاری کے ممنون تھے، خلوص کا یہ عالم تھا کہ خود ان لوگوں کو خبر بھی نہ تھی کہ یہ فرشتہ رحمت کون ہے؟ حضرت طلحہ ؓ کا بیان ہے کہ ایک روز علی الصبح امیر المومنین کو ایک جھونپڑے میں جاتے دیکھا، خیال ہوا کہ فاروق اعظم کا کیا کام ؟دریافت سے معلوم ہوا کہ اس میں ایک نابینا ضعیفہ رہتی ہے اور وہ روز اس کی خبر گیری کے لیے جایا کرتے ہیں۔

خدا کی راہ میں دینا

عمربہت زیادہ دولتمند نہ تھے، تاہم انہوں نے جو کچھ خدا کی راہ میں صرف کیا وہ ان کی حیثیت سے بہت زیادہ تھا، 9ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کی تیاری کی تواکثر صحابہ نے ضروریات جنگ کے لیے بڑی بڑی رقمیں پیش کیں، عمرنے اس موقع پر اپنے مال واسباب میں سے آدھا لے کر پیش کیا۔ [165] یہود بنی حارثہ سے آپ کو ایک زمین ملی تھی اس کوخداکی راہ میں وقف کر دیا اسی طریقہ سے خیبر میں ایک بہترین سیر حاصل قطعۂ اراضی ملا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ مجھے ایک قطعہ زمین ملا ہے جس سے بہتر میرے پاس کوئی جائداد نہیں ہے، آپ کا کیا ارشاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وقف کردو؛چنانچہ حسب ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم فقراء اعزہ، مسافر، غلام اورجہاد کے لیے وقف کر دیا۔ [166] ایک دفعہ ایک اعرابی نے نہایت رقت انگیز اشعار سنائے اور دست سوال دراز کیا، حضرت عمرؓ متاثر ہوکر بہت روئے اورکرتا اتارکردے دیا۔

مساوات کا خیال

عہد فاروقی میں شاہ گدا، امیروغریب، مفلس ومالدار سب ایک حال میں نظر آتے تھے، عمال کو تاکیدی حکم تھا کہ کسی طرح کا امتیاز ونموداختیار نہ کریں، عمرنے خود ذاتی حیثیت سے بھی مساوات اپنا خاص شعار بنایاتھا، یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنی معاشرت نہایت سادہ رکھی تھی، تعظیم وتکریم کو دل سے ناپسند کرتے تھے، ایک دفعہ کسی نے کہا، میں آپ پر قربان فرمایا ایسا نہ کہو، اس سے تمہار نفس ذلیل ہوجائے گا، اسی طرح زید بن ثابت ؓ قاضی مدینہ کی عدالت میں مدعا علیہ کی حیثیت سے گئے تو انہوں نے تعظیم کے لیے جگہ خالی کردی، عمرنے کہا تم نے اس مقدمہ میں یہ پہلی ناانصافی کی، یہ کہہ کر اپنے فریق کے برابر بیٹھ گئے۔ [167] آپ کا مقولہ تھا کہ میں اگر عیش وتنعم کی زندگی بسر کروں اورلوگ مصیبت وافلاس میں رہیں تو مجھ سے براکوئی نہ ہوگا، سفر شام میں نفیس ولذیز کھانے پیش کیے گئے تو پوچھا کہ تمام مسلمانوں کو بھی یہ ایوان نعمت میسر ہیں؟ لوگوں نے کہا ہر شخص کے لیے کس طرح ممکن ہے؟فرمایا، توپھر مجھے بھی اس کی حاجت نہیں۔ خلافت کی حیثیت سے فاروق اعظم ؓ کے جاہ وجلال کا سکہ تمام دنیا پر بیٹھا ہوا تھا ؛لیکن مساوات کا یہ عالم تھا کہ قیصروکسریٰ کے سفراء آتے تھے تو انہیں یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ شاہ کون ہے؟درحقیقت حضرت عمرؓ نے خود نمونہ بن کر مسلمانوں کو مساوات کا ایسا درس دیا تھا کہ حاکم ومحکوم، اورآقا وغلام کے سارے امتیازات اُٹھ گئے تھے۔

غیرت

حضرت عمرؓ بالطبع غیور واقع ہوئے تھے، یہاں تک کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی غیرت کا پاس ولحاظ کرتے تھے، صحیح مسلم، ترمذی اورصحاح کی تقریباً سب کتابوں میں باختلاف الفاظ مروی ہے کہ معراج کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےجنت میں ایک عالیشان طلائی قصر ملاحظہ فرمایا جو فاروق اعظم ؓ کے لیے مخصوص تھا اس کے اندر صرف اس وجہ سے تشریف نہیں لے گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی غیر ت کا حال معلوم تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرسے اس کا ذکر فرمایا تو وہ روکر کہنے لگے" أَعَلَيْكَ أَغَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِ" (کیا میں آپ کے مقابلہ میں غیرت کروں گا یا رسول اللہﷺ۔ [168] آیت حجاب نازل ہونے سے پہلے عرب میں پردہ کا رواج نہ تھا یہاں تک کہ خود ازواج مطہرات ؓ پردہ نہیں کرتی تھیں، حضرت عمرؓ کی غیرت اس بے حجابی کو نہایت ناپسند کرتی تھی، باربار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتجی ہوئے کہ آپ ازواجِ مطہرات ؓ کو پردہ کا حکم دیں اس خواہش کے بعد ہی آیت حجاب نازل ہوئی۔ آپ کی غیرت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ جب آپ کو خبر ملی مسلمان عورتیں حماموں میں عیسائی عورتوں کے سامنے بے پردہ نہاتی ہیں تو تحریری حکم جاری کیا کہ مسلمان عورت کا غیر مذہب والی عورت کے سامنے بے پردہ ہونا جائز نہیں۔

خانگی زندگی

عمرکو اولادو ازواج سے محبت تھی، مگر اس قدر نہیں کہ خالق ومخلوق کے تعلقات میں فتنہ ثابت ہو، اہل خاندان سے بھی بہت زیادہ شغف نہ تھا، البتہ زید ؓ سے جو حقیقی بھائی تھے، نہایت الفت رکھتے تھے جب وہ یمامہ کی جنگ میں شہید ہوئے تو نہایت قلق ہوا، فرمایا کرتے تھے کہ جب یمامہ کی طرف سے ہوا چلتی ہے تو مجھ کو زید کی خوشبو آتی ہے، [169]زید نے اسماء نامی ایک لڑکی چھوڑی تھی اس کو بہت پیار کرتے تھے۔ مکہ سے ہجرت کرکے آئے تو مدینہ سے دومیل کے فاصلہ پر عوالی میں رہتے تھے ؛لیکن خلافت کے بعد خاص مدینہ میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے متصل سکونت اختیار کی، چونکہ وفات کے وقت وصیت کردی تھی کہ مکان بیچ کر قرض اداکیا جائے، اس لیے یہ مکان فروخت کر دیا گیا اورعرصہ دراز تک دارالقضا ءکے نام سے مشہوررہا۔ حصول معاش کا اعلیٰ ذیعہ تجارت تھا، مدینہ پہنچ کر زراعت بھی شروع کی تھی ؛لیکن خلافت کے بارگراں نے انہیں ذاتی مشاغل سے روک دیا تو ان کی عسرت کو دیکھ کر صحابہ نے اس قدر تنخواہ مقرر کردی جو معمولی خوراک اورلباس کے لیے کافی ہو، ؁ 15ھ میں لوگوں کے وظیفے مقرر ہوئے تو حضرت عمرؓ کے لیے بھی پانچ ہزاردرہم سالانہ وظیفہ مقرر ہوا۔ (یہ وظیفہ بھی خلافت کی خصوصیت کی وجہ سے نہ تھا ؛بلکہ تمام بدری صحابیوں کا وظیفہ پانچ پانچ ہزارتھا، [170] غذا نہایت سادہ تھی یعنی صرف روٹی اور روغن زیتون پرگزارہ تھا کبھی کبھی گوشت دودھ، ترکاری اورسرکہ بھی دسترخوان پر ہوتا تھا، لباس بھی نہایت معمولی ہوتا تھا بیشتر صرف قمیص پہنتے تھے، اکثر عمامہ باندھتے تھے، جوتی قدیم عربی وضع کی ہوتی تھی۔ حلیہ یہ تھا، رنگ گندم گوں، سرچندلا، رخسارے کم گوشت، ڈاڑھی گھنی اورمونچھیں بڑی بڑی، قدنہایت طویل، یہاں تک کہ سینکڑوں کے مجمع میں کھڑے ہوں تو سب سے سربلند نظرآئیں۔

ازواج واولاد

عمرنے مختلف اوقات میں متعدد نکاح کیے، ان کے ازواج کی تفصیل یہ ہے: زینب، ہمشیرہ عثمان بن مظعون، مکہ میں مسلمان ہوکر مریں، قریبہ بنت میۃ المخزومی، مشرکہ ہونے کے باعث انہیں طلاق دیدی تھی، ملکیہ بنت جرول، مشرکہ ہونے کی وجہ سے ان کو بھی طلاق دیدی، عاتکہ بنت زید، ان کا نکاح پہلے عبد اللہ بن ابی بکر ؓ سے ہوا تھا، پھر حضرت عمرؓ کے نکاح میں آئیں، ام کلثوم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی اورحضرت فاطمہ ؓ کی نوردیدہ تھیں، عمرنے خاندان نبوت سے تعلق پیداکرنے کے لیے 17ھ میں چالیس ہزار مہر پر نکاح کیا، عمرکی اولاد میں حضرت حفصہ ؓ اس لحاظ سے سب سے ممتاز ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج مطہرات میں داخل تھیں، عمرنے اپنی کنیت بھی ان ہی کے نام پر رکھی تھی، اولاد مذکور کے نام یہ ہیں، عبد اللہ، عاصم، ابوشحمہ، عبدالرحمن، زید، محیر، ان سب میں عبد اللہ، عبید اللہ اور عاصم اپنے علم وفضل اورمخصوص اوصاف کے لحاظ سے نہایت مشہور ہیں۔ [171]

واقعات

وہ ایک حاکم تھے۔ وہ ایک مرتبہ وہ مسجد میں منبر رسول پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ ایک غریب شخص کھڑا ہو گیا اور کہا کہ اے عمر ہم تیرا خطبہ اس وقت تک نہیں سنیں گے جب تک یہ نہ بتاؤ گے کہ یہ جو تم نے کپڑا پہنا ہوا ہے وہ بیت المال سے لوگوں میں تقسیم ہونے والے اس حصے سے زیادہ ہے جو دوسروں کو ملا تھا۔ تو عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ مجمع میں میرا بیٹا عبد اللّٰہ موجود ہے، عبد اللہ بن عمر کھڑے ہو گئے۔ عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ بیٹا بتاؤ کہ تیرا باپ یہ کپڑا کہاں سے لایا ہے ورنہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں قیامت تک اس منبر پر نہیں چڑھوں گا۔ عبداللّٰہ نے بتایا کہ بابا کو جو کپڑا ملا تھا وہ بہت ہی کم تھا اس سے ان کا پورا کپڑا نہیں بن سکتا تھا۔ اور ان کے پاس جو پہننے کے لباس تھا وہ بہت خستہ حال ہو چکا تھا۔ اس لیے میں نے اپنا کپڑا اپنے والد کو دے دیا۔[حوالہ درکار] ابن سعد فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن امیر المؤمنین کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک کنیز گذری۔ بعض کہنے لگے یہ باندی کی ہے۔ آ پ ( عمر) نے فرمایا کہ امیر المؤمنین کو کیا حق ہے وہ خدا کے مال میں سے باندی رکھے۔ میرے لیے صرف دو جوڑے کپڑے ایک گرمی کا اور دوسرا جاڑے کا اور اوسط درجے کا کھانا بیت المال سے لینا جائز ہے۔ باقی میری وہی حیثیت ہے جو ایک عام مسلمان کی ہے۔ جب آپ کسی بزرگ کو عامل بنا کر بھیجتے تھے تو یہ شرائط سنا دیتے تھے :

  1. گھوڑے پر کبھی مت سوار ہونا۔
  2. عمدہ کھانا نہ کھانا۔
  3. باریک کپڑا نہ پہننا۔
  4. حاجت مندوں کی داد رسی کرنا۔

اگر اس کے خلاف ہوتا تو سزائیں دیتے۔

عادات

عمر علی سے بھی دیگر صحابہ کی طرح مشورہ کرتے چنانچہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق عمر کی شہادت کے بعد جب علی آئے تو فرمایا میں اس کے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ سے ملوں۔

حدیث میں ذکر

ان 10 صحابہ کرام م اجمعین کا ذکر عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالٰی عنہ کی روایت کردہ حدیث میں ہے کہ: عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عثمان رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں، علی رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، طلحہ رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، زبیر رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عبدالرحمن رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، سعد رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں، سعید رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، ابوعبیدہ رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں۔[172]

فضائل

اے عمر! شیطان تم کو دیکھتے ہی راستہ کاٹ جاتا ہے۔[173]
جبرائیل و میکائیل میرے دو آسمانی وزیر ہیں جب کہ ابوبکر و عمر میرے دو زمینی وزیر ہیں۔
میری امت میں اللہ کے دین کے معاملے میں سب سے سخت عمر ہیں۔[174]

اہل بیت سے مروی فضائل

ٌ* علی سے روایت ہے کہ [أن عمر لیقول القول فینزل القرآن بتصدیقہ [175]}}(بے شک عمر فاروق البتہ جب کوئی کہتے ہیں تو قرآن اُن کی بات کی تصدیق کے لیے نازل ہوتا ہے )* فضل بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا [عمر معنی وأنا مع عمر، والحق بعدی مع عمر حیث کان ][175]}}(میں عمر() کے ساتھ ہوں اور عمر ( ) میرے ساتھ ہیں اور حق میرے بعد عمر () کے ساتھ ہو گا)* ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ[ نظر رسول اللہ -صلى اللہ عليہ وسلم- إلى عمر ذات يوم وتبسم، فقال: "يابن الخطاب، أتدري لم تبسمت إليك?" قال: اللہ ورسولہ أعلم، قال: "إن اللہ -عز وجل- نظر إليك بالشفقة والرحمة ليلة عرفة، وجعلك مفتاح الإسلام][176]}} ( رسول اکرم ﷺ نے عمر فاروق کی طرف دیکھ کر تبسم فرمایا اور فرمایا اے ابن خطاب !کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے آپ کی طرف دیکھ کر تبسم کیوں فرمایا تو عمرفاروق عرض کی اللہ اور اس کے رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا :اللہ تعالی نے آپ کی طرف عرفہ کی رات رحمت اور شفقت سے نظر فرمائی اور آپ کو مفتاح اسلام (اسلام کی چابی) بنایا )* علی سے روایت ہے کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا "عمر بن الخطاب سراج أهل الجنة"( عمر فاروق اہل جنت کے سردار ہیں )جب عمر فاروق تک یہ بات پہنچی تو آپ ایک جماعت کے ساتھ علی کے پاس تشریف لائے اور کہا کہ کیا آپ نے رسول اکرم ﷺ سے سُنا ہے کہ عمر فاروق اہل جنت کے چراغ ہیں علی جواب دیا جی ہاں عمر فاروق نے فرمایا آپ مجھے یہ تحریر لکھ دیں تو علی نے لکھا ("بسم اللہ الرحمن الرحيم: هذا ما ضمن علي بن أبي طالب لعمر بن الخطاب عن رسول اللہ -صلى اللہ عليہ وسلم- عن جبريل عن اللہ تعالى أن عمر بن الخطاب سراج أهل الجنة" عمر فاروق نے یہ تحریر لے کر اپنی اولاد میں سے ایک بیٹا کو دی اور فرمایا (إذا أنا مت وغسلتموني وكفنتموني فأدرجوا هذہ معي في كفني حتى ألقى بها ربي، فلما أصيب غسل وكفن وأدرجت مع في كفنہ ودفن)جب میرا وصال ہو جائے تو مجھے غسل وکفن دینا اور پھر یہ تحریر میرے کفن میں ڈال دینا یہاں تک میں اپنے رب سے ملاقات کروں جب آپ وصال فرما گئے تو آپ کو غسل اور کفن دیا گیا اور آپ کے کفن میں وہ تحریر رکھ کر دفن کر دیا گیا۔[177]}}* کثیر ابو اسماعیل سے روایت ہے کہ میں نے نے ابو جعفر محمد بن علی سے ابو بکر اور عمر فاروق کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا[ بُغْضُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ نِفَاقٌ، وَبُغْضُ الْأَنْصَارِ نِفَاقٌ۔ يَا كَثِيرُ مَنْ شَكَّ فِيهِمَا، فَقَدْ شَكَّ فِي السُّنَّةِ][178]}}( ابوبکر، عمر فاروق اور انصار کا بغض نفاق ہے۔ اے کثیر جس نے ان دونوں حضرات کے بارے میں شک کیا اس نے سنت میں شک کیا )* ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا [اللَّهمّ أعزّ الإسلام بأبي جهل بن هشام أو بعمر بن الخطّاب][179]}}(اے اللہ اسلام کو ابو جہل بن ھشام یا عمر بن خطاب کے ذریعے عزت دے)تو عمر فاروق نے صبح کی اور رسول اکرم ﷺ کے پاس آ گئے۔* ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: " وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ جِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ، وَوَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ "[180]}}* علی سے روایت ہے [ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَلِيُّ، هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ، إِلا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ "، ثُمَّ قَالَ لِي: " يَا عَلِيُّ، لا تُخْبِرْهُمَا ][180]}}کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا پس ابو بکر وعمر م تشریف لائے تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے کہا اے علی () یہ دونوں اہل جنت کے اولین وآخرین کے بوڑھی عمر والوں کے سردار ہیں انبیاومرسلین کے علاوہ پھر مجھے کہا کہ اے علی، تم ان دونوں کو اس بات کی خبر نہ دینا۔* ابن عباس سے فرماتے ہیں [أَكْثِرُوا ذِكْرَ عُمَرَ، فَإِنَّكُمْ إِذَا ذَكَرْتُمُوهُ ذَكَرْتُمُ الْعَدْلَ، وَإِنْ ذَكَرْتُمُ الْعَدْلَ ذَكَرْتُمُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى][180]}} عمر فاروق کا کثرت کے ساتھ ذکر کیا کرو جب تم ان کا ذکر کرتے ہوتو تم عدل کا ذکر کرتے ہو اور جب تم عدل کا ذکر کرتے ہو تو تم اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہو۔

عمر بن خطاب اور اقوالِ عالَم

میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر بن الخطاب ہوتے۔ از محمدصلی اللہ علیہ وسلم
اگر دنیا کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں اور عمر کا علم دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو عمر کا پلڑا بھاری ہوگا۔ از عبداللہ بن مسعود[181]
عمر کی زبان پر سکینہ بولتا ہے۔ وہ قوی و امین ہیں۔ از سیدنا علی
ابوبکر و عمر تاریخِ اسلام کی دوشاہکار شخصیتیں ہیں۔ ایچ جی ویلز

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. (اسد الغابہ جلد 3 صفحہ 676)
  2. (سیر اعلام النبلا تذکرہ عمر ؓ )
  3. (الاصابہ جلد 4 صفحہ 464)
  4. أحمد، نذير، الإسلام في التاريخ العالمي: منذ وفاة النبي محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وحتى نشوب الحرب العالمية الأولى، المعهد الأمريكي للثقافة والتاريخ الإسلامي، 2001، ص۔ 34. ISBN 0-7388-5963-X.
  5. الدولة العربية الإسلامية الأولى (1-41 هـ / 623-661 م)۔ الطبعة الثالثة 1995 م۔ دكتور عصام شبارو۔ دار النهضة العربية، بيروت - لبنان۔ صفحة: 279
  6. Hourani, p. 23.
  7. المكتبة اليهودية الرقمية: الخلافة الإسلامية الراشدة
  8. الفاروق از شبلی نعمانی
  9. (عقد الفرید باب فضائل العرب)
  10. (استیعاب تذکرہ عمر بن الخطاب ؓ)
  11. (فتوح البلدان بلاذری : 477)
  12. کتاب البیان والتبین صفحہ 117
  13. علامہ بلاذری کی کتاب الاشراف
  14. (جامع ترمذی مناقب عمر ؓ)
  15. (سیرۃ النبی ج1 : 209و 210 بحوالہ اسد الغابہ وابن عسا کر وکامل ابن اثیر)
  16. (دارقطنی باب الطہارۃ للقرآن )
  17. (مستدرک حاکم ج 4 : 59)
  18. (مسند ابن حنبل ج1 : 17)
  19. (سیرالصحابہ 326)
  20. (بخاری باب اسلام عمر ؓ)
  21. (بخاری ج1 باب اسلام سعید بن زید واسلام عمر ؓ)
  22. قسطلانی ج 6 : 213)
  23. (صحیح بخاری اسلام عمر ؓ)
  24. (بخاری باب غزوۃ الخندق)
  25. (ابن سعد جزو3 ق اول : 193)
  26. ( زرقانی ج 1 : 371)
  27. (صحیح بخاری کتاب الاذان باب بدء الاذان)
  28. (ابن جریر : 509،واستیعاب ترجمہ عمر بن الخطاب)
  29. (صحیح مسلم کتاب الجہادوالسیرباب الامداد بالملائکۃ فی غزوہ بدر واحباحتہ الغنائم)
  30. (طبری : 1411)
  31. (بخاری کتاب المغازی، غزوہ احد)
  32. (بخاری کتاب الصلوٰۃ باب مواقیت الصلوٰۃ)
  33. (سیرت ابن ہشام ج 2 : 166)
  34. (بخاری کتاب المغازی غزوہ حدیبیہ)
  35. (بخاری کتاب الشروط فی الجہاد والمصالحۃ مع اہل الحرب)
  36. (ایضاً کتاب التفسیر سورۂ فتح )
  37. (ایضا کتاب التفسیرسورۂ فتح)
  38. ( ترمذی فضائل ابی بکر ؛لیکن ترمذی سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عمرنے اس موقع پر یہ رقم پیش کی تھی، البتہ سیروتاریخ سے ثابت ہوتا ہے)
  39. (بخاری کتاب المناقب فضائل ابی بکر ؓ )
  40. (طبری : 2158)
  41. (فتوح الشام ازدی، 131)
  42. (کتاب الخراج قاضی ابو یوسف : 21)
  43. (فتوح البلدان بلاذری، 143،واقعات کی تفصیل اذدی سے ملفوذہے)
  44. (طبری : 2404)
  45. (فتوح البلدان بلاذری : 147)
  46. (عقد الفرید ابن عبدربہ باب الکیدہ فی الحرب)
  47. (مقریزی)
  48. (مستدرک ج1 : 91)
  49. (ایضاً : 91،93)
  50. (اسد الغابہ)
  51. (الطبقات الکبریٰ)
  52. (بلاذری : 128)
  53. (ایضا!)
  54. (کنزالعمال ج3 : 134)
  55. ( فتوح البلدان بلاذری : 276)
  56. (تاریخ طبری، : 2574)
  57. (الخراج الاابی یوسف، باب:فصل فی تقبیل السوادی واختیار، :117)
  58. ( کنزالعمال ج6 : 350)
  59. (ایضاً 353)
  60. (کتاب الخراج : 7)
  61. (طبری ص 641)
  62. (استیعاب تذکرہ نعمان)
  63. (طبری : 2747)
  64. (فتوح البلدان : 219)
  65. (تاریخ طبری : 268)
  66. (کتاب الخراج : 66)
  67. ( ابن اثیر ج 2 : 418)
  68. (طبری : 12،271)
  69. (کنزالعمال ج 6 : 355)
  70. (کتاب الخراج : 661)
  71. (ادب المفرد باب ہل یجلس خادمہ معہ اذااکل)
  72. (مسند دارمی : 70)
  73. (اسدالغابہ تذکرہ زبرقان)
  74. (طبری :423)
  75. ( ابن سعد قسم اول جز 3 : 201)
  76. ( کتاب الخراج : 14،15)
  77. (فتح القدیر حاشیہ ہدایہ ج2 صفحۃ 247)
  78. (استیعاب تذکرہ امیر معاویہ ؓ)
  79. (مقریزی ج 2)
  80. (اسد الغابہ)
  81. ( طبری ذکر آبادی کوفہ)
  82. (ایضا 529)
  83. (فتوح البلدان 365)
  84. (ایضاً: 366)
  85. (حسن المحاضرہ سیوطی 68)
  86. ( معجم البلدان ج 7 کوفہ)
  87. (ایضا ذکر فسطاط)
  88. (جیزہ کے تفصیلی حالات مقریزی میں مذکورہیں)
  89. (تنخواہوں کی تفصیل میں مختلف روایتیں ہیں، دیکھو کتاب الخراج : 24 ومقریزی ج1 : 92،وبلاذری : 453)
  90. (فتوح البلدان : 464)
  91. ( فتوح البلدان، : 148)
  92. (مفتوح البلدان ص 148)
  93. (طبری : 2152)
  94. (کنز العمال ج5 : 49)
  95. (مقریزی، : 246)
  96. (فتوح البلدان :209)
  97. (سیرۃ العمر میں مذکو رہے ان عمر بن الخطاب وعثمان کان یرزقان الموذنین والائمۃ والمعلمین)
  98. (کنز العمال ج1 : 281)
  99. (ایضا! : 217)
  100. (مسلم باب الاستیذان)
  101. (ابوداؤد کتاب الدیات باب دیۃ الجبین)
  102. (تذکرۃ الحفاظ ج1 تذکرہ عمر)
  103. (ایضاً : 6)
  104. (ایضاً)
  105. (اسد الغابہ تذکرۂ عمر)
  106. (یعقوبی ج2 : 177 میں اس کی پوری تفصیل ہے)
  107. (ایضاً: 171)
  108. (استیعاب ج1 تذکرہ نعمان بن عدی)
  109. (کنزالعمال ج6 : 355)
  110. (مستدرک حاکم جلد 3 مناقب عبد اللہ بن عمر ؓ)
  111. (کتاب الخراج صفحۃ 72)
  112. (فتوح البلدان صفحۃ 163)
  113. (طبری : 2162)
  114. (بلاذری صفحۃ 477)
  115. (کتاب البیان والتبیین ج1 صفحۃ 117)
  116. (مسنددارمی : 26)
  117. (تاریخ الخلفاء : 12)
  118. (تفسیر ابن جریر ج6 صفحۃ 25)
  119. (بخاری ج2 : 651)
  120. (تذکرۃ الحفاظ ج 1 تذکرہ عمرؓ)
  121. (طٰہٰ:132)
  122. (بخاری کتاب الصلوۃ باب اذابکی الامام فی الصلوٰۃ)
  123. (الفرقان:13)
  124. (کنزالعمال ج6 صفحۃ 337)
  125. (بخاری باب ایام الجاہلیۃ)
  126. (کنزالعمال ج6 : 224)
  127. (ایضاً)
  128. (فتح الباری ج 9 : 251)
  129. ( فتوح الشام ازوی فتح بیت المقدس)
  130. (مستدرک ج3 مناقب عبد اللہ بن عمر ؓ)
  131. (کتاب الخراج : 24)
  132. (ابن سعدتذکرہ عبدالرحمن بن عوف ؓ)
  133. ( کنزالعمال ج 6 : 236)
  134. (ایضاً : 345)
  135. (بخاری، بَاب مَا ذُكِرَ فِي الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ، حدیث نمبر:1494)
  136. (بخاری کتاب الحج)
  137. (بخاری کتاب الجمعہ باب فضل الغسل یوم الجمعہ)
  138. (ابوداؤد، کتاب الزکوٰۃ، باب فی الاستغفاف)
  139. (کنز العمال، 6/350)
  140. ( ایضاً : 346)
  141. (ایضاً : 332)
  142. (ایضاً، : 346)
  143. (کنزالعمال ج 6 : 330)
  144. (کنزالعمال، 6/ 346)
  145. (ایضاً : 348)
  146. (ایضاً)
  147. (ایضاً : 357)
  148. (طبقات ابن سعد جلد ثالث، قسم اول : 199)
  149. (ایضاً : 198)
  150. (کنزالعمال ج6 : 350)
  151. (ایضاً)
  152. ( بخاری کتاب المناقب باب فقہ البیعہ)
  153. (کنزالعمال ج 6 : 353)
  154. (کنزل العمال، جز12،حدیث نمبر:35811)
  155. (ابن سعد قسم اول جزو41 تذکرہ عباس ؓ : 4)
  156. ( بخاری، کتاب المغازی، باب غزوہ فتح ومابعث بہ حاطب ؓ ابی بلقہ)
  157. (کنز العمال ج 2 : 246)
  158. (ایضاً ج 6 وقائع الرمادہ : 343)
  159. (بخاری، کتاب المناقب باب قصہ البعہ والا تفاق علیؓ، عثمانؓ)
  160. (الاعراف:199)
  161. (کنز العمال ج6 : 354)
  162. (کنزالعمال ج 6 : 352)
  163. (طبری : 2743)
  164. (کنزالعمال ج 6 : 343)
  165. (ترمذی، فضائل عمر ؓ)
  166. (ابوداؤد کتاب الوصایاباب ماجاء فی الرجل یوقف وقف)
  167. ( کنزالعمال ج3 : 174)
  168. (بخاری مناقب عمر ؓ)
  169. (مستدرک حاکم ج 3 تذکرہ بن خطاب ؓ)
  170. (دیکھوفتوح البلدان ذکر العطاء فی خلافۃ عمر بن الخطاب ؓ)
  171. (طبقات ابن سعد تذکرہ عمر بن الخطاب ؓ )
  172. جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر1713
  173. صحیح البخاری و صحیح المسلم
  174. صواعق محرقہ
  175. ^ ا ب الریاض النضرۃ الجلد الثانی الباب الثانی فی مناقب عمر الفضل السادس فی خصائصہ، ص:298
  176. الریاض النضرۃ الجلد الثانی الباب الثانی فی مناقب عمر الفضل السادس فی خصائصہ، ص:308
  177. الریاض النضرۃ الجلد الثانی الباب الثانی فی مناقب عمر الفضل السادس فی خصائصہ، ص:311
  178. فضائل الصحابۃ للدار قطنی ج:1،ص:68
  179. الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، ابن حجر عسقلانی متوفی:852ھ، ذکر من اسمہ عمر، عمر بن الخطاب بن نفیل، ج:4،ص:485،
  180. ^ ا ب پ اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ عزالدین ابن الاثیر متوفی:630،ج:4،عمر بن الخطاب، فضائلہ، 137
  181. مشکوٰۃ

کتابیات

  • الكامل في التاريخ – المجلد الثاني، ابن الأثير (1979)۔ عز الدين أبو الحسن علي بن محمد بن أبي الكرم الشيباني۔ دار صادر۔
  • الكامل في التاريخ – المجلد الثالث، ابن الأثير (1979)۔ عز الدين أبو الحسن علي بن محمد بن أبي الكرم الشيباني۔ دار صادر۔
  • الوجيز في الخلافة الراشدة (الطبعة الأولى سنة 2006)۔ محمد قباني۔ دار الفاتح - دار وحي القلم۔
  • عمر بن الخطاب: الفاروق القائد (الطبعة الثانية سنة 1966)۔ محمود شیث خطاب۔ دار مكتبة الحياة۔
  • عصر الصّدِّيق (الطبعة الأولى سنة 1983)۔ شبير أحم محمد علي الباكستاني۔ الدار السعودية۔
  • فصل الخطاب في سيرة عمر بن الخطاب (الطبعة الأولى سنة 2002)۔ علي محمد محمد الصلابي۔ مكتبة الصحابة، مكتبة التابعين۔

الطريق إلى دمشق (الطبعة الثالثة سنة 1985)۔ أحمد عادل كمال۔ دار النفائس۔

بیرونی روابط

عمر بن خطاب
مناصب سنت
ماقبل 
ابو بکر
خلیفہ راشد
634ء644ء
مابعد 
عثمان بن عفان